دشت ظلمت میں ایک دیا!
02 جون 2018 2018-06-02

 

’’میرے عزیزو تمام دکھ ہے‘‘ کہتا گوتم بدھ جب اپنا محل، سلطنت اور راجکماری یشو دھرا کو چھوڑ کر روشنی کی تلاش میں نگل گیا تو، اس بڑے فیصلے کے تین محرکات تھے‘‘، بیماری، بڑھاپا اور موت۔ جن کا علاج نہ تو پرانی صدیوں میں انسان ڈھونڈ سکا، اور نہ ہی یہ اکیسویں صدی، جو ہے ہی حیرت انگیز ایجادات کی صدی، اس میں بھی نہ تو موت سے بچنے کی کوئی دوائی کوئی سائنسدان ایجاد کر سکا اور نہ ہی ضعف سے، جو ایک توانا کو بزرگ اور پھر اس کے قوی اعضاء کو آہستہ آہستہ اس طرح بے اعتدال کر دیتا ہے، کہ وہ چاہنے کے باوجود اعتدال پذیر نہیں ہوسکتے۔ رہی بیماریاں تو تھیلسیمیا سے لے کر مینٹل ڈس آرڈر تک، کینسر سے لے کر پولیو اور ٹی بی تک، اس جدید دور میں بھی انسانوں کو نگلے چلے جا رہی ہیں اور نتیجہ آخر میں یہی تھما رہی ہیں، ’’میرے عزیزو تمام دکھ ہے‘‘۔ یہ تمام جو سراسر دکھ ہے، اس سے رہائی کیسے ہو؟ اس سوال کا جواب پیغمبروں، رسولوں، اللہ کے دوستوں اور خدا کی محبت میں ڈوب ڈوب ابھرنے والوں نے صرف ایک ہی دیا ہے۔ اللہ کی مخلوق سے محبت، اور اسے دکھ سے بچانے کی تدابیر۔ جو بڑھاپے، بیماری اور موت کی منزلیں ان پر آسان کردے اور انہیں آسودگی سے، تمام مراحل سے گزار دے۔ مگر کتنے لوگ ہیں ہمارے آس پاس، جو اس حقیقت کو پا چکے ہیں، اور روشنی کی قندیل پکڑ کر اندھیروں کو دور بھگانے کی سعی کر رہے ہیں؟ ویسے تو اندھے اور ضعیف کا ہاتھ پکڑ کر سڑک پار کرانے والا بھی ایک مسیحا ہی ہے، مگر وہ لوگ جو اپنی مسیحائی کو عام کرکے، مخلوقِ خدا کی خدمت میں ، تن من دھن سے لگے ہوئے ہیں، وہ گنتی کے ہی ہیں، جن میں ڈاکٹر امجد ثاقب کی مثال اب ایک ایسے پاور ہاؤس جیسی دکھائی دینے لگی ہے، جس کی روشنی دور دور تک خود کو پھیلا رہی ہے، پھیلاتی چلی جا رہی ہے۔

دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یارب

صرف میرا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں

اخوت ڈاکٹر امجد ثاقب کا لگایا ہوا ایک ننھا سا پودا ہی تھا جو اس وقت تناور درخت کی طرح دکھائی دیتاہے، وہ درخت جس کی شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’’باعزت اور پر مسرت زندگی ہر شخص کا بنیادی حق ہے، ’’اخوت‘‘ کی منرل مواخات یا بھائی چارے پر مبنی ایک معاشرہ ہے، جہاں بسنے والے ہر مرد اور عورت کو زندہ رہے اور ترقی کرنے کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ رنگ، نسل، جنس، عقیدہ اور مذہب کی کوئی تفریق ان کے راستے میں مزاحم نہ ہو سکے‘‘۔ اخوت نے سود سے پاک قرض حسنہ کے ذریعے 26 لاکھ ضرورت مند اور کم وسیلہ خاندانوں کی مدد کر کے، نہ صرف مائیکرو فنانسنگ کی ایک نئی مثال قائم کی ہے بلکہ دنیا پر یہ بھی ثابت کیا ہے کہ سود کے بغیر قرضے جاری کر کے بھی سرمایہ بڑھایا جا سکتا ہے اور اس سرمائے کو انسانوں کی فلاح کے لیے استعمال کر کے اپنے رب کو راضی کیا جا سکتا ہے، اخوت جس کا آغاز دس ہزار روپوں کی قلیل رقم سے ہوا تھا، اب اس کے قرضوں کا حجم 62 ارب سے تجاوز کر چکا ہے اور لاہور کی ایک کچی بستی رسول پارک سے شروع ہونے والا یہ فلاحی سلسلہ اب ملک کے 350 سے زائد چھوٹے بڑے شہروں میں پھیلا دیا گیا ہے، اخوت کے ذیلی پروگراموں میں ، اخوت یونیورسٹی، اخوت فیصل آباد انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (First)۔ اخوت کالج لاہور، اخوت کلاتھ بینک، اخوت ہیلتھ سروسز اور اخوت خواجہ سرا سپورٹ پروگرام سرفہرست ہیں۔ ’’دہشت ظلمت میں دیا ‘‘ کے نام سے ڈاکٹر امجد ثاقب نے ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کے تین حصے ہیں۔ پہلا حصہ سود اور ظلمت کی کہانیوں پر مشتمل ہے۔ دوسرے حصے میں ایک ایسے ادارے کا تذکرہ ہے جو روشنی کے دیئے سے کم نہیں۔ اور کتاب کا تیسرا حصہ پہلے دو حصوں کی تکمیل کرتا ہے اور غربت کا ایک واضح حل سامنے آتا ہے، وہ ہے ایثار، قربانی اور صدقہ۔ ڈاکٹر صاحب اس کے دیباچے میں لکھتے ہیں ’’اس امر میں کوئی دو آراء نہیں کہ معاشرے کے معاشی ڈھانچے کو تبدیل کیے بغیر دولت کی نامساوی تقسیم ختم نہیں ہو سکتی۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ڈھانچہ طاقت کے زور پر تبدیل ہو سکتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔ اس کام کے لیے اعلیٰ اخلاقی اقدار کے حامل کسی جامع عمرانی معاہدے Social Contractکی ضرورت ہے کیونکہ زبردستی چھیننے کے بعد بانٹنے کا عمل بھی رفتہ رفتہ انصاف سے دور ہو جاتا ہے اور استحصال زدہ طبقے خود استحصالی بن جاتے ہیں۔ دنیا میں اس وقت آٹھ ارب لوگ زندہ ہیں۔ اگربالائی دو ارب یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ نچلے د وارب کا ہاتھ تھامیں گے، یعنی ایک شخص ایک شخص کا، تو کیا غربت کم نہ ہو سکے گی؟ دشت ظلمت میں ایک دیا ، محض کتاب نہیں، سچی کہانیوں کا ایسا دلگداز مرقع ہے، جسے پڑھ کر معاشرے کا بے رحم چہرہ بھی دکھائی دیتا ہے اور محروم و پسماندہ طبقے پر ہونے والا جبر بھی۔ زیادہ کہانیاں ایسی ہیں جو سود کے خون چوس نظام اور اس کا شکار ہونے والے مجبور لوگوں کی ہیں۔ مثلاً ایک کہانی کا عنوان ہے ’’پینتیس ہزار کے بدلے چار لاکھ اٹھہترہزار‘‘ ۔ بیس ہزار اصل زر اور چوبیس ہزار سود اور شادی سود اور فاقے۔ اس کے علاوہ گھر بچاؤں یا ایمان۔ غربت تنہائی کا نام ہے۔ سود کی دہشت، سود یا رباء، بہن کی طلاق، خواب ٹوٹتے ہیں۔ کانچ کے ٹکڑے اور آنسو کے نام سے اس کتاب میں ایسے واقعات درج ہیں جو اسی معاشرے، جہاں ہم بستے ہیں، میں انسانوں پر گزرتے رہے، قریب تھا کہ وہ حالات کے جبر کے سامنے ہار جاتے مگر انہیں ناامیدی کی گھور تاریکی میں ایک دیا جلتا ہوا دکھائی دیا ، یہ اخوت کا دیا تھا، جس نے ان کے اردگرد پھیلی ہوئی تاریکی کو دور کر کے انہیں باعزت زندگی گزارنے کی راہ دکھائی، ان کا ہاتھ تھاما اور انہیں لے کر آگے بڑھ گیا۔ یہ لوگ جنہیں حالات کے جبر نے توڑ دیا تھا، وہ کیسے اٹھے، کیسے ہمت جمع کی اور کس طرح اخوت کے قرض حسنہ سے، چھوٹے موٹے کاروبار کا آغاز کیا، یہ کہانیاں انہی لوگوں کی ہیں جنہوں نے نہایت ایمانداری اور محنت سے نہ صرف کام کیا بلکہ قرض حسنہ کا ایک ایک پیسہ بھی اخوت کو لوٹایا اور بعد ازاں ڈونرز کی صف میں بھی جا کر کھڑے ہو گئے۔ لو گ پوچھتے ہیں یہ بے ایمان اور بد دیانت معاشرہ، اوپر سے لے کر نیچے تک لوٹ کھسوٹ اور ضمیر فروشی جس کا چلن ہے۔ آخر اتنی ایمانداری

اور دیانت سے اخوت کو قرضے کیسے لوٹاتا ہے؟ اس کے جواب میں ڈاکٹر امجد ثاقب نہایت پر تیقن لہجے میں زور دے کر کہتے ہیں۔ ’’یہ معاشرہ بددیانت نہیں ہے، یہ اچھے لوگوں کا معاشرہ ہے، ضرورت اس معاشرے کو اچھائی کی راہ دکھانے کی ہے۔ اور پھر ادارے اور اسے چلانے والی شخصیت کی حسن نیت پر اعتماد کہ ہم جہاں صدقات اور عطیات دے رہے ہیں، وہ ادارہ انہیں حسن خوبی کے ساتھ مستحقین تک پہنچا رہا ہے۔ اگر یہ اعتماد کسی فلاحی ادارے یا اس کو بنانے والی شخصیت پر قائم ہو جائے تو پھر خیر کا سلسلہ اتنا ہی دراز ہوتا ہے جتنا کہ آج اخوت کا دکھائی دے رہا ہے۔ چند ہی برسوں میں بلاشبہ اخوت پاکستان کا سب سے بڑا فلاحی ادارہ بن چکی ہے، جس کے تذکرے دیار غیر میں بھی عام ہیں۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی ہمہ جہت شخصیت ہر دم متحرک

ہے، نت نئے خیر کے منصوبے اور ان کی تیزی سے تکمیل۔ یہ اتنی محنت، لگن شوق اور سہولت سے خیر کے کام کرتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر توانائی کا بھی احساس ہوتا ہے اور اطمینان کا بھی۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اخوت کا یہ ننھا سا پودا پھیل کر برگد کے گیانی دھیانی درخت کے مانند ہو گیا، جس کے سائے میں ٹھنڈک بھی ہے اور تحفظ بھی۔ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کے ان گنت پہلو ہیں ، فاؤنٹین ہاؤس سے لے کر اخوت اور اس کے ذیلی پروگراموں تک پھیلی ہوئی ان کی ہمہ گیر شخصیت کا ایک رنگ ان کا حسن تخلیق بھی ہے جس کے بارے میں نہایت اعتماد سے کہہ سکتی ہوں کہ ان کی نثر اتنی جاندار اور تخلیقیت کے حسن سے لدی ہوئی ہے کہ اگر وہ صرف ادیب اور کالم نگار ہی ہوتے تو ان کی شہرت کا ڈنکا چار سو بج اٹھتا، مگر انہوں نے قلم کے ہنر کو بھی خیر کے کاموں کے لیے استعمال کر کے اپنے حسن عمل کو دو آتشہ کر دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ وہ دامے، درمے، قدمے اور سخنے انسانیت کی فلاح اور خیر کے راستے پر آگے بڑھتے جا رہے ہیں اور انہیں اس ضمن میں کسی صلے اور ستائش کی تمنا نہیں، صرف یہ طلب کہ یہ معاشرہ غربت سے پاک ہو جائے اور مواخات مدینہ کی مثال بن جائے۔ خدا انہیں ، ان کے ادارے اور ان کے ساتھیوں کو جزائے خیر دے۔

 


ای پیپر