جوابی محاذ
02 جون 2019 2019-06-02

واقعات کی رفتار اس قدر تیز ہے کہ صبح کی بریکنگ نیوز شام تک ٹکر کے قابل بھی نہیں رہتی۔ حکومت محاذ پر محاذ کھول رہی ہے۔ یہ تجزیہ کیے بغیر کہ اس کی استعداد اور استطاعت کتنی ہے۔ کیا وہ اتنے محاذوں پر لڑسکتی ہے۔ لڑنا تو کوئی مشکل کام نہیں۔لیکن کیا لڑ کر جیت سکتی ہے۔ اور اگر جیت بھی گئی تو اس کی قیمت کیا ہوگی۔ پی ٹی آئی حکومت کو برسر اقتدار آئے ایک سال ہونے کو ہے۔ عوام کو تو کچھ ملا ہے یا نہیں یہ الگ بحث ہے۔ لیکن یہ محاذ آرائی۔ اس کا سلسلہ کہاں تک دراز ہوگا۔ اس کا فیصلہ شاید جلد ہوگا۔ کیونکہ شہر کے لوگ تو اتنے ظالم نہیں۔ وہ تو وقت دینے کیلئے تیار ہیں۔ وہ تو ابھی مزید برداشت کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ سآنوں مرن دا کچھ زیادہ شوق ہے۔ ایسا نہ ہو کہ پھول اپنی لطافت کی داد پاے بغیر ہی مرجھا جائے۔ پی ٹی آئی حکومت کو اپنی ترجیحات طے کرنی چایئے۔ کیونکہ اس لڑای کے فریق بہت ہیں۔ اچھا حکمران یا لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنے مخالفین کی تعداد کو کم کرے اور دوستوں کی تعداد میں اضافہ کرے۔ اگر ایسا نہ کر سکے تو پھر اپنے مخالفین کو متحد نہ ہونے دے۔ لیکن شاید سیاسی حسن تدبر کی کمی ہے یا پھر فیصلے سیاسی بنیاد پر کرنے کی بجاے کہیں اور سے ہورہے ہیں۔ ابھی ایک سال مکمل نہیں ہوا اور سیاسی جماعتیں بالخصوص ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہورہی ہے۔حکومتی جماعت کے غیر لچکدار روے کی وجہ سے وہ اپوزیشن جو بکھری ہوئی تھی وہ اصولی طور پر تو متفق ہوگئی ہے۔ بس اب جزیات طے کرنا باقی ہیں۔ پس پردہ اجلاسوں میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ ہوچکا۔ اب طریقہ کار طے ہورہا ہے۔ خبر ہے کہ کہ بجٹ اجلاس کے پیش ہونے کے دو روز بعد آل پارٹیز کانفرنس کی تاریخ کی تجویز زیر بحث ہے۔ عین اس روز جب عوام پر بجٹ بم گرایا جاچکا ہوگا۔ ادھر اپوزیشن کی تمام جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر بیٹھ چکی ہوں گی۔ اطلاعات ہیں کہ یہ اے پی سی دو روز تک چلے گی۔ اور ایک مکمل جامع روڈ میپ تیارکر کے ہی اٹھے گی۔ جس کا بنیادی نکتہ اگلے چند ماہ میں حکومت کو گھٹنوں کے بل جھکانا ہے۔ کیونکہ عوام کو سڑکوں پر لانے کے لئے اس سے زیادہ مناسب موزوں موقع اور کوئی نہیں ہوگا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مزید سات سو ارب کے نئے ٹیکس لگانے کا وعدہ بھی تو پورا کرنا ہے۔ ابھی کل ہی آئی ایم ایف سے امپورٹڈ شدہ مشیر خزانہ نے حکومت پر واضح کیا ہے کہ اگلے تین سال کے دوران مہنگائی میں اضافے کا ہدف گیار فی صد رہے گا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوچکا ہے۔ پٹرول کی قیمت اب اتنی ہوچکی ہے کہ پاکستان کی ٹیم اتنے سکور بھی نہیں بنا پاتی۔ روپے کی قیمت ڈیڑھ سو روپے فی ڈالر سے بڑھ چکی ہے۔ اور شنید ہے کہ اگلے چند ماہ کے دوران یہ قیمت ایک سو پینسٹھ روپے ہوجائے گی۔ اور سال کے اختتام تک دوسو روپے تک۔ مہنگائی کا طوفان ہے جو گلی کوچوں میں آدم خور جن کی مانند سر گرداں ہے۔ بجلی گیس کی قیمتوں میں اتنا اضافہ ہوچکا ہے کہ اب بجلی چلتی دیکھ کر خون کھولنا شروع ہو جاتا ہے۔ بجٹ میں عام آدمی کو بالخصوص تنخواہ دار طبقہ کو تو کسی قسم کی ریلیف ملنے کی توقع نہیں۔ مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق ٹیکس وصولی کیلئے ایسی نئی سلیبیں متعارف کرائی جارہی ہیں۔ جن کے نتیجہ میں ٹیکسوں کا مزید بوجھ تنخواہ دار طبقہ پر ڈال دیا جاے گا۔ ایسے میں عوام دکھ درد کے مداوے کیلئے اپوزیشن کی جانب دیکھنے پر مجبور ہوں گے۔ پی ٹی آئی حکومت ویسے تو خود ہی یہ بات علی الاعلان کہہ چکی ہے کہ بوقت ضرورت یو ٹرن لینا لیڈر شپ کی عظمت کا ثبوت ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی عوام کی اشک شوئی بھی ایک فن ہے۔ لیکن پی ٹی آئی اس فن سے بھی نا آشنا لگتی ہے۔ شاید وجہ اس کی یہ ہے کہ موجودہ حکومت اپنے آپ کو عو ام کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتی۔

موجودہ حکومت کے ذمہ دار سمجھتے ہیں کہ وہ جن طاقتور حلقوں کی تائید و حمایت سے الیکشن جیتی ہے۔ جن کی سرپرستی میں اس کو حکومت حاصل ہوئی ہے وہ صرف ان کو جوابدہ ہے۔ اور جب تک یہ قوتیں اس کے ساتھ ہیں کوئی اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے۔ ان قوتوں کا رومانس ابھی تک عمران خان کے ساتھ ختم نہیں ہوا۔ لیکن ماضی گواہ ہے کہ اپنے وقت کی طاقتور ترین حکومتیں رائے عامہ کے سامنے گھٹنے ٹیک جایا کرتی ہیں۔ حکومت سمجھتی ہے کہ صرف نوازشریف اور زرداری کو ہر برائی کا ذمہ دار قرار دینے سے عوام مطمئن ہوجائیں گے اور اس پر نااہلی کا الزام نہیں آے گا۔ ایسی سوچ غلط ہے۔ حکومت کے پاس بیچنے کیلئے احتساب کے چورن کے سوا اور کچھ بھی نہیں تھا۔ اب وہ ساکھ بھی باقی نہیں رہی۔ اس کی اپنی پارٹی کے اہم ترین راہنما احتساب کے راڈار پر ہیں۔ چیئرمین نیب کا مبینہ انٹرویو اور پھر اس کے بعد وڈیو لیک سکنڈل نے احتساب کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ ایک سوچ یہ ہے کہ حکومت نے اپنے اہم راہنماؤں کو احتساب کے شکنجے سے بچانے کیلئے نیب چیئر مین پر دباو ڈالنے کیلئے یہ پلاننگ کی۔ نیب چیئر مین استعفیٰ دیں نہ دیں۔ ان کا عہدہ اور نیب کا ادارہ اپنی ساکھ اور وقعت کھوبیٹھا ہے۔ اب کسی تفتیش پر اعتبار ہے نہ ریفرنسوں پر۔ اوپر سے ایک نہایت نیک نام جج کے خلاف ریفرنس نے ایک نئی افراتفری اور مباحثہ کو جنم دیا ہے۔ ابھی ایک عشرہ پہلے ایسی ہی ایک تحریک نے پرویز مشرف کی رخصتی میں کلیدی کردار کیا تھا۔ اب ایک مرتبہ بار کونسلیں اور سول سوسائٹی میدان میں نکل آئیں تو وہی منظر ہوگا جو دو ہزار آٹھ میں تھا۔ تب بھی ایمرجنسی کا م نہ آئی تھی۔

مہنگائی ،ٹیکسوں کا بوجھ ، حکومت کی عوام سے لاتعلقی ' اپوزیشن کا اکٹھ اور عدلیہ کے خلاف کارروائی کا تاثر ایک ہی وقت میں ایشوز کی بھر مار ہورہی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ عید کے بعد جوابی محاذ بھی کھل جائیں گے۔ چند ووٹوں کی اکثریت سے قائم حکومت کہاں کہاں لڑے گی اور کس کی مدد سے لڑے گی۔ یہ ناقابل فہم سی بات ہے۔ پاکستان ایک مرتبہ پھر سیاسی محاذآرائی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ایسی صورتحال خسارے کا سودا ہوا کرتا ہے۔ لیکن کیا کریں کہ سانوں مرن دا شوق ایہہ۔ اس شوق کا کوئی علاج نہیں۔


ای پیپر