فیصلہ/خدشہ انتخابات کے التوا کا
02 جون 2018 2018-06-02

سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس عطا محمد بندیال کی قیادت میں تین رکنی بنچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کو تاحیات نا اہل قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے ان کی نا اہلی ختم کر دی ہے اور آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔۔۔ ابھی حکم جاری ہوا ہے تفصیلی فیصلہ بعد میں سامنے آئے گا۔ اس میں دیے گئے آئینی و قانونی دلائل کو سامنے رکھ کر ماہرین جائزہ لے سکیں کہ یہ حکم نامہ جوہری طور پر میاں نواز شریف کو آئین کی دفعہ 62(F)A کے تحت تا حیات نا اہل قرار دینے کے فیصلے سے کتنا مختلف ہے۔ دوران سماعت فاضل جج صاحبان نے ریمارکس دیئے خواجہ آصف نے دبئی کی ایک کمپنی میں جو ملازمت اختیار کر رکھی تھی اس سے وصول ہونے والی تنخواہ یا اثاثے کو انکم ٹیکس کے گوشوارے میں ظاہر کر دیا تھا لہٰذا کاغذات نامزدگی میں درج کرنا ضروری نہیں تھا۔۔۔ یہ ویسے اثاثہ بھی نہیں تھا کہ تنخواہ خرچ کر ڈالی تھی۔۔۔ سپریم کورٹ نے اس دلیل کو بھی غالباً قابل اعتنا نہیں سمجھا کہ بطور وزیر دفاع اور بعد میں وزیر خارجہ آصف نے جو غیر ملکی کمپنی کے ساتھ ملازمت کا تعلق برقرار رکھا تو اس سے مفادات کا ٹکراؤ جنم لیتا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ آبزرویشن بھی دی کہ ہم اراکین پارلیمنٹ پر نا اہلی کی تلوار لٹکائے نہیں رکھنا چاہتے۔ ظاہر ہے تفصیلی فیصلے میں ان تمام اور مقدمے سے متعلق دوسرے نکات کو آئین و قانون کی روشنی میں مدلل طریقے سے بیان کیا جائے گا۔ اقامہ نوازشریف کی مانند خواجہ آصف کا بھی تھا۔۔۔ اسی لیے خیال اس جانب مڑے بغیر نہیں رہتا کہ تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیر اعظم کو پارلیمنٹ کی رکنیت سے تاحیات نا اہل قرار دیا گیا تو کیا اس کی وجہ محض یہ ہے یا کوئی اور کہ انہوں نے اپنے اثاثے میں بیٹے کی کمپنی سے اس تنخواہ کا ذکر نہیں کیا جو دبئی کے اقامے میں درج تھی۔۔۔ لیکن جسے کبھی وصول نہیں کیا۔۔۔ پاکستان کے انکم ٹیکس کے قوانین کے تحت اسے اثاثہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔۔۔ لیکن نواز شریف کو نا اہل قرار دینے کے لیے امریکہ میں شائع ہونے والی بلیک ڈکشنری میں دی گئی تعریف کا سہارا لیا گیا۔۔۔ کیا نواز شریف کا یہ الزام درست ہے کہ انہیں چوتھے فوجی ڈکٹیٹر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ دائر کرنے کی سزا دی گئی۔۔۔ متعلقہ حلقوں کی جانب سے اس کا ٹھوس اور قطعی جواب نہیں سامنے آیا۔۔۔ تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پانامہ الزامات کا جائزہ لینے کے لیے جو جے آئی ٹی قائم کی گئی تھی اس میں ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی کے دو بریگیڈئر شامل تھے۔ جے آئی ٹی کی مہینوں کی کارروائی کے بعد سابق وزیراعظم کو پانامہ کے حوالے سے کرپشن الزامات نہیں بلکہ اقامہ کے تحت نااہل قرار دیا گیا۔۔۔ شاید بہت جلدی تھی۔۔۔ برطرفی کے بعد بھی پانامہ الزامات کے تحت نواز شریف اپنی بیٹی مریم سمیت احتساب عدالت میں اسّی سے زائد پیشیاں بھگت چکے ہیں۔ جبکہ جنرل مشرف کی عدالت میں پیشی کا مرحلہ آیا تو ان کی گاڑی کا رخ موڑ کر مسلح افواج کے ہسپتال برائے امراض قلب کی جانب کر دیا گیا۔ جہاں انہوں نے کوئی تین ماہ کا عرصہ بطور مریض گزارا حالانکہ دل کا عارضہ انہیں تب بھی نہیں تھا۔ اب جو وہ بیرون ملک علاج کی خاطر بڑے اطمینان اور سکون کے

ساتھ دبئی اور لندن کے فلیٹوں میں زندگی کے دن بسر کر رہے ہیں اس مرض کی شکایت سننے میں نہیں آئی۔

خواجہ آصف کی بریت کا فیصلہ سامنے آتے ہی تحریک انصاف کے حلقوں کے اندر امید کی کرن پیدا ہو گئی ہے کہ اس نظیر کی روشنی میں جناب جہانگیر ترین کی نا اہلی بھی ختم کی جا سکتی ہے۔۔۔ ان کی نااہلی کو کئی آئینی سیاسی مبصرین روز اول سے Balancing Act قرار دے رہے ہیں۔۔۔ جبکہ شیخ رشید کے بارے میں فیصلہ ابھی تک محفوظ ہے۔۔۔ شاید انہی دلائل کی متابعت میں ان کے بارے میں بھی مثبت حکم جاری ہو جائے اور فرزند راولپنڈی کو اگلا انتخاب لڑنے کی اہلیت سے محروم نہ کیا جائے۔۔۔ نواز شریف کو چونکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عملی سیاست سے باہر رکھنا مقصود ہے لہٰذا انہیں کوئی رعایت نہ دی جائے گی اور غالباً اگلے چند ہفتوں کے اندر موصوف کو سزا بھی سنا دی جائے۔۔۔ ان کی نا اہلی ختم کرنے کی ایک ہی صورت ہے آئندہ انتخابات کے بعد جو پارلیمنٹ وجود میں آئے۔۔۔ وہ آئین میں تیسرے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کی جانب سے شامل کی گئی دفعات 62 اور 63 کو نکال باہر پھینکے مگر اس کے امکانات کم ہیں۔۔۔ کیونکہ اس کی خاطر مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہو گی۔۔۔ جو شاید میاں نواز شریف کے مضبوط تر ووٹ بینک کے باوجود حاصل نہ ہو پائے۔۔۔ اول تو اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ معلق (Hung) پارلیمنٹ وجود میں آ جائے۔۔۔ اگر ایسا نہ بھی ہوا تو مسلم لیگ (ن) کی حیثیت زیادہ سے زیادہ سب سے بڑی پارلیمانی جماعت کی ہو گی جبکہ پس پردہ مساعی کے نتیجے میں مقابلے کی بڑی اور کچھ علاقائی جماعتیں مل کر متحدہ محاذ بنا لیں گی۔۔۔ زیرزمین کوشش کی جائے گی نواز شریف کی جماعت کو حکومت بھی نہ بنانے دی جائے۔۔۔ ’’یہ مرضی میرے صیاد کی ہے‘‘ تاہم سابق وزیراعظم کے خلاف فیصلہ مدت تک ہماری سیاسی حرکیات اور اداروں کے لیے تازیانہ بن کر پیچھا کرتا رہے گا۔۔۔ عدلیہ کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھتے رہیں گے۔۔۔ یہ امر مسلسل زیر بحث رہے گا کہ مولوی تمیز الدین کیس سے لے کر آج تک جس بنیاد اور جن محرکات پر اہم فیصلوں کااجراء ہوتا ہے ان کی جڑیں کہاں پائی جاتی ہیں اور ان سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔۔۔ کیونکہ اس کے بغیر آپ جتنے انتخابات کرا لیں اور جتنا مرضی آئین و جمہوریت کا ورد کرتے رہیں عوام کی حکمرانی قائم نہ ہو گی نہ پاکستان اندرونی جکڑ بندی سے آزاد ہو پائے گا۔

انتخابات وقت (25 جولائی) پر ہونے چاہئیں۔۔۔ تاریخ طے شدہ ہے اس سے آگے پیچھے نہیں ہوا جا سکتا ۔۔۔ یہ مؤقف ہے تمام بڑی سیاسی جماعتوں کا ۔۔۔ نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے بھی عہدے کا حلف اٹھانے کے فوراً بعد قوم کو یقین دلایا ہے کسی قسم کی تاخیر روا نہیں رکھی جائے گی۔۔۔ جناب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ انتخابات میں التوا کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔۔۔ اس کے باوجود شکوک و شبہات کیوں پائے جاتے ہیں۔۔۔ بلوچستان اسمبلی کی قرار داد کس کے ایما پر منظور کی گئی۔۔۔ لاہور ہائی کورٹ کی جج صاحبہ نے الیکشن شیڈول کا اعلان ہونے کے ایک روز بعد نامزدگی کے نئے فارم کو کیوں مسترد کیا ہے۔۔۔ اور ہائی کورٹس کی جانب سے کئی اضلاع کی حلقہ بندیوں کو کالعدم کرنے کے دھڑا دھڑ فیصلے صاد ر ہو رہے ہیں۔۔۔ کیا یہ سب چور دروازے کا کام نہیں دیں گے۔۔۔ غیر یقینی کا سبب کیا ہے۔۔۔ من چلے نے جواب دیا جب تک معلق (Hung) پارلیمنٹ کا غیر مرئی طریقے سے بندوبست نہیں کر لیا جاتا اور مطلوبہ نتائج کا حصول یقینی نہیں بن جاتا التواء کا اندیشہ باقی رہے گا۔۔۔ پیپلز پارٹی کی ہائی کمانڈ نے بھی پرسوں اپنے خصوصی اجلاس کے بعد اعتزاز احسن کی زبانی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اندر کا کوئی سسٹم انتخابات کے التوا کے لیے کوشاں ہے۔۔۔ چالیس برس قبل جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے فوراً بعد یقین دلایا تھا نوے روز کے اندر انتخابات کرا دیں گے۔۔۔ کچھ لوگوں نے شک کا اظہار کیا تو انہوں نے برملا جواب دیا تھوڑا انتظار کر لیں وقت پر انتخابات ہونے دیں یہ لوگ خودبخود جھوٹے قرار پائیں گے۔۔۔ پھر کیا ہوا مثبت نتائج کے حصول تک چناؤ کو ملتوی کرنا پڑا۔۔۔ تمام وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے۔۔۔ التواء پھیلتا پھیلتا قوم کے گیارہ سال ہضم کر گیا۔۔۔ اس دوران اگرچہ 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات ہوئے۔۔۔ پیر پگاڑا کی سفارش پر مرضی کا وزیراعظم بھی نامزد کیا گیا۔۔۔ اس کے لیے اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ بھی حاصل کر لیا گیا۔۔۔ مگر وہ بھی اندر سے سرکش نکلا۔۔۔ اڑھائی برس کے اندر اس نا ہنجار وزیراعظم اور بے وفا اسمبلی دونوں سے نجات حاصل کرنا پڑی۔۔۔ اب بھی اگر انتخابات کسی بھی وجہ سے ایک روز کے لیے بھی متاثر کر دیے گئے تو ہماری تاریخ کا سبق یہ ہے قوم ایک مرتبہ پھر گہری کھائی میں جا گرے گی۔۔۔ کیا قومی دھارے کی اور جمہوری عمل پر پختہ یقین رکھنے والی علاقائی و دیگر جماعتیں اپنے اور ملک کے مستقبل کی خاطر کم از کم ایک نکتے پر متحدہ محاذ بنا لیں گی کہ انتخابات کے انعقاد کو کسی محلاتی سازش کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا۔


ای پیپر