غیر ریاستی عناصر اور سیاسی کنٹرول
02 جون 2018 2018-06-02

جن قومی معاملات میں مقتدر حلقوں نے بلنڈرز کیے ہوں اور ملک ان بلنڈرز کو بھگت رہا ہو۔ کیا انہیں قومی راز کہہ کر چھپا لینا چاہیے؟ اور جو ان بلنڈرز کو افشاء کرے کیا وہ غدار ہے ؟ ہونا تو یہ چاہیے کہ بلنڈرز کرنے والوں کی پکڑ ہونی چاہیے۔ ان پر بحث ہونی چاہیے تاکہ آئندہ ان بلنڈرز / غلطیوں سے بچا جا سکے یا کم از کم نئی غلطیوں کی گنجائش نکل سکے۔ یہاں تو یہ ہو رہا ہے۔ وہی ستر سال کی غلطیوں کو بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ پلاننگ بھی وہی ہوتی ہے۔ طریق کار بھی وہی ہے اور نتائج بھی ویسے ہی برآمد ہوتے ہیں۔ اور ہر دور کی اسٹیبلشمنٹ بھی پچھلی کا چربہ ہوتی ہے۔ ہمارے خیال میں چند اداروں کو سیاسی معاملات اور فیصلوں میں اَپ ڈیٹ کرنے کی بہت سخت ضرورت ہے۔

اب دیکھیں اکتوبر 1947ء میں پہلی بار آپریشن گلمرگ یعنی کشمیر کی آزادی کی جنگ میں نان اسٹیٹ ایکٹرز یعنی غیر ریاستی عناصر استعمال کیے گئے جبکہ باقاعدہ فوج کو لاعلم رکھا گیا۔ فاٹا کے تقریباً بیس قبائل مثلاً آفریدی ، محسود ، وزیر ، دورز، بھٹانی، خٹک، طوری، سواتی اور دیر وغیرہ کو خورشید انور کی سربراہی میں کشمیر میں لڑوایا گیا۔ کشمیر مکمل آزاد نہ کروایا جا سکا۔ گلگت، سکردو اور موجودہ آزاد کشمیر ہمیں مل گیا جبکہ تین چوتھائی کشمیر پر بھارت نے راجہ ہری سنگھ کے ذریعے الحاق کرکے قبضہ کر لیا۔

اچھا پھر جنرل ایوب نے یہی غلطی اگست 1965ء میں آپریشن جبرالٹر کا کشمیر میں آغاز کرکے دہرائی۔ اس بار پھر اےئر فورس اور بحریہ کو لاعلم رکھا گیا۔ ایئر چیف اصغر خان نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ جنرل ایوب کو غلط فہمی تھی۔ آپریشن جبرالٹر کے نتیجے میں کشمیر آزاد ہو جائے گا اور پاک بھارت جنگ نہیں ہو گی۔ تاریخ آپ کو معلوم ہے۔

مشرقی پاکستان میں عوامی مسلم لیگ کو اقتدار سونپنے کے بجائے 25 مارچ 1971ء میں آپریشن سرچ لائٹ شروع کر دیا گیا اور الشمس اور البدر تنظیمیں بنائی گئیں۔ نتیجے میں پاکستان دولخت ہو گیا۔ جنرل مشرف نے پھر یہی غلطی مئی 1999ء میں آپریشن کارگل شروع کرکے کی۔ ایک بار پھر یہ فیصلہ صرف چار جرنیلوں نے کیا۔ ایئر فورس اور بحریہ کو لاعلم رکھا گیا۔ جب بھارت نے فل سکیل جنگ کی دھمکی دی تو وزیراعظم نواز شریف کو امریکہ بھیجوا کر فیس سیونگ ایگزٹ حاصل کیا گیا۔ جنرل درانی نے اپنی حالیہ کتاب میں کارگل کی حقیقت بھی بیان کر دی ہے۔

جنرل ضیاء الحق نے غیر ریاستی عناصر کے استعمال میں آخیر کر دی۔ کشمیر میں جہاد کے لیے لشکر طیبہ 1985ء اور حرکت المجاہدین اسلامی 1984ء میں کھڑی کی گئیں۔ اینٹی شیعہ سپاہ صحابہ 1985ء اور اس کے ساتھ مقابلے کے لیے سپاہ محمد وجود میں آئیں۔ افغانستان میں آپریشن سائیکلون کے لیے مجاہدین کے سات گروپس تیار کیے گئے اور خالصتان کے سکھوں کو سپورٹ کیا گیا اور کراچی کی سیاست کنٹرول کرنے کے لیے مہاجر قومی موومنٹ تخلیق کی گئی۔90ء کی دہائی میں جنرل بیگ نے چھ ملکوں کو ایٹمی ٹیکنالوجی دینے کی پالیسی بنا لی تاکہ امریکہ کا مقابلہ کیا جا سکے۔ جب افغانستان میں مجاہدین گروپ آپس میں لڑ پڑے تو طالبان پیدا کرکے وہاں ان کی حکومت قائم کروا دی۔ جب امریکہ نے نائن الیون کے بعد دباؤ ڈالا تو جنرل مشرف نے اچھے طالبان اور برے طالبان کا نظریہ پیش کر دیا۔ فیس سیونگ کے لیے ڈاکٹر قدیر سے معافی منگوائی۔ لشکر طیبہ پر پابندی لگائی تو لشکر جھنگوی سرگرم ہو گیا۔ جیش محمد شروع ہو گئی۔ جماعۃ الدعوۃ بن گئی اور اب جماعۃ الدعوۃ سے ملی مسلم لیگ کی پیدائش ہو چکی ہے۔ لبیک والے جڑ پکڑ رہے ہیں۔ طالبان میں سے تحریک طالبان پاکستان کا ظہور ہو گیا اور پاکستان کے ستر ہزار شہری مارے گئے۔ ہم نے 1947ء میں جن غیر ریاستی عناصر کا استعمال شروع کیا۔ آج ہم ان کی تیسری نسل سے فاٹا میں لڑ رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی ، لشکر جھنگوی ، جنداللہ ، حقانی نیٹ ورک ، جیش محمد، جماعۃالدعوۃ ، جماعت الاحرار کے خلاف کبھی آپریشن انڈیورنگ فریڈم ، کبھی آپریشن ضرب غضب ، کبھی آپریشن رد الفساد شروع کرتے ہیں اور لبیک اور ملی مسلم لیگ کے نام سے نئے گروپ تشکیل دیتے ہیں۔ چالیس سال پرانی پالیسیوں کو کوستے ہیں اور وہی پالیسیاں جاری رکھتے ہیں۔

اچھا امریکہ کے ساتھ ہمارے فوجی آمروں کا معاملہ بھی ایک جیسا ہے۔ جنرل ایوب کولڈ وار میں امریکہ کے اتحادی بنے اور امریکہ نے 1965ء کی جنگ میں ہماری امداد بند کر دی اور ایوب کو فرینڈز ناٹ ماسٹرز جیسی کتاب لکھنی پڑ گئی۔ جنرل یحییٰ نے امریکہ کے چین کے ساتھ تعلقات استوار کروانے لیکن ساتواں بحری بیڑا کبھی نہ پہنچ پایا۔ جنرل ضیا الحق نے پہلے افغان وار میں امریکہ کا ساتھ دیا لیکن کشمیر پر امریکی سپورٹ حاصل نہ کر سکے۔ جنرل مشرف نے امریکی دباؤ میں پوری پالیسی تبدیل کر دی لیکن پاکستان پر سٹیٹ سپانسرڈ دہشت گردی کا الزام نہ دھلوا سکے اور اب سی پیک کا معاملہ تنازع کی وجہ بنا ہوا ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے۔ غیر ریاستی عناصر اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کی میں نے مختصر تاریخ بیان کر دی لیکن سیاسی معاملات میں بھی ہماری غلطیوں کا تسلسل جاری ہے۔ جنوری 1965ء کے صدارتی انتخاب میں جنرل ایوب نے جس دھاندلی اور جوڑ توڑ کا آغاز کیا تھا۔ 1971ء کے انتخابات میں جنرل یحییٰ نے وہی غلطی کی۔ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں جنرل ضیاء الحق نے ایلیکٹ ایبلز کا تحفہ اس ملک کو دیا۔ یہ ایلیکٹ ایبلز تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر اسٹیبلشمنٹ کا ہتھیار بنے ہوئے ہیں۔ 2002ء میں مسلم لیگ ق، 2007ء میں پیپلز پارٹی ، 2013ء میں مسلم لیگ ن اور اب تحریک انصاف۔

اس مختصر سی تاریخ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے۔ ہم جان سکیں یہ غیر ریاستی عناصر کا معاملہ ہو۔ سیاسی جوڑ توڑ ہو یا امن اور جنگ کی صورت حال ہو۔ ہم انہی پرانی ٹیکٹس پر عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس طریق کار اور پالیسیوں نے اگر ہمیں پہلے فائدہ نہیں پہنچایا تو آئندہ کیسے فائدہ ہو گا۔ اگر ہم اپنا ملک دولخت کروا چکے ہیں۔ اپنے ہی لیڈر بھٹو کو پھانسی لگا چکے ہیں۔ بے نظیر بھٹو اور بگٹی کو قتل کروا بیٹھے ہیں۔ دہشت گردی کے ہاتھوں یرغمال بنے ہیں۔ معاشیات اور معاشرہ تباہ اور تقسیم در تقسیم ہے تو کم از کم اب ہی اپنے طور طریقے ٹھیک کر لیں اور کچھ نہیں تو کچھ غلطیوں میں ہی جدت پیدا کر لیں۔ وہی پرانے بلنڈرز دہراتے جا رہے ہیں۔ اب نوازشریف کا خاتمہ نظر میں ہے۔ تو ایلیکٹ ایبلز کے ذریعے پھر سے سیاست پر قبضہ کرنے کے پلان بن رہے ہیں۔ آخر کب تک ؟


ای پیپر