چارٹر آف کراچی ۔ ترقی کا فارمولا!
02 جون 2019 2019-06-02

کراچی کی ترقی اور اس کے شہریوں کو بنیادی سہولیات میسر کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کا آئین وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ اس ذمہ داری کو پورا کریں لیکن بدنصیبی اس شہر کی کہ بحث کا دائرہ اس حوالہ سے سیاسی اختلافات اور اعتراضات پر مرکوز رہتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی نااہلی اور مجرمانہ غفلت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ جمہوریت میں عوامی سیاست کا پہلا دور انتخابی سیاست کا ہوتا ہے جس کا مقصد اقتدارمیں آ کر اپنے سیاسی منشور کی تکمیل کرنا تاکہ عوام سے کئے گئے وعدوں کا وفا ہو سکے جبکہ دوسرا اہم دور اقتدار میں آنے کے بعد اس بات سے قطع نظر کے آپ کس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، حکومت کرنے کی اہم ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بلاتفریق سیاسی وابستگی، ریاست کے وسائل کا منصفانہ استعمال کر کے عوام کی خدمت کریں۔ ہماری حکومتوں کا مسئلہ یہی ہے کہ اقتدار میں آتے ہی سیاسی مخالفین اور ان کے زیر اثر علاقے سیاسی انتقام کا شکاربنتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں عوامی سیاست کا کام پارٹی کی تنظیمی باڈی کی ذمہ داری اور منتخب کابینہ کے تمام وزرا کا احتساب تاکہ عوام سے کئے گئے وعدے پورے کئے جا سکیں۔ ہمارے ملک کا سیاسی نظام ہی نرالہ ہے، جن کا کام حکومت چلانا اورانتظامی ذمہ داریاں نبھانا ہوتا ہے وہی افراد پارٹی کے اعلیٰ عہدوں اور قیادت پر فائز ہیں جس کے باعث پارٹی کا اندرونی نظام اپنی قیادت کا احتساب کرنے کے قابل نہیں رہتا، اپنے سیاسی منشورکی تکمیل سے دھیان ہٹ جانا اور عوامی خدمت کرنے کے بجائے سیاسی بیان بازیوں میں وقت اور انرجی برباد کرنا۔

کراچی کا شہر اس کی بہترین مثال ہے، آج اس شہر میں پاکستان تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے امیدواروں نے انتخابات ’’جیت‘‘ لئے ہیں اور تینوں ہی جماعتیں وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کا اقتدار بھی سنبھالے ہوئے ہیں اس کے باوجود اس شہر کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اگر ان جماعتوں نے ترقی یافتہ جمہوریتوں سے کوئی سبق سیکھ لیا ہوتا تو کراچی میں ہرجانب ترقیاتی کام ہوتے دکھائی دے رہے ہوتے، سڑکیں بن رہی ہوتی، باغات کو سرسبزوشاداب بنایا جا رہا ہوتا، فلائی اوور اور انڈر پاسز تعمیر کئے جا رہے ہوتے، ٹریفک کا نظم و ضبط قائم کیا جا رہا ہوتا، تعلیم اور صحت کے میدان میں بہتری دکھائی دیتی، امن و امان کے مسائل تیزی سے حل ہو رہے ہوتے، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی کے ابتر نظام میں بہتری نظر آتی، شہر کے تمام ادارے ایکدوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے عام شہری کی زندگی کو پرسکون اور آرام دہ بنانے میں دن رات کام کرتے نظر آتے، یہاں کاروباری ماحول بہتر اور پبلک

ٹرانسپورٹ کا نظام دکھائی دیتا، بس ٹرانزٹ اور سرکلر ریلوے کا جال بچھایا جا رہا ہوتا، وغیرہ وغیرہ لیکن کراچی کا شہری حیران پریشان شہر کو برباد ہوتا دیکھ رہا ہے۔ سادہ اور آسان حل اقتدار میں بیٹھے سیاسی افراد اپنی جماعتی سیاست پارٹی عہدیداروں پر چھوڑیں اور ریاست کے نمائندے بن کر صرف اور صرف اپنی آئینی و انتظامی ذمہ داریاں پوری کریں۔ عوامی سیاست، ٹھیکیداری اور عوامی خدمت کے معاملات کو الگ الگ کریں تاکہ کم از کم کسی بھی اختلافی معاملہ میں ترقیاتی کام اور بنیادی سہولیات کے ایشوز متاثر نہ ہوں۔ اس طرح حکومتی اہلکاروں اور بیوروکریسی میں بھی اعتماد پیدا ہو گا، دفاتر میں غیرسیاسی ماحول ہو گا، افسران بھی اسی نظریے کی پابندی کریں گے اور منتخب افرادکے پاس قانون سازی اور اسمبلیوں کے ذریعہ حکومت کا احتساب کرنے کیلئے زیادہ وقت میسر ہو گا۔ کیا ہی عمدہ بات ہو اگر کراچی سے منتخب ہونے والے تمام ہی جماعتوں کے نمائندے مل کر اس شہر کی تعمیر و ترقی کیلئے وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کا پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر بنیادی حقوق کی خاطر مدد، تعاون اور احتساب کریں۔ کم از کم یہ شہر جو سندھ کا صوبائی دارالحکومت اور ملک کا معاشی حب ہے اتنا مطالبہ کرنے کا حق تو رکھتا ہے۔

کراچی شہر کے دو میئر بنانا اور اسے مزید اضلاع میں تقسیم کرنا اس شہر کی بنیادی شناخت اور تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہو گا، ممکن ہے ایسا کرنے سے کسی سیاسی جماعت کو اقتدارمیں حصہ مل جائے لیکن کیا یہ درست اقدام ہے؟ ہرگز نہیں۔ گو کہ گزشتہ روز سندھ حکومت کے ترجمان نے اس کی تردید کر دی ہے لیکن اگر دھواں اٹھ رہا ہے تو پھر آگ تو کہیں لگی ہے۔ بہت سارے مسائل ہیں اس بندہ پرور شہر کے اور ان کو حل کرنا کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کے بس کی بات نہیں۔ کراچی کی ترقی کسی جادوئی چھڑی سے نہیں بلکہ ریاست کے تینوں ٹیئرز یعنی وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے آئینی اصول و ضوابط، Article 140A پر بھرپور پابندی کرتے ہوئے آپس میں بھرپور انتظامی، سیاسی اور مالی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔

نظام درست کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی قسم کا متوازی نظام کھڑا کرنا نقصان دہ اور تفریق کا باعث بنے گا۔ کراچی انفراسٹرکچر ڈویلوپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے ذریعہ وفاق کا کراچی کے ترقیاتی کاموں میں اپنا براہ راست کنٹرول آئینی طور پر کمزور اور دیرپا نہیں ہو سکتا۔ کامیاب حکمرانی کیلئے ضروری ہے کہ گورننس کو بہتر بنایا جائے نا کہ کمپنیاں بنا کر کام چلایا جائے۔ بہرحال منتخب حکومتیں عوام اور آئین کو جوابدہ ہوتی ہیں لہذا کراچی کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے وفاق، صوبائی اور پھر مقامی حکومت کا آپس میں تعاون ہی بہتر اور عین مناسب حل ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ تمام تر سیاسی جماعتیں اور حکومتیں مل بیٹھ کر Charter of Karachi پر اتفاق کرتے ہوئے Karachi2025 Plan پر اتفاق کریں۔ یہاں سیاسی تعاون کا مطلب عوام کو بھی اپنے ساتھ ایسے منصوبوں میں شامل کرنا ہے جن کا تعلق سماجی فلاح و بہبود، کلچر اور ثقافت کے ساتھ ہے۔ کراچی میگاسٹی ہے اور اس کی دنیا بھر میں اپنی ایک شناخت ہے اسے پارٹی پرچموں اورسیاسی جماعتوں کی حکمرانی، علاقائی برتری، لسانیت اور تعصب کی عینک سے دیکھنا اور منصوبے بنانے کا عمل اب بند ہونا چاہیئے۔ تعاون کا یہ فارمولا کراچی مں کامیاب ہو گیا تو اس کا فائدہ سندھ سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کو پہنچے گا۔


ای پیپر