یورپین پارلیمنٹ کے انتخابات
02 جون 2019 2019-06-02

یورپین پارلیمنٹ کی751 نشستوں کے لیے 25 ممبر ممالک کے 400 ملین (40 کروڑ) ووٹرز نے 24 سے 27 مئی تک ووٹ ڈالے۔ یورپی پارلیمنٹ کے یہ نویں انتخابات تھے۔ ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 51 فیصد رہی جو کہ گزشتہ دو دہائیوں میں ووٹ ڈالنے کی سب سے بلند شرح ہے۔ ووٹ ڈالنے کی اس بلند شرح کی بنیادی وجہ یورپین یونین کے حوالے سے عوام میں پائی جانے والی منقسم رائے ہے۔ جہاں یورپی یونین کے حامی بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں تو وہیں پر اس کے مخالفین کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان انتخابات میں ووٹروں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ 2014ء کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 43 فیصد تھی۔ عمومی خیال یہ تھاکہ تیزی سے ابھرتی ہوئی دائیں بازو کے سخت گیر قوم پرستانہ اور یورپی یونین مخالف خیالات اور نظریات رکھنے والی جماعتیں ان انتخابات میں نمایاں کامیابی سمیٹیں گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ ان جماعتوں کی نشستوں میں اضافہ ضرور ہوا ہے ۔ ان جماعتوں کے پاس 2014ء کی پارلیمنٹ میں 20 فیصد نشستیں تھیں جو کہ اب بڑھ کر 25 فیصد ہو گئی ہیں مگر یہ اضافہ اتنا بڑا نہیں ہے کہ یورپ کی سیاست میں بڑے پیمانے کی کایا پلٹ کر دے۔ البتہ اٹلی، فرانس اور برطانیہ میں دائیں بازو کے سخت گیر قوم پرستانہ خیالات اور نظریات رکھنے والی جماعتوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی۔ یہ جماعتیں یورپی یونین، تارکین وطن (مہاجرین) اور مسلم مخالف سمجھی جاتی ہیں اور اپنی مہم میں کھل کر مہاجرین کی مخالفت کرتی ہیں۔ ان انتخابات میں یورپی ووٹرز نے مختلف جماعتوں کے ذریعے یورپی یونین کے حوالے سے اپنے غصے، مایوسی اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اٹلی، فرانس، برطانیہ، ہنگری اور پولینڈ میں قوم پرست انتہائی دائیں بازو کی مہاجرین اور یورپی یونین مخالف جماعتوں کے ذریعے اپنے غصے کا اظہار کیا جس وجہ سے ان جماعتوں کی حمایت میں اضافہ ہوا۔

جبکہ جرمنی، آئر لینڈ، فن لینڈ، نیدر لینڈ، بلجیم اور کئی دیگر ممالک میں ووٹروں نے اپنے غصے اور ناراضگی کا اظہار گرین پارٹی اور دیگر چھوٹی جماعتوں کے ذریعے کیا۔ گرین پارٹی کو جرمنی اور فرانس میں بھی نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔ دائیں بازو کی روایتی حکمران اور بائیں بازو کی سوشل ڈیموکریٹک جماعتوں کی حمایت میں کمی واقع ہوئی۔ ماضی کی ان بڑی جماعتوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔ 1979ء میں یورپی یونین کے پہلے انتخابات سے لے کر 2018ء تک یورپین پارلیمنٹ میں سنٹر آف رائیٹ اور سنٹر آف لیفٹ جماعتوں کو فیصلہ کن اکثریت حاصل تھی۔ یہ دونوں بلاک یورپی پارلیمنٹ میں واضح اکثریت رکھتے تھے اس لیے انہیں قانون سازی اور دیگر فیصلوں کے لیے کسی تیسری جماعت یا بلاک کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ مگر اب صورت حال تبدیل ہو گئی ہے۔ قانون سازی کے لیے دونوں بڑے بلاکس کو گرینز اور لبرلز کی حمایت کی ضرورت پڑے گی۔ خاص طور پر ان انتخابات کے بعد گرینز اور لبرلز کو بادشاہ گر کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔ سنٹررائیٹ اور سوشل ڈیمو کریسی نے مشترکہ طور پر 70 سیٹیں ہاری ہیں جبکہ گرینز نے اپنی نشستوں میں 20 کا اضافہ کیا ہے۔

سب سے حیران کن نتائج جرمنی کے رہے جہاں حکمران جماعت کر سچین ڈیمو کریٹ اپنی اکثریت برقرار رکھنے میں کامیاب رہی مگر جرمن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ سوشل ڈیموکریٹک پارتی کو محض 15.8 فیصد ووٹ حاصل ہوئے جو کہ 1887ء کے بعد سے ملنے والے سب سے کم ووٹ ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے نوجوان ووٹروں نے گرین پارٹی کو ووٹ دیا۔ جو کہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ دوسری طرف برطانیہ میں وہاں کی سب سے قدیم جماعت کنزرویٹو پارٹی کو اپنی دو سو سالہ تاریخ کے سب سے کم ووٹ ملے ہیں۔ برطانیہ کی حکمران جماعت محض 9.1 فیصد ووٹ حاصل کر پائی اور پانچویں نمبر پر رہی۔ یہ نتائج کئی ممالک کی قومی حکومتوں اور حکمران جماعتوں کے لیے برے اثرات مرتب کریں گے۔ یورپ میں سیاسی اتار چڑھاؤ اور ابال عروج پر ہے۔ سیاسی ہلچل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ نتائج دراصل 2008ء کے عالمی معاشی بحران کے نتیجے میں برپا ہونے والے انتشار اور عدم استحکام کے عکاس ہیں جو کہ یورپ میں پایا جاتا ہے۔

یورپی یونین کے خلاف عوام کی مختلف پرتوں میں ناپسندیدگی بڑھ رہی ہے۔ یورپی یونین کو دو مختلف قوتوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا ہے۔ ایک طرف تو مقبول عام قوم پرست، یورپی یونین ، مہاجرین مخالف جماعتیں اور گروپ ہیں جو کہ یورپی یونین کے اس لیے خلاف ہیں کیونکہ ان کے نزدیک یورپی یونین قومی حکومتوں کو ڈکٹیٹ کرتی ہے۔ وہ قومی حکومتوں کو زیادہ اختیارات دینا چاہتے ہیں اور زیادہ قومی خود مختاری اور سیاسی آزادی کے حق میں ہیں۔ وہ مہاجرین کی آمد کو بھی روکنا چاہتے ہیں۔ بریگزٹ کا ان خیالات اور سوچ کی ایک مثال ہے۔

دوسری طرف محنت کش عوام یورپی یونین کی ایک سرمایہ دارانہ ادارے کے طور پر مخالفت کر رہے ہیں جو کہ ان کے اوپر کٹوتیوں ، بچتوں اور دیگر اقدامات کے ذریعے نیو لبرل ازم کی معاشی پالیسیوں کو مسلط کر رہا ہے۔ ان پالیسیوں کے تحت فلاحی ریاست اور سماجی بہبود کے منصوبوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ محنت کش عوام اپنے گرتے ہوئے معیار زندگی اور کم اجرتوں کا ذمہ دار پوری یونین اور نیو لبرل معاشی پالیسیوں کو سمجھتے ہیں۔ وہ ان پالیسیوں سے نجات چاہتے ہیں۔ وہ رہائش، تعلیم، صحت، ملازمتوں، اجرتوں، حالات کار اور سوشل سکیورٹی کے تحفظ پر ہونے والی کٹوتیوں اور حملوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اس وقت کئی ممالک میں دائیں بازو کے انتہا پسندانہ قوم پرستانہ نظریات رکھنے والی قوتیں اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

سوشل ڈیمو کریسی ان مسائل کو حل کرنے اور ان پر واضح مؤقف اپنانے میں ناکام رہی ہے۔ سوشل ڈیمو کریسی کی اکثریت نے دائیں بازو کے نظریات کو اپنا لیا اور نیو لبرل ازم اور آزاد منڈی کی پالیسیوں کو لاگو کیا جس کے نتیجے میں ان کی مقبولیت اور حمایت میں کمی آئی ہے۔ سوشل ڈیمو کریسی محنت کش عوام کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہے جس کے نتائج اب سامنے ہیں۔

ان انتخابات میں محض سپین کی سوشلسٹ پارٹی ہی اپنی حمایت میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہوئی جبکہ کئی ممالک میں دائیں بازو کی حکمران جماعتیں بھی اپنی حمایت برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ یہ نتائج نہ تو کسی سیاسی بلاک کی مکمل شکست اور تباہی ہے اور نہ ہی کسی کی مکمل فتح اور تسلط ہے۔ یہ دراصل 28 ممالک میں ہونے والے انتخابات تھے جو کہ ان مختلف ممالک کی سیاسی، سماجی اور معاشی صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں۔ کہیں پر قوم پرست اورانتہائی دائیں بازو کی قوتوں کو کامیابی ملی ہے تو کہیں پر دائیں بازو کی روایتی حکمران جماعتیں کامیاب ٹھہری ہیں۔ اگر مجموعی نتائج کو دیکھا جائے تو ان میں تین طرح کی قوتوں کو کامیابی ملی ہے۔ قوم پرست ، یورپی یونین اور مہاجرین مخالف اور نسل پرست قوتیں۔ بائیں بازو کا رجحان رکھنے والی گرین پارٹیاں لبرل رجحان رکھنے والی جماعتیں۔ مختلف ممالک میں گرینز کے ابھارنے ان ممالک میں دائیں بازو کی مہاجرین مخالف نسل پرستانہ قوتوں کو آگے بڑھنے سے روکا ہے۔ جن ممالک میں متبادل کے طور پر بائیں بازو کے رجحان رکھنے والی قوتین موجود تھیں، وہاں پر ووٹروں نے انہیں ووٹ دیا ہے اور دائیں بازو کی جماعتوں کو مسترد کیا ہے۔

نوجوانوں کی قابل ذکر تعداد نے پرانی روایتی جماعتوں کو ووٹ نہیں دیا بلکہ گرینز اور دیگر جماعتوں کو متبادل کے طور پرآزمایا ہے ۔ نوجوان تبدیلی چاہتے ہیں۔ وہ موجودہ صورت حال سے خوش نہیں ہیں۔


ای پیپر