زکوٰۃکا نظام اجتماعیت کا فہم پیدا کرتاہے!
02 جون 2018 2018-06-02

اے ایمان والو! اللہ کا ٹھیک ٹھیک تقویٰ اختیار کرو اور دنیا سے نہ رخصت ہو مگر اس حال میں کہ تم "مسلم"ہو اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو اور ٹولی ٹولی نہ ہو جاؤ۔اور (دیکھو) کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو واضح ہدایتیں پانے کے باوجود ٹولیوں میں بٹ گئے اور اختلاف میں مبتلا ہو گئے"(آل عمران:۲۰۱-۵۰۱)۔ یہ آیتیں۳ہجری میں نازل ہوئی تھیں۔یہ وہ زمانہ ہے جب امت مسلمہ کی اجتماعی اور سیاسی زندگی کی تاسیس و تعمیر ابتدائی مرحلوں سے گزر رہی تھی۔عین اس زمانہ میں یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اقامت دیں اور نظام مومنین کا ایک مختصر مگر جامع ربانی پروگرام لے کر آئیں۔ان آیات میں دو باتیں بہت واضح انداز میں بیان کی گئیں ہیں۔۱) تقویٰ کا التزام اور ۲)مضبوط و منظم اجتماعیت۔اقامت دین کے معنی ہیں کہ اللہ کے دین کو زمین پر قائم کر دیا جائے۔ سب سے پہلے فرد اپنی ذاتی زندگی کے اعمال میں اس کا اہتمام کرے ساتھ ہی معاشرہ میں اس کے قیام کی سعی و جہد کی جائے۔اس کے لیے جو بنیادی صفت لازم ہے وہ اللہ کا "تقویٰ"اختیار کرنا ہے ،ہر آن اور ہر لمحہ "مسلم"بن کر زندگی گزارنا ہے۔تقویٰ کا پورا عملی مفہوم جو قرآن کی زبان میں بیان ہوا ہے اس سے شمہ برابر بھی کم نہیں کہ اللہ کے تمام احکامات کا ٹھیک ٹھیک اتباع کیا جائے۔اس کے کسی امر کو چھوڑنے سے بھی ڈرا جائے اور اس کے کسی نہی کے کر گزرنے سے بھی خوف کھایا جائے۔ اسی طرح مسلم کے معنی بھی قرآنی آیات کی روشنی میں سچے فرماں بردار ،مخلص اور اطاعت شعار کے ہیں۔یعنی مسلم وہ شخص ہے جس نے احکام خداوندی کے سامنے اپنی گردن رضاکارانہ مکمل طور پر جھکا دی ہو۔اسلام جن عبادات کی طرف بندہ مومن کو راغب کرتا ہے اس کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ وہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے والا مسلم بندہ بن جائے۔

زکوٰۃ اور نماز دین کے ایسے ارکان ہیں جن کا ہر دور میں اور ہر مذہب میں آسمانی تعلیمات کے پیروکاروں کو حکم دیا گیا ہے۔یہ دونوں فریضے ایسے ہیں جو ہر نبی کی امت پر عائد ہوتے رہے ہیں ۔اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے نبی آخری الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا خاتمہ اور دین کی تکمیل کرتے ہوئے بھی ان احکامات کو جاری رکھا گیا۔ قرآنِ حکیم میں حضرت ابراہیم، ان کے بیٹے حضرت اسحاق اور ان کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"اور ہم نے انہیں وحی کے ذریعہ سے نیکیوں کے کرنے ، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم دیا اور وہ ہمارے عبادت گزار بندے تھے" (الاانبیاء:۳۷)۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے

میں فرمایا:"وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے تھے اور وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھے"(مریم:۵۵)۔ قرآن کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا:"میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور نبوت سے سرفراز کیا ہے اور میں جہاں کہیں بھی ہوں، مجھے با برکت بنادیا ہے اور جب تک میں زندہ ہوں، مجھے نماز اور زکوٰۃ کی وصیت فرمائی ہے"(مریم:۰۳-۱۳)۔پھر اسی طرح قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ اللہ رب العزت نے بنی اسرائیل کو جن باتوں کے کرنے کا حکم دیا تھا، ان میں یہ حکم بھی تھا :"اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو"(البقرہ:۳۴)۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے :"اگر تم نماز قائم کرتے رہے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے اور میرے رسولوں پر ایمان لاتے رہے اور ان کی مدد کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ کو بہتر قرض دیتے رہے تو یقیناًمیں تمہاری برائیاں تم سے مٹادوں گا اور تمہیں ان جنتوں میں لے جاؤں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں "(المائدہ:۲۱)۔یہ تمام آیات اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پچھلی امتوں پر بھی نماز اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، پھر جن لوگوں نے اس میں تحریف نہیں کی اور اس کے احکامات پر عمل کرتے رہے ، وہی مسلم کہلائے اور انہی کو آخرت کی ہمیشگی نصرت و کامرانی کی بشارت دے دی گئی۔لیکن جنھوں نے اس کے برخلاف عمل کیا ،اپنی مرضی سے دین کے کچھ حصے پر عمل تو کیا اور کچھ کو چھوڑ دیا تو ایسے لوگ خسارے میں رہیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے احکامات پر اس طرح عمل نہیں کیا جس طرح ایک مسلم بندہ ہر حکم کی تعمیل میں سر اطاعت جھکاتا ہے یعنی ہر حکم پر عمل کرتا ہے ۔یہی واقعہ جب صدیق اکبرؓ کے سامنے پیش ہوا تو انھوں نے ایسے مسلمانوں سے جہاد کیا ، یہاں تک کہ وہ طائب ہوگئے اور نماز اور زکوٰۃ دونوں کو ادا کرنے والے بن گئے۔

لغوی اعتبار سے زکوٰۃ کے معنی بڑھوتری اور اضافے کے ہیں اور دوسرے معنی پاک و صاف ہونے کے ہیں۔شرعی اصطلاح کے مطابق زکوٰۃ میں دونوں ہی مفہوم پائے جاتے ہیں۔زکوٰۃ کی ادائیگی سے بقیہ مال پاک صاف ہو جاتا ہے اور عدم ادائیگی سے اس میں غرباء و مساکین کا حق شامل رہتا ہے جس سے بقیہ مال ناپاک ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید میں عموماً جہاں بھی نماز کا ذکریعنی اقامت صلوٰۃ کا حکم آیا ہے، زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم بھی ساتھ ساتھ ہے۔ دودرجن سے زائد مقامات پر قرآن حکیم میں اقیمو االصلاۃ کے ساتھ واتواالزکوٰۃ کا حکم دیا گیا ہے۔قرآن حکیم کے اس اسلوبِ بیان سے واضح ہو جاتا ہے کہ جس قدر دین پر عمل کرتے ہوئے نماز کی اہمیت ہے ، اتنی ہی اہمیت زکوٰۃ کی ادائیگی اور اس کے قیام کی ہے ۔دونوں ہی عبادتیں اجتماعی سعی و جہد کا تصور پیش کرتی ہیں اور دونوں ہی فرد واحد کی انفرادی عبادت کی بجائے اجتماعی عبادت کی قائل ہیں۔بندہ مومن نماز قائم کرنے اور اس کو جماعت کے ساتھ ادا کرنے کے لیے جدوجہد کرے لیکن وہ اس بات سے واقف نہ ہو کہ زکوٰۃ کے نظام کو برپا کرنا ، لوگوں سے وصول کرنااور اس کے لیے نظام قائم کرنا بھی لازمی جزہے ، تو یہ بات افسوس ناک ہوگی ۔پھر جس طرح ترک نماز انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہے ٹھیک اسی طرح زکوٰۃ بھی شریعت میں اتنا ہی اہم مقام رکھتی ہے کہ اس کی ادائیگی سے انکار، اعراض و فرار مسلمانی کے زمرے سے نکال دینے کا باعث بن جاتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ خلیفہ راشد،صدیق اکبر حضرت ابوبکرؓ نے اپنے دور خلافت میں ان لوگوں سے قتال کیا، جنھوں نے نماز اور زکوٰۃ میں تفریق کرکے زکوٰۃ کی ادئیگی سے انکار کیا تھا۔حضرت فاروق ؓ نے فرمایا:"اللہ کی قسم! اصل میں اللہ نے ابو بکرؓ کا سینہ (جہادکے لیے) کھول دیا، تو میں نے جان لیا کہ وہی (موقف ابوبکرؓ) حق ہے"اور اس طرح گویا اس امر پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع ہو گیا کہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے قولاً یا عملاً انکار، اسلام سے خروج کا باعث ہے۔اللہ کے رسولؐ فرماتے ہیں :"اللہ نے زکوٰۃ اسی لیے فرض کی ہے کہ وہ تمہارے بقیہ مال کو پاک کر دے"(سنن ابو داؤد)۔لہذا جس طرح نماز برائیوں اور فحش کاموں سے انسان کو پاک و صاف کرتی ہے اور اس کے قلب کی تطہیر کرتی ہے ٹھیک اسی طرح انسان کے مال کو پاک کرنے کا ذریعہ زکوٰۃ ہے۔ وہ مال جو اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے خود پر ،اور اپنے اعزا و اقارب ودیگر ضرورتوں کے لیے پر خرچ کیا جاتاہو، اس کو استعمال کرنے سے پہلے پاک کر لینا اور پاک مال کو اپنے لیے اور دوسروں کے لیے خرچ کرنانہایت ضروری ہے۔قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ بارہا اس جانب متوجہ کرتا ہے کہ اے مومنو! اللہ کی بندی اختیار کرو ۔اس کے لیے صبر اور نماز سے مدد لو، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو۔نماز اور زکوٰۃکے نظام پر ہم جس قدر بھی غور کریں یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ ایک طرف یہ عبادات اللہ سے قرب کا ذریعہ بنتی ہیں اور دوسری طرف ہماری نظر میں جوغیر اہم چیزیں اہم بن گئی ہیں ان کی اصل حیثیت واضح کرتے ہوئے اللہ کے احکام پر کاربند رہنے میں مدد کرتی ہیں۔ نماز ہو یا زکوٰۃ ، یہ دونوں ہی عبادات بندہ مومن کو اجتماعی زندگی کی دعوت دیتی ہیں۔ ایسی اجتماعیت جو منظم بھی ہو اور مضبوط بھی۔پھر یہ احکام کہ: " اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو اور ٹولی ٹولی نہ ہو جاؤ"یہی ثابت کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو اجتماعی زندگی گزارنی چاہیے اور ان کا ہر عمل اجتماعی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے انجام دیا جانا چاہیے!


ای پیپر