اس لمبی رات میں کیا بیتی
02 جون 2018 2018-06-02

جسٹس شوکت صدیقی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رمضان کے تقدس کے تحفظ کے لئے سرگرداں رہے۔ تضحیک آمیز پروگراموں پر قدغن لگانے کی کوشش کرتے رہے۔ بہتوں کی دعائیں لیں کہ اس خاموشی اور دم گھونٹ سناٹے میں کوئی تو بولا۔ تا ہم اسی ماہ مقدس میں ایک تکلیف دہ حقیقی لائیو ٹرانسمیشن چل پڑی ۔ کئی ڈراموں پر بھاری۔ سالہا سال سے کاشت کی گئی تہذیبی کثافت اب پھل پھول لا رہی ہے۔ فیشن شوز ، برائیڈل شوز، مخلوط تعلیم ، ہمہ نوع اختلاط بھرے رمضان میں یہ ڈرامہ یورپ بھر کے اخباروں کی شہ سرخی بنا۔ اردو اخبار میں حیا آڑے آ گئی۔ انگریزی اخبارات نے خبر لگائی۔ کس طرح 19 سالہ پاکستانی لڑکی جو بنیادی پاکستانی تربیت کے بعد اٹلی میں 8 سال سے مقیم تھی دوران تعلیم دوستی (اطالوی لڑکے سے) کا نتیجہ ہمراہ لئے والدین کے ساتھ پاکستان آئی۔ شرم سے گھل کر مرتے والدین نے پردہ رکھنے کو جو کرنا چاہا، لڑکی نے ’’بوائے فرینڈ‘‘ اور سہیلیوں کو اٹلی میں اطلاع دی۔ مدد مانگی۔ اطالوی دفتر خارجہ اور اطالوی سفیر فوراً حرکت میں آئے اور ’فدوی پاکستان‘ سے لڑکی فوری طلب کر لی۔ ہماری پولیس نے اسلام آباد گھر پر چھاپا مارا۔ والدین نے درخواست کی کہ بیٹی کو دارالامان منتقل کر دیا جائے۔ ہمیں بیٹی سے گفت و شنید کی مہلت دی جائے۔ (یاد رہے کہ یہ لڑکی اطالوی شہریت نہیں رکھتی ، پاکستانی ہے وقتی اقامے پر وہاں رہ رہی تھی) لیکن اطالوی سفیر کے حکم پر اسے فوری والدین کے ’’چنگل‘‘ سے نکال کر سفیر کے گھر پیش کر دیا۔ جہاں وہ کئی دن مقیم رہی۔ اب حرافہ لڑکیوں کا ننھیال اور دارالامان یورپ ، امریکہ یا ان کے سفارتخانے ہیں او وہ ایسے ہر کارنامے کے لئے نہایت مستعد اور فعال ہیں۔ اپنے اطالوی شہری کے حرام بچے کے تحفظ کے لئے جو پھرتیاں انہوں نے دکھائیں وہ پورے مغرب کے میڈیا میں نمایاں شائع ہوئیں۔ اطالوی اخبارات کی شہ سرخیاں بنیں۔ والدین نے پاسپورٹ اور سفری دستاویزات نہیں دیں تو حکماً فوری نیا پاکستانی پاسپورٹ ہماری حکومت سے حاصل کر کے ماہ مقدس کے جمعے کے دن اسے اٹلی پرواز کروا دیا گیا۔ (ڈان رپورٹ 27 مئی) محمد بن قاسم کی سرزمین پر جہاں مسلم عورت کے تحفظ اور تقدس کی خاطر لشکر کشی ہوئی تھی۔ اب لٹی عصمت کے اطالوی محافظوں کے ہاتھوں دین کو زندہ درگور کر دینے کو یہ ریسکیو آپریشن کر کے بیٹی بوائے فرینڈ کے دیس، رومیو جیولیٹ کے شہر ویرونا پہنچا دی گئی چشم زدن میں ! گویا ہمارا عافیہ والا گناہ کافی نہ تھا۔ یہ لڑکی تو یوں بھی ملکی قانون کے تحت پاکستانی شہری ہونے کی بنا پر گرفتار کی جاتی ، قانونی کارروائی ہوتی بہ نسبت وی آئی پی بنا کر ریمنڈ ڈیوس سٹائل برآمد کر دی گئی۔ اٹلی کیا حق رکھتا تھا کہ ایک پاکستانی لڑکی یوں تقریباً اغوا کر کے اٹلی بھیج دی جاتی انسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کے کھوکھلے نعروں دعوؤں کے تحت؟ خود اٹلی اپنے گریبان میں جھانکے تو خود وہاں شخصی آزادی، مسلمان عورت کو پردہ کرنے ، حجاب کی اجازت نہیں دیتی۔ ان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اٹلی میں ایک تہائی عورتیں جسمانی یا جنسی تشدد کا نشانہ بنائی جاتی ہیں۔ ہر تیسرے دن ایک عورت قتل ہوتی ہے۔ ستمبر 2017ء میں الارم بج اٹھا کہ زنا بالجبر کے واقعات کی لہر یوں چل پڑی کہ روم کا میئر چلا اٹھا کہ یہ اٹلی کا ’سیاہ ستمبر‘ ہے۔ پولیس پٹرولنگ بڑھاؤ۔ ویڈیو کیمرے نصب کرو۔ سزائیں عائد کرو۔ وہ اٹلی جہاں 2018ء میں حرام پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد 30 فیصد ہے اور 2020ء تک 50 فیصد تک بڑھ جانے کا خدشہ ہے۔ (کیتھولک چرچ والا اٹلی!) وہاں ایک مسلمان لڑکی کی بدکاری کو بطور خاص ایسا تحفظ فراہم کرنا اور فتح یابی کے جھنڈے گاڑنا عالمی نظریاتی جنگ کا حصہ ہے جہاں اسلام اور اسلامی طرز حیات کو نیچا دکھانا مقصود ہے۔ جب ہی تو اتنے حقیر، نیچ واقعے پر اطالوی وزیر خارجہ بطور خاص ٹویٹ کر کے سرخروئی

کا اعلان کر رہا ہے۔ ادھر ہم یورپ کے ایک نسبتاً مسکین ملک کے حکم پر بھی اطاعت شعاری اور فرمانبرداری کا شرمناک مظاہرہ کرتے ہیں! ریاست مدینہ سے مشابہت کس منہ سے دی جاتی ہے پاکستان کو، جبکہ برسرزمین حقائق اتنے تلخ اور اذیت ناک ہیں؟ مسلمانوں کے حق کے لئے اللہ اب دوسری قوتوں سے افراد اٹھا رہا ہے۔ خدانخواستہ سورۃ المائدۃ کی تنبیہہ ہم پر صادر آ رہی ہے۔ ’اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘ اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے ایسے لوگ پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہو گا۔ جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے۔ جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اللہ بڑی وسعت والا اور العلیم ہے،۔ (آیت 54 ) ڈاکٹر عافیہ کا کیس لڑنے کو درد دل سے معمور طالبان کے ایمان سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنے والی برطانوی صحافی (ایوان ریڈلے) مریم کھڑی ہے۔ دکھ سے پاکستان سے شکوہ سنج ہے اس کی عدم رہائی پر۔ جس کی بنیادی وجہ ہماری حکومتوں کی عدم دلچسپی ہے! آپ نے اس غلط کار لڑکی کے لئے پھرتی اور چستی ملاحظہ فرمائی۔؟ تغوبر تو اے ۔۔۔ ! ادھر فلسطینیوں کے حق کے لئے احساس بیدار کرنے کو بلجیم میں یورپی یونین کے ہیڈ کوارٹر کے باہر، دل چھو لینے والا ایک مظاہرہ ہوا۔ وزرائے خارجہ کی میٹنگ سے پہلے وہاں 10 سالوں میں اسرائیل کے ہاتھوں شہادت پانے والوں کی نمائندگی کرنے کو 4500 جوتوں کے جوڑے قطاروں میں رکھے گئے۔ جس میں 1000 جوتے بچوں کے تھے۔ مردوں ، عورتوں ، بچوں کے یہ جوتے ویسے تو ہار بنا کر مسلم سربراہوں کے گلے میں ڈالے جانے چاہئے تھے۔ تا ہم کمال تو یہ ہے کہ مسلمانوں کی بجائے اس مہم کا ڈائریکٹر گورا، کرسٹوف شاٹ تھا۔ اس نے کہا کہ ’یورپ بھر کے شہریوں کا ایک واضح پیغام اپنی حکومتوں کے نام یہ ہے کہ ہمیں فلسطینی جانوں کی فکر ہے اور یہ انہیں بھی ہونی چاہئے۔ اسرائیل کے سب سے بڑے تجارتی شراکت کار اور سیاسی اتحادی ہونے کی حیثیت سے یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم نتین یاہو (اسرائیلی وزیر اعظم) کو یہ پیغام دیں کہ یہ جارحیت اب رکنی چاہئے۔ اگر ایک طرف امریکہ کا یروشلم میں سفارتخانہ اختتامی تقریب میں یہودی معبد کا نقشہ پیش کر رہا تھا یہودی صیہونی جذبات میں غرق تو دوسری طرف سلیم الفطرت یورپی نمائندہ کرسٹوف زندہ ضمیر کی علامت ہے۔ اللہ اسے ایمان کا نور عطاء فرمائے۔ ایوان کی طرح ! (آمین) کیا عجب ہے کہ ہم خلفائے راشدین کا تذکرہ کریں۔ نبی کریم ؐکے لائے 1400 سال پیشتر کے نظام زندگی کے احیاء کی بات کریں۔ (جو 2001ء تک روبہ عمل رہا افغانستان میں )۔ تو ہمیں قدامت پرستی کا طعنہ دیا جائے اور ٹھٹھے لگائے جائیں۔ جبکہ امریکی سفارتخانے کی تقریب منعقدہ یروشلم میں ہر مقرر نے 3 ہزار سال پرانے وعدوں اور خوابوں کے احیاء کی بات کی تو وہ عین جدت و جدیدیت تھی؟ تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی ۔ ایسے میں جب فلسطین کا غم یورپی اور عافیہ کا غم برطانوی کھا رہے ہیں۔ ہمارے بچے کیا کر رہے ہیں؟ ’داغ تو اچھے ہوتے ہیں‘ کا ایک سبق تو عملاً اطالوی معشوقہ لڑکی نے فرفر سنا دیا۔ دوسرا جگر پاش واقعہ کمسن قاتلوں کا ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ یہ بھی ماہ مقدس میں تراویح کی آڑ میں ہوا ۔ کم عمر 13 سالہ آٹھویں جماعت کے بچے کو جن بچوں نے بہلا پھسلا کر کرکٹ کھیلنے کے بہانے لے جا کر سفاکانہ ، لرزہ خیز قتل کا نشانہ بنایا۔ چھرے سے ذبح کیا ، ان کی عمریں 14-13 اور16 سال تھیں۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ اس کے بعد کمال بے دردی بے حسی اور مجرمانہ ذہنیت سے ڈرامے کا پارٹ ٹو ہوا۔ اس میں بڑی مہارت سے گھر والوں کے نام خط لکھ کر 16 لاکھ تاوان طلب کیا ۔ (عمریں ملاحظہ ہوں اور تاوان کی رقم دیکھئے) غمزدہ والدین اور پولیس کے حاشیہ خیال میں بھی نہ آ سکتا تھا کہ منجھے ہوئے پلان کے پیچھے لڑکے بالے ہیں۔ 13 سالہ بچہ تاوان کی رقم کا تھیلا اٹھانے آیا اور بالآخر سب پکڑے گئے۔ یہ ہے روشن خیال پاکستان کے مساجد ، مدارس ، دین ، شریعت سے بچا بچا کر پالے پوسے غیر دہشت گرد بچے! یہ جو تراویح میں قرآن پکار رہا تھا (جس کے دوران تراویح کے نام پر گھر سے نکلا تھا بچہ ۔ اور دوسرے تین آلہ ہائے قتل لئے بیٹھے تھے!)۔’آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں ، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پا کر دبا لئے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا! ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے۔‘ (النساء۔75 )۔ تو اس پکار پر کان دھرنے کی اجازت کب ہے؟ روشن خیال ، ترقی پسند نئے پاکستان میں آتی جوانی کی صلاحیتیں ، قوتیں امنگیں۔ ملک و ملت ، اسلام اور امت کا غم کھانے کی بجائے عشق عاشقی۔ ورنہ قتل، اغوا برائے تاوان اور (سالوں سے جاری) جبری لاپتگی سے مال کمانے کے لئے ہیں۔ موبائل کلچر ، ون ویلنگ، سپورٹس گاڑیاں اڑاتے پھرنے ، سائلنسر پھاڑ گلا پھاڑ ، گریبان پھاڑ اور سینہ چاک امنگیں آرزوئیں نکل رہی ہیں۔ یہ روتی دھوتی غزہ، شام ،کشمیر ، افغانستان ، برما کی عورتوں بچوں کی پکار۔؟ محمد بن قاسم ، اب لاپتگی کے خوف سے ماؤں نے جننے چھوڑ دیئے۔ بچھڑ جاتے ہیں! اب تو معزز خاندانوں کی حیا دار عورتیں اٹھائی جا رہی ہیں۔ دم مارنے کی مجال کہاں۔ ! لب سی لو خاموش رہو !

سویا ہوا سورج کیا جانے، اس لمبی رات میں کیا بیتی

ایک ایک کرن کو چن چن کر ڈائن نے ذلیل و خوار کیا !

صیاد تری صیادی کی اب داد بھی کوئی کیا دے گا

سامان ہزار آزاد کیا اور بند لب گفتار کیا

 

 


ای پیپر