احمقوں کی جنت
02 جون 2018 2018-06-02

آئینی مدت کی تکمیل پر خوشگوار حیرت ہے اس کا کریڈٹ برسراقتدار پارٹی کو نہ دینا قرین انصاف نہیں جس نے نامساعد حالات کے باوجود جمہوریت کو پٹری سے اترنے نہیں دیا۔ایسی ریاست جو مارشل لاء کی آماجگا ہ رہا ہو اس میں کسی جمہوری حکومت کااپنی پارلیمانی مدت کی تکمیل کرنا ایک نیک شگون ہے اور جمہوریت پسند طبقات کیلئے مثبت پیغام بھی ۔ کہ یہ سرزمین اتنی بھی بانجھ نہیں کہ یہاں جمہوری قوتیں پھل پھول نہ سکیں اگر اس کی راہ میں دانستہ رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کاوش نہ کی جائے۔

آئینی مدت کے مکمل ہونے کا سہرا سرکار کے اتحادیوں کے سر بھی ہے جنہوں نے ہر حال میں سرکار کو اپنی حمایت فراہم کیے رکھی اور جمہوریت کی یہ ناؤ ساحل پہ پہنچنے میں کامیاب ر ہی اگرچہ اسے غیر متوقع ، غیر جمہوری طوفانوں کا سامنا بھی رہا۔جمہوریت کی فیوض و برکات پر یقین رکھنے والے اس بات کے داعی ہیں کہ اگر جمہوری حکومتوں کو بلاتعطل کام کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو نہ صرف قومی اداروں میں استحکام آئے گا بلکہ عوام کااعتماد بھی جمہوریت پر پختہ ہوگا اور اس کی وساطت سے وہ اراکین بھی سیاسی منظر سے غائب ہوجائیں گے جو پارلیمانی طرز حکومت میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنے پر ملکہ نہیں رکھتے۔

اس پارلیمانی عہد کی خاص بات یہ ہے کہ حکمران جماعت کے سربراہ بڑے میاں جی کو قدرت نے تین بار وزرات عظمیٰ کامنصب عطا کیا لیکن وہ آخری عہد میں بھی اس مد ت کو پورا کرنے سے قبل ہی عدالت عظمیٰ کے ہاتھوں نا اہل قرار پائے ان کی یہ بدقسمتی پتہ دیتی ہے کہ موصوف نے ماضی سے سبق حاصل کرنے کی کوئی سنجیدہ کاوش نہیں کی اور نہ ہی قومی اداروں کو جمہوری انداز میں چلانے کی طرح ڈالی ان کی اس غیر سنجیدگی کا فائدہ مقتدر قوتوں نے اٹھایا۔

اس عہد میں پانامہ، اقامہ ، نااہلی اور دھرنا تین بڑے واقعات ہماری سیاسی تارخ کا حصہ بن گئے ہیں اسی تناظر میں میاں جی کو پہلی بار نااہلی کا دکھ اٹھانا پڑا اور’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ کی نئی اصطلاح عوامی سطح پر مقبول ہوگئی۔ عوامی اجتماعات میں انکا سوال ان مقتدر حلقوں سے ہے بقول ان کے جو خو د کو پارلیمنٹ سے بالا تر سمجھتے ہیں اسی تناظر میں ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ کی باز گشت بھی سنا ئی دے رہی ہے۔

ہمارے اراکین خود ووٹ کو کس حد تک توقیر دیتے رہے ہیں اس کا تجزیہ تو مستقبل کا مورخ کرے گا البتہ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ مذکورہ مدت کے دوران کن کن اراکین اور سیاسی جماعتوں نے اپنے عہدہ سے انصاف کیا۔ پارلیمنٹ میں کتنا فعال کردار ادا کیا۔ کتنی قانون سازی ہوئی ؟اراکین نے عوامی مشکلات کو کم کرنے ، معیشت کو ترقی دینے ، بے روزگاری کے خاتمے اور پانی کے دیرینہ مسئلہ کے حل کیلئے کیا تجویز اسمبلی کے سامنے رکھیں خود لیڈر آف ہاؤس کا کیاکردار رہا۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ پانچ سالہ آئینی مدت کے دوران صرف چالیس یوم موصوف اسمبلی میں حاضر ہوئے اس سے یہ اخذ کرنا چنداں مشکل نہیں کہ ان کی عدم موجودگی میں وزراء کرام کی کارکردگی کیا رہی ہوگی۔انہوں نے صرف اپنی حاضری کا معاوضہ ہی وصول کیا یا تمام تر مراعات حاصل کیں راوی اس بات خاموش

ہے ۔ اس سے ملا جلا رویہ اپوزیشن راہنماؤں کا بھی رہا ہے ۔کپتان جی جو عوامی اجتماعات میں مغربی جمہوریت کے فوائد کا راگ الاپتے رہتے ہیں انہیں بھی مذکورہ مدت میں صرف بیس یوم حاضری دینے کی سعادت حاصل ہوئی۔ پارلیمانی نظام کی ترقی کیلئے اس سے بڑی خدمت اور کیا ہوسکتی ہے ؟ تبدیلی کے خواہاں نمائندہ کی اتنی مہربانی کم ہے کہ انہوں نے اتنا وقت تو ہاؤس کو دیا ۔تاہم مراعات وصول کرنے میں انہوں نے کسی کا ہلی کامظاہرہ نہیں کیا۔ موصوف اس فعل کو بدعنوانی میں شامل کرتے ہیں یا نہیں ان کا ترجمان یہ بتانے سے عاری ہے۔

2013ء میں جب رخصت ہونے والی حکومت مسند اقتدار ہوئی تھی تو لوڈشیڈنگ کا جادوسرچڑھ کر بول رہا تھا۔ جبکہ بے روزگاری، پانی کی قلت کا مسئلہ دیرینہ تھا مسئلہ کشمیر، دہشت گردی، افغانستان سے تعلقات ہمارے پرانے عنوانات تھے۔ پارلیمانی مدت کی تکمیل کے بعد حکمران جماعت اس میں کسی حد تک کامیاب رہی اسکا اندازہ انہیں بخوبی اس وقت ہوگا جب وہ دوبارہ سیاسی میدان میں اتریں گے اور ووٹرز کا سامنا کریں گے غالب امکان ہے کہ انہیں لوڈشیڈنگ کی کمی کے حوالہ سے ضرور ریلیف ملے گا۔

البتہ پانی کی عدم فراہمی پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا ارض پاک کی غالب آبادی دیہاتوں میں مقیم ہے جنکی روزی روٹی زراعت سے وابستہ ہے جس کیلئے پانی زندگی اور موت کا معاملہ ہے برسراقتدار جماعت سے قبل بھی حکومتوں نے ڈیم بنانے میں مجرمانہ غفلت کامظاہرہ کیا آنے والے انتخابات میں ’’ پانی ‘‘ سیاسی کے اعتبار سے بڑا عنوان ہوگا۔

اک ایسی حکومت جس نے چار سال کی مدت بغیر وزیرخارجہ کے بسر کرکے کلیدی مثال قائم کی اس سے متوازن خارجہ پالیسی اور مسئلہ کشمیر کے حل کی توقع رکھنا ہی عبث ہے ۔اس سیاسی غلطی کی سزا ضرورعوام انہیں دیں گے۔

سابق وزیراعظم خود کو ثانی قائداعظم کہلوانے کے زعم میں بھی مبتلا ہیں ہم عرض کیے دیتے ہیں کہ محترم بانی پاکستان نے مسلم لیگ جماعت کو جمہوری انداز میں چلا کر برصغیر میں فقید المثال قائم کی ہیں ان کی جماعت کے پارلیمانی اجلاسوں ، مجلس عاملہ کی کاروائیوں کی تاج برطانیہ کے ہاؤسز میں باز گشت سنائی دیتی تھی یہ اس عہد کی بات ہے جب سامراجی حکومت کا پورے عالم میں طوطی بولتا تھا وہ برطانوی عہدیداروں سے اختلاف بھی کرتے تو جمہوری رویہ اختیار کرتے ان کی پالیسیوں کابائی کاٹ کرتے تو بھی قواعد و ضوابط سامنے ہوتے ۔بڑے سے بڑے لارڈز، وائسرائے نہ تو آپ کو نیچا دکھا ،نہ ہی بلیک میل کرنے کی خواہش پوری کرسکے ،نہ انہوں نے گاندھی جی کی طرح ان کے سامنے ہاتھ جوڑے۔

تحریک پاکستان سے لے کر قیام پاکستان تک مسلم لیگ کی کاروائیاں اہل جمہوریت کیلئے اک خزینہ ہیں اس دورمیں جمہوری انداز میں نئی ریاست کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف تھا اس آئینہ کو سامنے رکھتے ہوئے حکمران جماعت اپنا چہرہ دیکھ سکتی ہے جسے بانی جماعت ہونے پر ناز ہے۔

ووٹ کو عزت دو اورسول بالا دستی کی بھیک مانگنے والوں کو خود اپنی اداؤں پے غور کرنا چاہیے۔وہ از خود اپنے منصب سے کتنا انصاف کرسکے؟اسمبلی کی کاروائیوں میں کتنے شریک رہے، ناقص کارکردگی پر وزراء کی سرزنش کتنی دفعہ کی گئی، اراکین کی آراء کو کتنی اہمیت دی گئی۔ ووٹ کو عزت دینے اور سول بالا دستی کا خواب صرف اس صورت میں شرمندہ تعبیر ہوسکتا تھا اگر پارلیمنٹ کو جمہوری انداز میں چلایا جاتا۔ سینٹ کے انتخابات تاحال جمہوری اقدار پر سوالیہ نشان ہے۔ ووٹ کو عزت دینے اور سول بالا دستی کا راستہ بانی پاکستان کے جمہوری رویوں سے ہی ہوکرگزرتا ہے اس کے بغیر یہ خواہش احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔


ای پیپر