ہندوستان اور پاکستان کے خفیہ والوں کا مشترکہ ’کھڑاک‘
02 جون 2018 2018-06-02

جب سے پاکستان کے ISIکے سابق سربراہ جنرل اسد درانی اور ہندوستان کی خفیہ ایجنسی RAWکے سربراہ اے ایس دلت اور ادیتا سنہاکی مشترکہ کتابChorinicles of Spies--RAW,ISI and Illussion of Peace Theچھپی ہے تو جیسا کہ امید تھی اس نے تہلکہ مچا دیا ہے۔ دراصل یہ کتاب ایک مکالمہ ہے جو کہ ایک طویل عرصہ پر محیط ہند پاک ٹریک ٹو کے سلسلہ میں دونوں سربراہوں کے درمیان ہونے والے مکا لمہ پر مشتمل ہے اور جس کا اہتمام ایک ادیتا سنہا نے کیا ۔طریقہ یہ اپنایا گیا کہ وہ دونوں سربراہوں سے سوال کرتا اور پھر ان کے جوابات کو ضبط تحریر میں لاتا۔

اور اس طرح اسے ایک کتابی شکل میں چھاپ دیا گیا ہے۔اس کتاب کی Launchingدلی میں ہوئی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جنرل درانی صاحب کو اس میں شرکت کا ویزا نہیں دیا گیا۔ مگر انہوں نے سکائپ کے ذریعہ اس فنکشن میں شرکا سے خطاب کیا اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔انہوں نے مزاحاً کہا کہ ہندوستان کی سرکار نے انہیں ویزا نہ دے کر ان پر احسان کیا ہے اور ’غداری‘ کے الزام سے بچا لیا ہے۔ کیونکہ کتاب کی باقاعدہ launchingسے پہلے کہ اس کا pdfانڑنٹ پر آگیا تھا اور پڑھنے والوں نے اس کو نہ صرف پڑھ لیا تھا بلکہ اس پر تبصرے بھی کرنا شروع کر دئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پیر کو فوج کے تعلقات عامہ کے شعبہ کے مطابق جنرل درانی کو اپنا نقطہ نظر بتانے کے لئے طلب بھی کر لیا گیا ہے!

اب ہر ایک کا اس کتاب کو دیکھنے اور پرکھنے کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے۔ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ اس کتاب کے پیچھے نواز شریف اور وطن دشمن،فوج دشمن لابی کا ہاتھ ہے خاص کر وہ اس کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس کتاب کی اشاعت اس وقت ہوئی جب کہ نواز شریف کا احتساب عدالت میں بیان سامنے آیا۔وہ جنرل اسد درانی کو اس وطن دشمن سازش کا حصہ قرار دیتے ہیں۔’دیکھیں کیا گذرے ہے قطرے کہ گوہرہونے تک‘۔ اب ایک دوسرا نقطہ نظر ہے جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ اس ایک خطہ میں خاص کر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان امن اور اچھے تعلقات قائم کرنے کی ایک بڑی اور وسیع کوشش کا ایک حصہ ہے۔

دنیا میں مختلف ممالک کے درمیان مسائل اور جگھڑوں کے حل کے لئے عام آدمیوں کی نظر سے دور خاموشی سے بات چیت کی جاتی ہے اور جب وہ کسی نتیجہ پر پہنچ جاتی ہے تو اس کو عام کردیا جاتا ہے اور بعض صورتوں میں تو عوام کو اصل حقایق کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ اس کی ایک مثال کئی دہائیوں تک چین اور امریکہ کے درمیان جنیوا میں ہونے والے ہفتہ وار خفیہ مذاکرات ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان بھی ظاہری اور خفیہ طریقہ سے مسائل کا حل ڈھونڈنے کی خاطر مختلف طریقوں سے مختلف کوششیں ہوتی رہی ہیں اور ہو رہی ہیں۔دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیر ملتے رہتے ہیں۔ دنیا اس لئے بھی پریشان ہے کہ پاکستان اور ہندوستان دونوں ایٹمی ہتھیار رکھتے ہیں اور بعض دانشوروں کا یہ پختہ خیال ہے کہ اگر آج کی دنیا میں کہیں ایٹمی جنگ ہو سکتی ہے تو وہ یہی خطہ ہے۔

گو مجھے ذاتی طور پر دونوں سربراہوں کے بعض خیالات سے اختلاف ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس کوشش کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ جو تجاویز انہوں نے حالات کی بہتری کے لئے دیں ہیں وہ کوئی نئی نہیں ہیں بلکہ اس سے پہلے بہت سارے پلیٹ فارمز پر دی جا چکی ہیں مگر برف اب تک نہیں پگلی۔۔۔یہ نہائت دکھ اور کرب کی بات ہے کہ پاکستان کے اندورونی سیاسی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے RAWکے سابق سربراہ نے یہ تجویز دی ہے کہ پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کو ہندوستان بلایا جائے۔ دوسری کتابوں کی طرح یہ بھی منیاری کی دکان ہے ہر ایک کو اپنے مطلب کا سودا مل سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مصنفین کو اس بات کا احساس تھا کہ لوگ ان کے بارے میں کیا کہیں گے اس لئے پہلے چیپٹر کا نام انہوں نے دیا’اگر ہم افسانہ بھی لکھیں گے تو کوئی یقین نہیں کرے گا’۔

کتاب کے 255صفحات میں آپ کو جنرل مشرف،جنرل کیانی،دوسرے جرنیلوں ۔ بی بی، نواز شریف اور عباسی،اسامہ بن لادن وغیرہ کے بارے مہں بھی بہت کچھ مل جائے گا۔ کتاب کے سات باب اور 33 چیپڑ ہیں۔آخری چیپڑ ہے ’دیوانگی کب ختم ہوگی‘۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ پاکستان کشمیری حریت پسندوں کی ہر طرح سے اخلاقی مدد کرتا ہے۔ اس کتاب میں ’آزاد کشمیر‘ پر بھی کھل کر بحث کی گئی ہے۔

کارگل جنرل مشرف کا جنون تھا اس نے یہ تجویز بے نظیر بھٹو کے سامنے بھی رکھی تھی مگر اس نے اسے مسترد کر دیا تھا مگر جب وہ فوج کے سربراہ بنا تو اس نے نواز شریف کو مکمل اعتماد میں لئے بغیر کارگل کا اڈوینچر کر دیا جس میں سینکڑوں فوجی شہید ہوئے چاہئے تو یہ تھا کہ جنرل مشرف کا ٹرائیل ہوتا اس کے برعکس نواز شریف نے سارا الزام اپنے ذمے لے لیا اور جنرل مشرف کی پروموشن بھی کردی۔(جنرل مشرف اور عزیز کے درمیان ہونے والی بات چیت ہندوستا ن نے اسی وقت عام کر دی تھی)۔

جنرل اسد کا کہنا ہے کہ ہم کو چاہئے تھا کہ ہم ہندوستانی جاسوس کلبوشن سے معلومات حاصل کرنے کے بعد اس کا کسی پاکستانی جاسوس سے تبادلہ کر لیتے ۔(یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیپال سے پاکستانی کرنل جو غائب ہو گیا تھا اس کا آج تک پتہ نہیں ہے)۔ جنرل اسد درانی اور اے ایس دلت اس بات سے متفق ہیں کہ آگرہ مذاکرات ایڈوانی کی انا کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ ہمارے ’فیصلہ سازوں‘ میں یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنے دانشوروں کو کھل کر دفاعی اور ملکی معاملات پرنہیں لکھنے دیتے بلکہ اس کے برعکس گوروں کے لئے سارے دروازے کھل جاتے ہیں،آپ شائد یہ سن کر حیران ہوں کہ پاکستان کی آئی ایس آئی کے بارے میں واحد کتاب ایک جرمن نے لکھی ہے۔اسی طرح پاکستانی فوج کے بارے میں بھی گوروں نے کتابیں لکھی ہیں۔

آئی ایس آئی فوج کا ایک ادارہ ہے جب کہ ’را‘ ایک سویلین ادارہ ہے۔ پاکستان میں آئی بی کے بارے میں بہت کم لوگوں کو پتہ ہے مگر آئی ایس آئی کو بچہ بچہ جانتا ہے۔

میری نظر میں کتاب میں لکھی گئی باتیں پہلے بھی کہیں نہ کہیں چھپ چکی ہیں۔ کتاب کے بارے میں ایک کالم میں لکھنا ممکن نہیں صرف جنرل درانی کا ایک فقرا درج کر کے بات کو ختم کرتا ہوں جو انہیں ایک عام آدمی نے راولپنڈی میں کہی ’اگر آپ لال مسجد کا معاملہ کسی پولیس کے ایس ایچ او کے ذمہ لگا دیتے تو وہ اسے بہتر طور پر حل کر سکتا تھا‘۔


ای پیپر