ہماری لرزاں معیشت؟
02 جون 2019 2019-06-02

ملکی معیشت میں بہتری کی نوید دی جا رہی ہے مگر اس وقت اُس کی ناتوانی نے بائیس کروڑ عوام کو بے حال کر کے رکھ دیا ہے۔ اشیائے ضروریہ میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات بھی جاری ہیں مگر اس کے باوجود ناجائز منافع خور سینہ تان کر غریب عوام کی کھال کھینچ رہے ہیں جس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ملک میں کوئی قانون نہیں کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جو لوگوں کو تاجرانہ لوٹ مار سے محفوظ کر سکے…!

دراصل یہ سب گزشتہ حکومت کی حکمت عملیوں اور طرز حکمرانی کی بنا پر ہو رہا ہے مگر موجودہ حکومت بھی بری الذمہ قرار نہیں دی جا سکتی کہ اس نے حکومتی امور سمجھنے سمجھانے میں کافی وقت ضائع کر دیا جبکہ اُسے آتے ہی انقلابی بنیادوں پر حرکت میں آنا تھا مگر وہ یہ دیکھتی رہی کہ ہو کیا رہا ہے اور پھر اس کا خیال تھا کہ اس صورت حال کی ذمہ دار پچھلی حکومتیں ہیں لہٰذا عوام اسے ہی برا بھلا کہیں گے۔ ایسا نہیں ہوا کیونکہ جب بھی کوئی نیا حکمران اقتدار میں آتا ہے وہ ڈھیروں وعدوں کے ساتھ آتا ہے اور وہ یہ کبھی نہیں کہتا کہ وہ اپنی آمد کے چند برسوں کے بعد مسائل حل کرنے میں کامیاب ہو سکے گا وہ تو کہتا ہے کہ ادھر وہ آئے گا اُدھر ملک کی کایا پلٹ جائے گی…!

پی ٹی آئی کی حکومت نے بھی ایسا ہی کہایا اس کے بعض عہدیدار تو ببانگ دہل کہتے پائے گئے کہ وہ جب آئیں گے تو بہار آجائے گی صحرا لہرا اٹھیں گے خشک چشمے پھوٹ پڑیں گے، ندیوں میں جھلملاتا پانی بہہ رہا ہوگا اور فضاؤں میں عود و لوبان کی خوشبو پھیل جائے گی مگر یہ سب ایک سپنا تھا ایک جذباتی منظر تھا جس کا مقصد شاید عوام کو اپنی طرف کھینچنا تھا راغب کرنا تھا… کیونکہ پی ٹی آئی کی قیادت کو معلوم ہو گا کہ اگر اس کی حکومت آتی ہے تو اسے بے تحاشا لیے گئے قرضوں کی ادائی کرنا ہو گی جس کا دباؤ براہ راست عام آدمی پر پڑے گا اور وہ چیخ اٹھے گا اگر نہیں پتا تھا تو یہ اس کی نا اہلی متصور کی جانی چاہیے۔ یا پھر وہ اس زعم میں ہو گی کہ اس کے اقتدار کے ایوانوں میں قدم رکھتے ہی نیا سویرا طلوع ہو جائے گا…؟

بہرحال حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارا ملک طویل عرصے سے قرضوں کے بھنور میں پھنس کر رہ گیا ہے جس سے باہر نکلنے کے لیے وہ کسی سنجیدہ کوشش میں ناکام رہا ہے اس کی اہم وجہ یہی بتائی جاتی ہے کہ وہ اقتدار کے حصول میں عالمی مالیاتی اداروں کے ایک حد تک مرہون رہے ہیں مرہون اس طرح کہ وہ جب

بھی اقتدار میں آتے انہیں ان کی معاشی استحکام اور اپنے منشور پر عمل درآمد کرنے کے لیے پیسے کی ضرورت ہوتی لہٰذا وہ ان کی تھپکی لینا نہیں بھولتے تھے اب مگر صورت حال مختلف ہے۔ روایتی انداز ختیار نہیں کیا گیا نتیجتاً حالات خرابی کی طرف بڑھنے لگے۔ اب جب کڑوا گھونٹ آئی ایم ایف کی شرائط کا بھرا ہے تو اور بھی معاشی حالت دگر گوں ہونے لگی ہے۔ کہ شرط اول میں حکم ہے کہ ڈالر کی قیمت ریاست و حکومت نہیں کھلی منڈی والے طے کریں گے لہٰذا ایک سو انچاس کا ڈالر نہ صرف درآمد پر اثر انداز ہو رہا ہے برآمدات کو بھی متاثر کرتا ہوا نظر آتا ہے کہ گزشتہ دس ماہ میں برآمدات میں اضافہ تو درکنار دو فیصد کی کمی واقع ہو چکی ہے جبکہ درآمدات میں صرف پانچ فیصد کی کمی آئی ہے!

اُدھر وزارت خزانہ کے مطابق ترقیاتی بجٹ میں چونتیس فیصد کمی کے باوجود مالی سال کے پہلے نو ماہ میں خسارہ انیس کھرب بائیس ارب تک پہنچ چکا ہے جو ایک دہائی کے عرصے میں بلند ترین ہے جبکہ پچھلے برس کا خسارہ (پہلی دہائی میں) چودہ کھرب اسی ارب روپے تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ خسارہ جی ڈی پی کے آٹھ فیصد سے تجاوز کر جانے کا امکان ہے۔ ٹیکس وصولی کا نظام جو کہ بدعنوانی پر مبنی ہے سے بھی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اخراجات اور آمدن کی مدات میں خاصافرق نظر آتا ہے کہ ٹیکس آمدن جی ڈی پی کے آٹھ اعشاریہ نو فیصد سے کم ہو کر آٹھ اعشاریہ دو فیصد پے آ گئی ہے مجموعی آمدن جی ڈی پی کے دس اعشاریہ چار فیصد سے نیچے آ کر نو اعشاریہ تین فیصد ہو گئی ہے۔ اخراجات چودہ فیصد تک چلے گئے ہیں۔

سٹیٹ بینک کے مطابق حکومت اس سے دھڑا دھڑ قرضے لے رہی ہے۔ جاری مالی سال کے دوران اس نے چار اعشاریہ آٹھ ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا ہے جو پچھلے سال کے اسی عرصہ سے ڈھائی گنا زیادہ ہے۔ سٹیٹ بینک سے قرضے کا مطلب ہوتا ہے زیادہ نوٹوں کی چھپائی کہ جس سے افراط زر میں اضافہ ہوتا ہے ۔ دوسری جانب اسے روکنے کے لیے شرح سود بڑھائی گئی ہے جس سے معاشی سرگرمیاں اور داخلی سرمایہ کاری سکڑ رہی ہے…؟

حکومت نے اپنے تئیں معیشت کی بحالی کے لیے ایمنسٹی سکیم متعارف کروائی ہے اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہو گا ہاں البتہ چند لوگ ضرور مستفید ہوں گے یعنی اپنا کالا دھن سفید کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے مگر دیکھا جائے تو ہماری معیشت کا دارو مدار ہی کالے دھن پر ہے لہٰذاس میں ٹیکس چوری بھی ہوتی ہے اور غیر دستاویزی معاشی سرگرمیاں بھی ہوتی ہیں!

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کی زبوں حالی کا سلسلہ دو ہزار بائیس تک جاری رہ سکتا ہے کیونکہ آئی ایم ایف کے پروگرام جس میں بجلی، تیل اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے، ہر قسم کی سبسڈیوں کے خاتمے، تعلیم و صحت کے شعبوں سمیت تمام سرکاری اداروں کی نجکاری اور بالواسطہ ٹیکسوں کی بھرمار شامل ہیں پر عمل درآمد کیا جائے گا کہ آنے والے بجٹ میں سات سو ارب روپے نئے ٹیکس لگانے کی تیاری کی جا رہی ہیں؟

سوال یہ ہے کہ لرزاں معیشت کو کیسے سنبھالا دیا جائے کہ قرضوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ اب تک تین گنا سود دیا جا چکا ہے لہٰذا موجودہ نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تا کہ ذرائع آمد ن کو بڑھایا جا سکے اور پھر بدعنوانی کہ جس سے قومی سرمایے کا ضیاع ہوتا ہے اور وہ چند لوگوں کے پاس چلا جاتا ہے جو اسے بیرونی ممالک میں بھیج دیتے ہیں کو سختی سے روک دیا جائے۔ بصورت دیگر آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ ہمارے پھیلے رہیں گے اور وہ ناگوار و ناقابل برداشت شرائط پر قرضہ دیتا رہے گا۔ ظاہر ہے اسے مع سود اپنا پیسا واپس چاہیے ہوگا جو انتہائی تکلیف دہ اور اذیت ناک امر ہے۔ عوام پہلے ہی پس رہے ہیں انہیں اپنی جان کے لالے پڑ چکے ہیں کیونکہ آگے چل کر مہنگائی و گرانی کا طوفان آنے والاہے۔ جس کا سامنا کرنا عام آدمی کے لیے بے حد مشکل ہو گا۔ لہٰذا آئی ایم ایف سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے نظر انداز کیا جائے اور اسی صورت ممکن ہو سکتا ہے جب پوری قوم تمام ریاستی ادارے اور سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہوجائیں اور قومی معیشت کی بحالی کا نعرہ لگائیں۔ کوئی بھی عالمی مالیاتی ادارہ ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہونے دے گا کیونکہ اس کی سوچ سرمایہ دارانہ و استحصالی ہے کہ ان اداروں نے دوسری عالمی جنگ کے بعد یہ طے کیا تھا کہ وہ بین الاقوامی اقتصادیات کوتشکیل دے کر نو آبادی ملکوں پر اپنا تسلط قائم رکھیں گے۔ ان کا یہ نظام جسے نظام زر بھی کہتے ہیں ہم ایسے ملکوں کے عوام کو معاشی شکنجے میں کسے ہوئے ہے مگر ہمارے حکمران کبھی بھی اس سے نجات کا نہیں سوچتے کیونکہ وہ خود اس کے ذریعے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں لہٰذا اس سے چھٹکارا پانے کا واحد راستہ اس نظام کو جو عالمی مالیاتی اداروں کا مرہون منت ہے کو بدل دیا جائے تا کہ خوشحالی و فلاح کا راستہ واضح دکھائی دے سکے!


ای پیپر