یہ ملاقات ایک بہانہ ہے ! ....(اُنیسویں قسط)
02 جون 2020 2020-06-02

وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات سے پہلے چند لمحات ایس ایم عمران کے ساتھ گزرے۔ وہ میرے بہت ہی قابل قدر بھائی ہیں۔ ان سے احترام کا رشتہ بہت دیرینہ ہے۔ ان کا شمار وزیر اعظم عمران خان کے بہت مخلص اور قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی کو اقتدار تک لانے میں ان کی انتھک جدوجہد سے خان صاحب بخوبی آگاہ ہیں۔ وہ ان دنوں ایل ڈی اے کے وائس چیئرمین ہیں۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں یہ عہدہ وزیر اعظم نے زبردستی انہیں اس لئے سونپا تھا وہ ایل ڈی اے کی عالمی شہرت یافتہ کچھ خرابیوں کو دور کریں ۔

خصوصاً ایل ڈی اے میں کرپشن کو کنٹرول کریں۔ جو میرے نزدیک ایک ناممکن عمل ہے۔ ایل ڈی اے میں مختلف عہدوں پر ایک سے بڑھ کر ایک لٹیرا آیا۔ مجھے نہیں معلوم ایک خاص ماحول میں انہیں اپنے نیک مقاصد میں کہاں تک کامیابی ہو گی؟ پر جس طرح وزیر اعظم کا انہیں اعتماد کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے ان کا تعلق ایسے دولت مند گھرانے سے ہے جس نے ہر مشکل وقت میں ملک کی دل کھول کر مدد کی۔ سو ان کے حوالے سے ہلکا سا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا سرکاری خزانے کو کسی بھی حوالے سے ایک پیسے کا نقصان وہ پہنچائیں گے۔ البتہ فائدے وہ ماضی میں بھی پہنچاتے رہے ہیں، اب بھی ان سے یہی توقع ہے۔ بہرحال دوچار منٹ انتظار کے بعد مجھے وزیر اعظم آفس پہنچایاگیا ۔ مجھے دیکھتے ہی وہ بڑے جذبے اور احترام سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ اپنے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر اظہار محبت فرمایا۔ ابتداءمیں ایس اے عمران نے وزیراعظم کو ایل ڈی اے کے کچھ اہم امور سے آگاہ کیا اور ان سے کچھ ہدایات لیں۔ باہر نکلتے ہوئے میرے بارے میں جو اچھے کلمات انہوں نے کہے میں ان کا مستحق تو نہیں پر شکر گزار ہوں میرے بارے میں خصوصاً میری تحریروں کے بارے میں وہ اچھی رائے رکھتے ہیں۔ وزیر اعظم نے بھی ان کے جذبات کی کھل کر تائید کی۔ بلکہ خود بھی میرے بارے میں ایسے تعریفی کلمات کہے میں اگر ان کی تفصیل بیان کروں کوئی اس پر اس لئے یقین نہیں کرے گا کہ دوسروں کی تعریف کے معاملے میں وزیر اعظم اتنے ہی کنجوس ہیں جتنے ”مہمان نوازی“ میں ہیں۔ وہ اگر اپنے کسی مہمان کو چائے پلا دیں تو اس کا مطلب ہے وہ اپنے اس مہمان کی بڑی عزت کرتے ہیں ، اور چائے کے ساتھ اگر بسکٹ بھی ہوں تو اس کا مطلب ہے وہ اپنے مہمان کی دل و جان سے عزت کرتے ہیں.... ایس ایم عمران کے کمرے سے نکلتے ہی وزیر اعظم نے ازرہ مذاق فرمایا ۔

”کورونا“ نے تمہاری آوارہ گردی بھی ختم کر دی ہے، ورنہ تم پاکستان میں کم ہی ٹکتے ہو۔ میں نے انہیں بتایا 20 مارچ کو میں آسٹریلیا (سڈنی) جا رہا تھا۔ وہاں پاکستان ایسوسی ایشن نے 23 مارچ (یوم پاکستان) کے حوالے سے بہت بڑی تقریب کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں مجھے بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تھا۔ یہ فلائٹس آپریشن کورونا کی وجہ سے معطل ہونے پر میں نہیں جا سکا.... انہوں نے فرمایا ”اچھا ہوا تم نہیں گئے ورنہ تمہیں واپس لانے کے لئے خصوصی طیارہ بھجوانا پڑتا۔ ان کا موڈ اچھا تھا۔ میں نے عرض کیا ”جہانگیر ترین کی ناراضگی کے بعد آپ کو سرکاری طیارہ بھی بھجوانا پڑتا، اور وہ آپ نے کسی صورت بھجوانا نہیں تھا“.... میری بات سن کر وہ کچھ سنجیدہ سے ہو گئے۔ پھر شوگر مافیا اور جہانگیر ترین پر بات ہونے گی ۔ انہیں حوالے سے تفصیلات بتائیں، کچھ باتیں آف دی ریکارڈ ہیں۔ کچھ دنوں تک ساری بلیاں اور کتے تھیلے سے باہر آ جائیں گے۔ ایک بات جو میں نے محسوس کی جہانگیر ترین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کے چہرے پر کرب تھا۔ ان کے الفاظ اور جذبات میں جو غم و غصہ تھا اس سے کم از کم اس وقت مجھے یہی اندازہ ہو رہا تھا شوگر مافیا کو بے نقاب کرنے اور انہیں سزا دینے یا دلوانے میں وہ کوئی پریشر قبول نہیں کریں گے۔ اس وقت انہوں نے بڑے یقین کے ساتھ فرمایا تھا یہ رپورٹ ہر صورت میں 25 اپریل کو آ جائے گی۔ 25 اپریل کو جب یہ رپورٹ نہیں آئی بہت سے شکوک و شبہات نے جنم لیا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا یہ رپورٹ اب شاید کبھی نہیں آئے گی ، دوسرے بے شمار معاملات کی طرح یہ معاملہ بھی دبا دیا جائے گا۔ پر ایسے نہیں ہوا۔ یہ رپورٹ اب منظر عام پر آ چکی ہیں۔ شوگر مافیا نے اس ملک کو کتنا نقصان پہنچایا اس کے ذمہ داروں کا تعین کیا جا چکا ہے۔ وزیر اعظم جہانگیر ترین کے کردار پر افسوس کا اظہار کر رہے تھے۔ جو میرے نزدیک کئی حوالوں سے بالکل جائز تھا۔ انہوں نے کئی معاملات میں وزیر اعظم کو اندھیرے میں رکھا۔ اصولی اور اخلافی طور پر ہونا یہ چاہئے تھا جب سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کو نااہل قرار دے دیا تھا وہ پی ٹی آئی کے معاملات میں بے جا مداخلت کرنے کے بجائے خاموشی سے گھر بیٹھ جاتے۔ عمران خان کو بھی چاہئے تھا انہیں یہی مشورہ دیتے ، پر دونوں ایک دوسرے کو اپنے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے رہے۔ جہانگیر ترین نے پنجاب اور مرکزی حکومت بنوانے میں ممکن ہے کوئی کردار ادا کیا ہو پر کیا انہوں نے کوئی فارم پر کیا تھا کہ اس کردار کے بدلے میں وہ وزیر اعظم کی عزت آبرو کو زد پہنچائیں گے ؟ اور ایسے مالی فوائد حاصل کریں گے جن کا براہ راست نقصان ملک اور غریب عوام کو ہو.... میری معلومات کے مطابق انہوں نے پوری پلاننگ کے ساتھ یہ کام کیا۔ انہوں نے اس مقصد کے لئے ہر جگہ اپنی مرضی کے افسران تعینات کروائے۔ خوراک و زراعت کے شعبوں میں وزیر مشیر بھی اپنی پسند کے بنوائے۔ وزیر اعظم بے شمار معاملات میں ناتجربہ کار ہیں۔ خصوصاً خوراک اور زراعت کے حوالے سے ان کی معلومات بڑی ناقص ہیں۔ ان کی ان خامیوں سے جہانگیر ترین اور شوگر مافیا نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ وہ فرماتے ہیں وہ خوراک و زراعت کی کسی ٹاسک فورس کے سربراہ نہیں تھے۔ چلیں مان لیتے ہیں اس ضمن میں باقاعدہ کوئی نوٹیفکیشن نہیں ہو گا، پر وہ یہ بتانا پسند کریں گے وہ کس حیثیت میں سرکاری میٹنگز میں بیٹھتے رہے۔ حتی کہ کچھ ایسی سرکاری میٹنگز کی بھی وہ صدارت کرتے رہے جس میں سرکاری فوٹو گرافر کو ہدایت کی جاتی تھی جہانگیر ترین کی تصویر نہیں بنانی.... اب کچھ لوگ وزیر اعظم کو ڈرانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔شوگر مافیا سیاسی و دیگر حوالوں سے بڑا طاقتور مافیا ہے۔ اس مافیا پر ہاتھ ڈالنے سے ان کی حکومت جا سکتی ہے.... مجھے نہیں پتہ وزیر اعظم عمران خان اس حوالے سے کیا سوچتے ہیں؟ پر انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہونی چاہئے کہ اس مافیا پر ہاتھ ڈالنے سے ان کی حکومت جا سکتی ہے۔ اس وجہ سے اگر ان کی حکومت جاتی ہے تو یہ سیاسی و دیگر کئی حوالوں سے ان کے لئے بہتر ہی ہو گا۔ بس ایک بات کا مجھے خدشہ ہے اس معاملے میں وزیر اعظم اپنی ٹیم میں یا اپنی حکومت میں موجود کچھ لوگوں کو ایسی رعایت نہ دے دیں جس سے انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوں اور ان کی رہی سہی عزت بھی جاتی رہے۔ (جاری ہے)


ای پیپر