تبدیلی کیوں اور کیسے؟
02 جون 2019 2019-06-02

2018ء کے انتخابات میں عوام نے جس تبدیلی کے لیے ووٹ دیے تھے وہ تو ایک سال ہی میں ڈرائونا خواب بن گئی۔ ’’لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے‘‘ اب شدت سے تبدیلی کی ضرورت محسوس کی جانے لگی ہے، بقول شخصے۔

مزاج اپنا اچانک بدل رہے ہیں چراغ

جو مصلحتوں کی حدوں سے نکل رہے ہیں چراغ

اختلافات پیدا ہونے کی افواہیں گردش کرنے لگی ہیں۔ راستے جدا نہیں ہوئے لیکن نئے راستوں کی تلاش شروع ہوگئی ہے۔ سیاست میں سب کچھ کلیئر نہیں کشیدگی کے ساتھ پیچیدگیاں بڑھ رہی ہیں اور لوگ سنجیدگی سے سوچنے لگے ہیں کہ تبدیلی ناگریز ہے۔ ابتدائی سوچ ہے سوچا تھا کہ شاید تین چار سال بعد اتھل پتھل کی ضرورت پڑے لیکن لگتا ہے کہ شاید اس سے پہلے ہی بلکہ بہت پہلے روشنی کی سمت تبدیلی کردی جائے، تبدیلی کی ضرورت کیوں ؟ آنے والوں یا لائے جانے والوں کے بارے میں اندازے غلط ہوگئے؟ فنڈریزنگ والے لوگ آتے ہی فنڈ ریزنگ میں لگ گئے۔ حکمرانی کے انداز بھول گئے، مخالفین کا جینا مشکل، عوام کی زندگی اجیرن، ایک نے تنگ آکر کہہ دیا کہ تبدیلی کی بنیاد پر ووٹ لینے والوں نے عوام کا جینا حرام کردیا۔ کھانا پینا اوڑھنا بچھونا سب مشکل، مہنگای 10 فیصد بڑھ گئی۔ اشیائے صرف کی قیمتوں کو آگ لگی ہوئی ہے اس پر یہ دھمکی کہ ہر سال 10 سے 12 ارب عوام کی جیبوں سے وصول کیے جائیں گے، لوگ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے کہ ملک آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا گیا، مہنگائی پر اوپر تک خاموشی، قرضہ چاہیے چاہے جس سے ملے، کسی نے جھوٹے منہ عوام سے نہ پوچھا کہ دو وقت کی روٹی میسر ہے یا نہیں، سڑکوں، چوراہوں، ٹریفک سگنلوں پر معزز گھرانوں کی خواتین بچے، جوان بوڑھے بھیک مانگنے پر مجبور، اوپر والوں کو کیسے پتا چلے وہ اونچی فضائوں میں اڑتے ہیں جہاں سے زمین پر رینگنے والے 22 کروڑ کیڑے مکوڑے نظر نہیں آتے، شہروں کا رخ کریں تو سڑکوں سے انسان غائب کردیے جاتے ہیں کوئی احتجاج کرے تو آمدن سے زیادہ اثاثوں پر نوٹس، طلبی، ریفرنس، وارنٹ ،کہا تھا اپنے کام سے کام رکھو، کار سرکار میں مداخلت نہ کرو، نہیں مانے بڑا شوق ہے لیڈری کا اب بھگتو، پریشانیاں بڑھ رہی ہیں، کسی بھلے مانس نے کہا تھا’’ پریشانی اگر بڑھ جائے حد سے خطرہ بنتی ہے‘‘۔ نہ مانیں مگر حقیقت ہے کہ جانے انجانے خطرات منڈلا رہے ہیں، معاشی غلطیوں اور نا تجربہ کاری سے ملک کو غیر معمولی معاشی بحران کا سامنا ہے۔ روز روز منعقد ہونے والے اجلاسوں میں بہت کچھ منظور ہو رہا ہے۔ سالانہ اقتصادی پلان کی منظوری دے دی گئی، 1837 ارب کا ترقیاتی پروگرام منظور، ایک سڑک بنانے کے لیے 250 ارب نہیں ہیں، افراط زر ڈبل ڈیجیٹ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ غیر ملکی قرضے زرمبادلہ میں شامل، اربوں کھربوں کے نوٹ مارکیٹ میں زیر گردش، افواہ پھیل گئی پانچ ہزار کا نوٹ بند کیا جا رہا ہے اسٹیٹ بینک کو تردید کرنا پڑی، ڈالر کو پر نہیں لگے آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق پرواز کی اجازت دی گئی، ترجمان بولے ن لیگ کی حکومت سے 18 روپے زیادہ ہوا ہے،ن لیگ کی حکومت میں تو 98 روپے پر اٹکا ہوا تھا۔ سیاسی بحران سے 115 اور 122 روپے تک آیا۔ اب 152 پر پہنچا، برآمدات میں بدستور کمی، در آمدات میں حسب سابق اضافہ، عوام کی رگوں سے ٹیکسوں کے نام پر خون نچوڑو، نئے آنے والوں نے بریفنگ دی کہ ایک فیصد عوام ٹیکس دیتے ہیں، موجودہ ٹیکس نظام ملکی معیشت کے لیے خطرہ ہے ایک فیصد لوگ پوری ریاست کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں،31 لاکھ تاجروں میں سے 90 فیصد ٹیکس سسٹم سے باہر ہیں، پتا نہیں کیسے؟ بازار سے میڈان پاکستان اشیاء خریدیں، 5 ہزار کے بل میں 7 سو جی ایس ٹی (کیا یہ ٹیکس نہیں) تاجر اور صنعت کار اپنی مصنوعات پر جی ایس ٹی لگا کر عوام سے وصول کرتے اور حکومت کو دیتے ہیں بجلی گیس، پانی، پیٹرول سب پر ٹیکس، یہ ٹیکس ارکان پارلیمنٹ کو معاف ہوں گے بے چارے عوام چالیس پچاس سالوں سے بھگت رہے ہیں، آنے والے کہتے تھے پیٹرول 46 روپے ہونا چاہیے۔ ن لیگ حکومت میں 62 روپے لیٹر تھا اب 112 روپے لیٹر ہے۔ 46 روپے والا پیٹرول کہاں گیا۔ خوشخبری ملی تھی کہ’’ پیدا کہیں بہار کے سامان ہوئے تو ہیں‘‘۔ نواز شریف دور میں کراچی سے 280 کلو میٹر دور سمندر کی ساحلی پٹی پر بڑے اعتماد کے ساتھ ڈرلنگ شروع ہوئی، 5 ہزار 470 میٹر گہرائی تک ڈرلنگ کرلی گئی، وزیر اعظم نے خوشحالی کی برسات کی نوید سنا دی۔ اِدھراُدھر کے لوگ الرٹ ہوگئے، سارا تیل نکال لیا تو کیا کریں گے، اوپر تلے دو دورے کیے تیل واپس چلا گیا۔ 26 ارب مٹی اور ریت میں مل گئے۔ شور مچانے کی کیا ضرورت تھی ،کنواں بند کرنا پڑا۔ ایوب خان سے اب تک تیسری کوشش ناکام ہوئی۔ سیاست بڑا اہم موضوع ہوا کرتا تھا بزرگ کہتے تھے سیاست عوام کی خدمت، خدمت کا دوسرا نام عبادت، سیاستدان اللہ اور عوام کے سامنے جوابدہ، اب حکومت کرنا آسان کوئی جوابدہی نہیں۔ پنجاب میں 38 اور وفاق میں کم و بیش آدھے ترجمان، ہر سوال کا جواب چوروں ڈاکوئوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ ایک ہی رٹ، ہزماسٹرز وائس ریکارڈ بج رہے ہیں۔ عوام دیکھ رہے ہیں اور تبدیلی کی ضرورت شدت سے محسوس کرنے لگے ہیں۔ تاہم پوچھ رہے ہیں کہ تبدیلی کیسے آئے گی۔ کچھ ایسی راہ نکالو کہ سب رہیں محفوظ۔ انتخابات کے بعد والی تبدیلی انتہائی مشکل بلکہ نا ممکن، لیکن آنے والی تبدیلی انتہائی آسان، ان ہائوس تبدیلی ۔ منظور وسان آج کل دن رات اوٹ پٹانگ خواب دیکھتے رہتے ہیں، پچھلے دنوں کہنے لگے 2020ء میں عمران خان کو وزیر اعظم نہیں دیکھ رہا، نہ دیکھیں، دیکھنے کو کون کہتا ہے، نہیں دیکھنا تو اپنے چیئرمین سے کہیں کہ ارد گرد دیکھ کر آگے بڑھیں، ابو بچائو تحریک کا اثر زائل کر کے ملک بچائو تحریک کے لیے مشاورت کریں، سوچے سمجھے بغیر حکومت مخالف تحریک میں کارکنوں کو جھونکنا دانشمندی نہیں، اس کے بجائے سب سے پہلے پارلیمنٹ میں موجود سیاسی پارٹیوں سے رابطے کیے جائیں۔ ن لیگ خم ٹھونک کر سامنے آئی ہے تو تضادات دور کیے جائیں، اختر مینگل ساتھ آ کھڑے ہوئے ہیں تو واپس نہ جانے دیا جائے۔ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم سے یاد اللہ تو ہوگی، بات کرنے میں کیا حرج ہے، موسمی پرندے موسم دیکھ کر کوچ کریں گے، گرمی شروع ہوئی ہے سردی حالات کا تقاضہ، پتے جھڑنے لگے تو بہار آنے کا پیغام دیں گے، بقول غالب’’ موسم بہار کا ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج، اڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیورکی‘‘ پرندے پرندوں کی بولیاں سمجھتے ہیں، پھول کھلنے کی نوید سنائی دی تو موسمی پرندے خود بخود ہجرت کرنے لگیں گے۔ ایک ڈال سے دوسری ڈال پر بیٹھنا کون سا مشکل ہے۔ ایسا ہوا تو ان ہائوس تبدیلی آسان ہوجائے گی۔ پت جھڑ شروع ہونے والا ہے۔ ججز کے خلاف ریفرنس، نئی کڑی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل مستعفی ہوگئے، پہلا پتا جھڑ گیا۔ سپریم کورٹ بار کے صدر نے 14 جون تک کی ڈیڈ لائن دے دی۔ اس کے بعد دمادم مست قلندر، کیا عدلیہ کی آزادی کی تحریکِ پھرچلے گی؟ مسلم لیگ ن میدان میں کود پڑی۔ ماشاء اللہ اعتزاز احسن کی رس گھولتی نظمیں اور علی احمد کرد کی خون گرما دینے والی تقریریں سننے کو ملیں گی کیا صدر پرویز مشرف کے ساتویں آٹھویں سال کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے، کیا اعجاز شاہ اسی لیے لائے گئے ہیں؟ ساتویں آٹھویں سال کے بعد کیا ہوا تھا؟جمہوریت بحال ہوئی تھی اب کیا ہوگا؟ پتا نہیں لیکن وہی ہوگا جو منظور خدا ہوگا۔ شنید ہے کہ صدر نے ریفرنس بھیج تو دیا لیکن اس کی زبان نرم کی اخبار والے کہتے ہیں کہ صدر اور پارٹی کے رہنما ریفرنس سے خوش نہیں۔ 19 ترجمان ہی بتا سکتے ہیں ادھر پشتونوں کا معاملہ بھی اٹک گیا ہے۔ پتا نہیں کیا ہونے والا ہے۔


ای پیپر