سپریم کورٹ نے نواز شریف اور دیگر سیاستدانوں کو نوٹس جاری کردئیے
02 جون 2018 (22:32) 2018-06-02

لاہور : سپریم کورٹ آف پاکستان نے اصغر خان عملدرآمد کیس میں پیسے وصول کرنے والے سابق وزیراعظم نواز شریف ، سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی اور عابدہ حسین سمیت21 سویلین ،انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی سمیت کیس سے متعلقہ آرمی افسران، ڈی جی نیب اور ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر دیئے ۔

گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں خصوصی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتر اوصاف نے وفاقی کابینہ کے فیصلے سے متعلق ایک سربمہر رپورٹ عدالت میں پیش کی اور ساتھ ہی درخواست کی کہ حساس نوعیت کا معاملہ ہونے کی بناء پر رپورٹ کو دوبارہ سیل کردیا جائے جس پر عدالتی عملے نے رپورٹ کو سربمہر کردیا۔اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا کہ کابینہ نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کا فیصلہ کرتے ہوئے ایف آئی اے کو تفتیش جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پیسے وصول کرنے والوں سے رقم کی واپسی کا کیا طریقہ کار بنایا گیا ہے؟۔ سماعت کے بعد عدالت عظمی نے نواز شریف ، عابدہ حسین، جاوید ہاشمی سمیت 21 سویلین،آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی سمیت کیس سے متعلقہ آرمی افسران اور ڈی جی نیب اور ایف آئی اے کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 6 جون تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے 31مئی کو سماعت کے دوران اصغر خان کیس پر کابینہ کا اجلاس نہ بلانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو اسی شام تک کی مہلت دی تھی۔یکم جون کو کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے انہیں طلب کیا تھا تاکہ وہ عدالت عظمی کو وفاقی کابینہ کی رپورٹ سے آگاہ کریں۔خیال رہے کہ 1990ء کی انتخابی مہم کے حوالے سے یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس انتخابی مہم کے دوران اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل جماعتوں اور رہنمائوں میں پیسے تقسیم کیے گئے۔اس حوالے سے ایئر فورس کے سابق سربراہ اصغر خان (مرحوم ) نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، یہ کیس پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اصغر خان کیس کے نام سے مشہور ہے۔

خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی نے اپنے ایک بیان حلفی میں دعویٰ کیا تھا کہ سیاسی رہنمائوں میں یہ پیسے مہران بینک کے سابق سربراہ یونس حبیب سے لے کر بانٹے گئے تھے۔پیسے لینے والوں میں غلام مصطفی کھر، حفیظ پیرزادہ، سرور چیمہ، معراج خالد اور دیگر رہنمائوں کے ساتھ ساتھ میاں نواز شریف کا نام بھی سامنے آیا تھا۔اصغر خان کیس میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ پیسے بانٹنے کا یہ سارا عمل اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور دیگر قیادت کے بھی علم میں تھا۔ سپریم کورٹ نے 2012ء میں اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کے لیے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سمیت دیگر سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم اور 1990ء کے انتخابات میں دھاندلی کی ذمہ داری مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درنی پر عائد کی تھی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا تھا۔

مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں ہی نظرثانی اپیل دائر کر رکھی تھی جسے عدالت مسترد کرچکی ہے۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ کے آغاز میں وفاقی حکومت کو اصغر خان کیس سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی حکومت اور ایف آئی اے اصغر خان کیس کے فیصلے کی روشنی میں قانون کے مطابق کارروائی کریں۔


ای پیپر