آج کی افطار۔۔۔
02 جون 2018 2018-06-02

دوستو! آج اتوار ہے۔ آج بھی ہمارے کئی دوستوں کا ’’ویکلی آف‘‘ والا روزہ لازمی ہوگا۔ جی ہاں، یہ وہی لوگ ہیں جو جمعہ کے جمعہ اہتمام سے نماز پڑھتے ہیں اور پورے ہفتے کی نمازیں معاف سمجھ لیتے ہیں اسی طرح ، اتوار کی تعطیل کے روز ’’ روزے دار‘‘ بن کر پورے ہفتے کے روزے بخشوا لیتے ہیں۔چونکہ چھٹی والے دن روزہ رکھتے ہیں تو پھر اس کے کچھ خاص اہتمام بھی کرتے ہیں۔ لیکن ہم آج کی افطار کے حوالے سے کچھ اہم باتیں کرنے سے پہلے آپ کو کچھ اہم ’’اطلاعات‘‘ دیتے چلیں۔

کہاجاتا ہے کہ ۔ کراچی میں کبھی سمندری طوفان نہیں آسکتا کیونکہ وہاں غازی کا مزار ہے۔ اسی طرح اندرون سندھ کبھی ترقی کا طوفان نہیں آسکتا کیونکہ وہاں بھٹو کا مزار ہے۔کراچی ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، کراچی والے یہ کہنے پرمجبور ہوگئے ہیں کہ ، کراچی والوں نے الگ ’’صوبہ‘‘ مانگا تھا، الگ ’’ سورج‘‘ نہیں مانگا تھا۔ایسی ہی ایک سڑی ہوئی گرمی میں جب کراچی کے کینٹ اسٹیشن پر ایک مسافر ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے ٹرین سے اتراتو سامنے کھڑے شخص سے پوچھ بیٹھا۔مسجد کہاں ہے؟۔ اس شخص نے الٹا سوال کرڈالا۔کون سی؟ دیوبندی والی، بریلوی والی، اہل حدیث والی، اہل تشیع والی؟ وہ مسافر شدید پریشانی کے عالم میں ہونقوں کی طرح اس شخص کو دیکھنے لگا اور بیساختہ بول اٹھا۔ بھائی اے سی والی۔ اے سی والی مسجد ؟؟؟

پرانے زمانے کا قصہ ہے، ایک آدمی ایک بادشاہ کے دربارمیں ملازمت کے لئے گیا، بادشاہ نے صلاحیت پوچھی،وہ کہنے لگا۔ میں باتوں کو ’’پیوند‘‘ لگاسکتا ہوں۔بادشاہ کوپیوند والی بات کی ’’ککھ‘‘ سمجھ نہیں آئی، لیکن آدمی کو خوش طبع سمجھ کر ملازمت دے دی۔ایک دن بادشاہ کسی مہمان کے ساتھ اپنی مہارت کے قصیدے گا رہاتھا،کہنے لگا۔میں ایک دن شکار کے لئے گیا، ایک ہی تیر سے ہرن اور اڑتے ہوئے کبوتر کا شکار کیا۔مہمان نے دانتوں نے انگلی دبالی، پوچھ بیٹھا۔یہ کیسے ممکن ہے کہ ہرن اور اڑتے ہوئے کبوتر کو ایک ہی تیرسے شکارکرلیا؟۔ بادشاہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا،پیوند لگانے والاآگے بڑھا اور کہا کہ ،میں بھی اس موقع پر موجود تھا،ہرن کو ایک اونچے پتھر پر اپنے پیر کے ساتھ خارش کرتے ہوئے میں نے دیکھا،بادشاہ سلامت نے تیر پھینکا، تیر ہرن کے پاؤں اور منہ سے نکل سیدھا آگے گیا اور آگے ایک اڑتے ہوئے کبوتر کو لگا۔مجلس برخاست ہوئی، بادشاہ بہت خوش ہوا، پیوندکار کو انعام کے لئے بلایا، لیکن پیوندکار ہاتھ میں استعفا لئے حاضر ہوا۔بادشاہ نے پوچھا، تم کیوں جارہے ہو،ہمیں تو تمہاری بڑی ضرورت ہے۔اس نے کہا ،بادشاہ سلامت میں باتوں کو پیوند لگاتا ہوں اتنی بڑی بڑی چادریں نہیں لگا سکتا۔۔۔اب اس واقعہ کو ایک کروڑ نوکریوں سے جوڑ کو قطعی سیاسی نہ بنایا جائے؟؟۔نہ ہی اس قصے کا تعلق لوڈشیڈنگ سے ہے ، جوملک میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے بڑے بڑے دعوے کررہے تھے لیکن حکومت کے آخری دن جاتے جاتے کہہ جاتے ہیں کہ ، اب لوڈشیڈنگ جانے اور آپ جانیں۔ہم تو حکومت سے جارہے ہیں۔

چلیں اب اپنے موضوع پہ آتے ہیں۔یعنی آج کی افطار پر۔علاقے کی سب سے بڑی محل نما کوٹھی کے بڑے اور سب سے ٹھنڈے کمرے میں سیٹھ صاحب ویڈیو کال کرنے میں مصروف تھے۔یہ کال مدینہ مسجد نبوی میں کی جا رہی تھی۔جہاں آج سیٹھ صاحب نے اپنے والد، والدہ اور دوسرے قریبی مرحومین کے ایصال ثواب کے لئے۔کاروبار میں برکت کے لئے۔صحت و سلامتی کے لئے۔ ۔مسجد نبوی میں پانچ سو افراد کی افطاری کرانا تھی۔وہ ویڈیو لنک کے ذریعے انتظامات کا جائزہ لے رہے تھے۔ ۔وہ خوش تھے، اس ثواب کا اندازہ کر کے جو اس افطاری سے انہیں ملنے والا تھا۔علاقے میں واہ واہ، بونس میں تھی۔ابھی افطاری ہوئی ہی نہیں تھی کہ ہر جگہ ان کی سخاوت کے چرچے تھے۔ایک دو بندوں کی افطاری کرانی بھی مشکل ہوتی ہے اور سیٹھ صاحب نے مدینہ سے دور رہ کر مدینہ میں پانچ سو افراد کی افطاری کرائی ہے۔ماشاء اللہ جی، ماشاء اللہ۔۔۔ ۔اسی بڑی سی کوٹھی سے دوفرلانگ کے فاصلے پر، مٹی، پتھر، گارے اور لکڑی سے بنے ،بے ہنگم مکان کے اونچے نیچے صحن میں بیٹھی اماں جنتے ،افطاری کا سامان تیار کر رہی تھی۔کجھور مہنگی تھی، اس کی جگہ گڑ تھا، جو سال کے سال، رشتہ داروں سے آتا تھا اور اماں محفوظ کر لیا کرتی تھی، اس کے علاوہ تخم ملنگا ملے پانی میں لیموں کی جگہ، نمک ذرازیادہ کر دیا تھا۔فاضل چاچا پاس ہی چھلنگا چارپائی میں بیٹھا تقریبا دسویں بار پوچھ رہا تھا۔پانی ٹھنڈا ہوا کہ نہیں۔ ؟۔اماں نے ہاتھ پانی کی بالٹی میں ڈالا اور بولی۔ہاں ٹھنڈا ہے، سارا دن چھاؤں میں پڑا رہا، ٹھنڈی ریت پر، اوپر بوری تھی گھڑے پر ، اب بھی ٹھنڈا نہیں ہو گا کیا۔تجھے لگتا ہے آج روزہ کچھ زیادہ ہی لگ گیا ہے۔ چاچافاضل نے جواب دیا، ہاں بھلئے لوک، آج تو پیاس سے دم نکلا جا رہا ہے آج برف نہیں آئی کہیں سے۔؟اس بار اماں جنتے کی جگہ بڑا لڑکا بول اٹھا۔ابا گیا تھا میں، آنٹی ریحانہ کے گھر پر وہ کہتی ہیں کہ بجلی ہی نہیں برف کیا بنے۔ !چاچا فاضل لڑکے کی بات سن کر صبر کے گھونٹ پی کر رہ گئے، سنا ہے صبر کے گھونٹ ’’پینے‘‘ سے روزہ ٹوٹتا ہے نہ مکروہ ہوتا ہے۔ لڑکا کچھ دیر بعد ہی پھر بول اٹھا۔ابا۔چاچانے جواب دیا۔ہاں پتر۔لڑکا کہنے لگا۔ابا ، آج وڈے چوہدری جی نے مکے مدینے میں افطاری کرائی ہے۔ پانچ سو بندوں کی ۔بوڑھا فاضل حیران سا ہوا۔ مکے مدینے۔۔۔ ؟؟ادھر کوئی نہیں تھا۔ افطاری کرنے والا۔ ؟۔لڑکے اپنے باپ کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بتانے لگا۔ابا، وہاں ثواب زیادہ ہوتا ہے ناں ۔ وہ وڈا گھر ہے ناں رب کا۔ ہمیں بھی کبھی کرا دیتے تو۔ثواب ہی ہونا تھا۔ ۔چاچافاضل بچے کی بات کاٹ کر حسرت سے بولا۔برف ہی دے دیتے۔اماں جنتے نے بیچ میں لقمہ دیا۔خدا خوفی کرلو تم لوگ کچھ۔لڑکے نے اماں کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا، پر ابا ادھر ثواب کم ہوتا ہے ناں؟۔بوڑھا فاضل کہنے لگا۔ پتہ نہیں پتر،ثواب تو دینے والا جانے،مولوی صاحب تو کہتے ہیں کہ قریب والے کا حق زیادہ ہوتا ہے۔

کالم کی دُم۔۔۔جب آپ آج اپنے گھر افطاری کی تیاری کریں اور دسترخوان لگانا شروع کریں تو پہلے ایک دلچسپ کام کرلیں۔ تمام پلیٹوں میں سے تھوڑے سے پکوڑے نکالیں، کچھ کھجوریں لیں، اور میسر پھلوں کے چند ٹکڑے نکال کر ایک مزید پلیٹ بنا لیں۔۔۔ اور پھر اس پلیٹ کو گلی کے اس گھر میں دے آئیں۔ جس کے متعلق اندازہ ہو کہ ایسی افطاری ان کے بچوں کوپتہ نہیں ملی بھی ہوگی یا نہیں۔ اس میں آپ کے حصے کی خوراک کا ذرا بھی نقصان نہ ہو گا۔۔۔ مگر کسی دوسرے گھر میں چند معصوم پھولوں کے چہرے کھل جائیں گے۔اور آپ کے روزے کا اجر کئی گنا بڑھ جائے گا۔بس ایک بار کر کے دیکھیں۔

اب چلتے چلتے آخری بات۔جب بندوں سے کچھ مانگا جائے تو سر کو نیچے جھکانا پڑتا ہے۔ اور جب اللہ پاک سے کچھ مانگا جاتا ہے تو سر کو اوپر اْٹھا کر مانگا جاتا ہے۔ کسی بندے کا ڈر ہو تو ہم اْس سے دور بھاگا کرتے ہیں۔ اور جب اللہ پاک کا ڈر پیدا ہو تو ہم اْس کے قریب ہو جاتے ہیں۔ واہ میرے مولا، تیری کرم نوازیاں۔


ای پیپر