پا ک فو ج سے سیکھئے
02 جون 2019 2019-06-02

ا صغر خا ن کیس ہو، یا بے نظیر قتل کیس ہو، یا پھر ما ڈل ٹا ئو ن کیس، یعنی کو ئی بھی مقد مہ ہو، اگر وہ ہما ری سول عدا لتو ں کا منہ دیکھ لے تو پھر اس کی قسمت میں لٹکتے چلے جا نا لکھ دیا جا تا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آ ج ان عدا لتو ں میں اٹھا ر ہ لا کھ سے زا ئد مقد ما ت اپنے فیصلو ں کی را ہ دیکھ رہے ہیں۔ مگر اب ذرا پا ک فو ج کی قا بلِ ر شک عد ا لتو ں کی کا ر کر دگی ملا حظہ ہو کہ فوج کے افسران چاہے کسی بھی رینک کے ہوں وہ بھی احتساب کے دائرے میں یکساں شامل ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں قومی سلامتی کے ضامن ادارے کی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا ایک بڑا ثبوت سامنے آیا ہے جس کے تحت جاسوسی کے مرتکب اعلیٰ افسران کو سزائے موت اور قید بامشقت کی سخت سزائیں سنائی گئی ہیں۔ سزا پانے والوں میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال، بریگیڈیئر (ر) راجہ رضوان اور حساس ادارے کا ملازم ڈاکٹر وسیم اکرم شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال کو 14 سال قید بامشقت جب کہ بریگیڈیئر (ر) راجہ رضوان اور حساس ادارے کے ملازم ڈاکٹر وسیم اکرم کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کے 2 افسران سمیت 3 افراد کی سزا کی توثیق کردی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سزا پانے والے افراد پر جاسوسی، ملک کے ساتھ غداری، حساس راز و معلومات غیر ملکی ایجنسیوں پر افشاء کرنا اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا الزام ثابت ہوا ہے اور ان افسران کے خلاف الگ الگ کیسز میں پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کی گئی اس اہم خبر پر ملکی معاملات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ احتساب وہی ہے جو نظر آئے، جو کہا گیا وہ کر دکھایا گیا۔ یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ پاک فوج کے مضبوط نظم و نسق کے موثر نظام کی بدولت ہی گزشتہ دو سالوں میں پاک فوج کے چار سو کے لگ بھگ ہر رینک کے افسران و اہلکاران کو سزائیں ملی ہیں جن میں ملازمت سے برطرفی جیسی سخت نوعیت کی سزائیں بھی شامل ہیں۔ اسد درانی کا احتساب بھی اسی پالیسی کے تحت عمل میں آیا اور یقینی ہے کہ آئندہ بھی یکساں احتساب کی پالیسی پر سختی سے عمل ہوگا۔

حا ل ہی میں شمالی وزیرستان کے علاقہ خر قمر چیک پوسٹ پر اتوار کے روز ایک مسلح گروہ نے حملہ کر دیا جس سے 5 اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ جوابی فائرنگ سے 3 حملہ آور ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔ امید ر کھنی چا ہیے کہ فوج اس کیس کو بلا وجہ لمبا لٹکنے نہیں گی۔ فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گروہ کے حملے کا مقصد دہشت گردوں کے مشتبہ سہولت کار کو چھڑوانے کے لیے دبائو ڈالنا تھا۔ حملے کے دوران جوانوں نے اشتعال انگیزی کے سامنے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو 8 ساتھیوں سمیت حراست میں لے لیا گیا ۔ جبکہ بعد میں رکن قومی اسمبلی،محسن داو ڑ کو بھی گر فتار کر لیا گیا۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے آرمی ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔قبائلی علاقوں میں بعض شرپسندوں کی جانب سے سیکورٹی چیک پوسٹ پر حملے کا قابل مذمت واقعہ پہلی بار رونما ہوا ہے۔ جو اس حقیقت کا مظہر ہے کہ چند شرپسند عناصر اپنی مذموم کارروائیوں اور من گھڑت نظریات کے ذریعے لوگوں کو اکسا کر علاقے میں امن وامان کے مسائل پیدا کررہے ہیں۔ یہ حملہ مستقبل میں آنے والے خطرات کی گھنٹی بھی ہے جس کا تدارک کیا جانا ضروری ہے۔ اس واقعے کے پس منظر میں کار فرما قوتوں اور ماسٹر مائنڈ تک پہنچنا ناگزیر ہوچکا ہے تاکہ آئندہ ایسے شرانگیز واقعات کا اعادہ نہ ہوسکے۔ لیکن اب تک ملنے والی اطلاعات بہت افسوسناک ہیں جن کے مطابق کچھ مقامی قوتیں بیرونی آشیرباد پر ملکی سلامتی اور بقا کے لیے مسائل پیدا کررہی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی ایم کے معصوم کارکنوں کو احتیاط کی ضرورت ہے۔ چند افراد مذموم مقاصد کے لیے انہیں اکسا کر ریاستی اداروں کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ بہادر قبائلیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ دہائیوں پر مشتمل قومی جدوجہد کے ثمرات ضائع کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ پی ٹی ایم کے سپورٹرز اور ورکرز کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ تا ہم پچھلے د نو ں قبائلی عوام کے حقوق کے لیے مثبت پیش رفت کا آغاز ہوا۔ قبائلی عوام کو قربانیوں کے ثمرات ملنے کا وقت آیا تھا لیکن کچھ لوگ بین الاقوامی قوتوں کے آلہ کار بن گئے، ریاست کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کرکے لوگوں کو گمراہ کیا جارہا تھا، ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کو چھڑانے کی کوشش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام ملک کی تعمیر وترقی میں ہراول دستہ بنیں گے۔ عوام ان گروہوں سے لاتعلقی کا اظہار کرکے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور حکومت کا ایکشن آئین اور قانون کے مطابق ہوگا۔ ان سرحدی علاقوں میں چند شرپسند عناصر کی جانب سے ریاست کے خلاف پراپیگنڈے کی خبریں ایک عرصے سے آرہی تھیں جس کا ذکر کچھ عرصہ قبل ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بھی کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ برائی کو شروع میں ہی دبا دیا جائے تو اسے پنپنے کا موقع نہیں ملتا، اگر اس سے صرف نظر کیا جائے تو برائی اس قدر طاقتور ہوجاتی ہے کہ نیکی کی قوتوں کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن کرکے دہشت گرد قوتوں خاتمہ کردیا گیا مگر وطن دشمن بیرونی قوتیں یہاں کچھ مقامی عناصر کی مدد سے حقوق کی آڑ میں وہی نظریاتی جنگ لڑ رہی ہیں جو مشرقی پاکستان میں لڑی گئی۔ وطن دشمن قوتیں جان چکی ہیں کہ پاکستانی قوم کو میدان جنگ میں شکست نہیں دے سکتیں، اسے کمزور کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ حقوق اور نظریات کی بنا پر پھوٹ ڈال کر قوم کو تقسیم کیا اور ریاست کے خلاف ابھارا جائے۔ ان قوتوں کو شکست دینے کے لیے مقامی علماء، اکابرین اور دانشور حلقوں کے تعاون سے بڑے محتاط انداز میں عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی محاذ پر بھی آپریشن کی ضرورت ہے۔ عوام کو بنیادی ضروریات مہیا کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جب عوام کو ان کے حقوق نہیں ملتے تو شرپسند عناصر اس سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔مختصر یہ کہ جہا ں فو ج اپنی بسا ط سے بڑھ کر اپنی ذمہ دا ریا ں نہا یت احسن طر یقے سے نبھا رہی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں لے لینا چا ہیے کہ سول حکو مت سب کچھ فو ج پہ چھو ڑ کر خو د بر ی الذ مہ ہو جا ئے ۔


ای پیپر