فکر اقبالؒ کا فروغ‘ وقت کا لازمی تقاضا!
02 جون 2018 2018-06-02

 

اگر سوچ یہ بنے کہ قیام پاکستان کے سلسلے میں علامہ اقبالؒ کا کردار قائداعظمؒ سے بڑھ کر ہے تو شاید زیادہ خلاف حقیقت نہ ہو کیونکہ یہ علامہ اقبال ہی تھے جنہوں نے سب سے پہلے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا۔ اس عظیم تصور کی تجسیم پاکستان کی صورت ہوئی۔ یہ علامہ اقبالؒ ہی تھے جنھوں نے اصرار کر کے قائداعظمؒ کو واپس بلایا اگر یہ سب نہ ہوتا تو شاید پاکستان دنیا کے نقشہ پر نمودار نہ ہوتا تاہم واضح رہے یہ شخصی تقابل ہے نہ قائد اعظمؒ کی خدمات اور مرتبہ و مقام کو کم کرنے کی جسارت‘ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کے لیے محض جغرافیائی خدوخال رکھنے والے ملک کا تصور ہی پیش نہیں کیا بلکہ ایک ایسی مملکت کا نقشہ پیش کیا جو حقیقی معنوں میں ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست جہاں ہر شخص کے ناانفرادی‘ بطور قوم اجتماعی اور بحیثیت ملک انتظامی امور قرآن و سنت کے احکامات اور ہدایات کے تابع اور ریاست فرد کی کفیل ہوگی اسی کا نام فکر اقبال ہے اسی فکر اقبال کو فروغ دینے کے لیے حکومت پنجاب کے محکمہ اطلاعات کے تحت ادارہ بزمِ اقبال کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس نے اپنے قیام کے روز اول سے تادم تحریر علامہ اقبال کے حوالے سے خاصا کام کیا ہے

علامہ کی زندگی‘ شاعری اور فلسفیانہ سوچ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے والی کتابیں شائع کیں ایک ماہنامہ میگزین شائع کیا جاتا ہے جس میں علامہ اقبال پر تحقیقی مضامین شائع ہوتے ہیں تاہم فکر اقبال کے فروغ کے لیے ادارہ بزم اقبال کو جتنا فعال ہونا چاہئے تھا شاید حکومتی توجہ کم کم ہونے کے باعث ایسا نہ ہوسکا البتہ کچھ عرصہ قبل ادارہ بزم اقبال کی خوش قسمتی کا چراغ روشن ہوا صوبائی محکمہ اطلاعات کے سیکرٹری راجہ جہانگیر انور ادبی ذوق اور وسعتِ مطالعہ کے باعث ان گنے چُنے بیوروکریٹس میں شامل ہیں جن سے بیورو کریسی کے ماتھے پر توقیر کی کلغی سجی ہے۔ انھوں نے بزم اقبال پر خصوصی توجہ دی‘ گرانٹ کے سلسلے میں طریق کار کے حوالے سے درپیش اڑ چنوں کو دور کیا۔ کیا بہتر ہو ریاض چودھری کے فکر اقبال کے جذبہ کو سرد نہ ہونے دیا جائے جو سینئر صحافی اور اقبال شناس ہونے کے ساتھ ساتھ گرم دم جستجو کی زندہ تصویر ہیں۔ ریاض چودھری پاکستان ٹائمز سمیت انگریزی صحافت میں اپنے جوہر دکھاتے رہے جن کی وسعتیں پانچ دہائیوں کو چُھورہی ہیں۔ ریاض چودھری سے بہت قریبی تعلق کی بنا پر فکر ِ اقبال اور ادارہ بزم اقبال کے حوالے سے ان کے عزائم اور لگن کا شناور ہونے کے باعث میں یقین رکھتا ہوں اگر حکومتی سطح پر ان سے دستِ تعاون دراز رہا۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں جناب مجیب الرحمن شامی جیسے نابغہ صحافی کی موجودگی سے اس کی انتظامی قدر قامت اور ممکنہ بلکہ یقینی فعالیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے میں سمجھتا ہوں ریاض چودھری کو حکومتی تعاون کے حوالے سے کبھی کسی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑتا اگر راجہ جہانگیر انور بدستور سیکرٹری اطلاعات حکومت پنجاب اپنے منصب پر فائز

رہتے لیکن ان کی خدمات فنانس ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کردی گئیں۔تاہم یہ خوش آئند ہے ان کی جگہ جس شخصیت کو سکرٹری اطلاعات کا عارضی چارج دیا گیا ہے جناب عبداﷲسنبل کمشنر لاہور ڈویژن بھی علم دوست لوگوں میں شامل ہونے کی شہرت رکھتے ہیں اور ایک سچے پاکستانی ہونے کے ناطے وہ فکر ِ اقبال کو مملکت خدا داد کی مضبوط اساس سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاض چودھری کے ذریعہ جب فکر اقبال کے فروغ کیلئے ادارہ بزم اقبال کے آئندہ پروگراموں سے آگاہی ہوتی تو وہ فوری طور پر سر پرستانہ تعاون کے لیے تیار ہوگئے۔ بزمِ اقبال کی گرانٹ میں حائل پروسیجرل طریقہ کار کی رکاوٹوں کو دور کیا بزم اقبال کے بورڈ آف گورنر کی از سر نو تشکیل میں خصوصی دلچسپی لی اور ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا ہے۔

جناب عبداﷲ سنبل کے بھرپور سرپرستانہ تعاون سے یقین کیا جاسکتا ہے کہ ریاض چودھری بزم اقبال اور فکر اقبال کے فروغ کے حوالے سے اپنے ارادے کی تکمیل میں سرخروئی حاصل کرسکیں گے۔ فکر ِ اقبال کا فروغ اس لیے بھی ضروری ہے کہ آج مغربی تہذیب کے منفی اثرات ہماری نئی نسل کو اپنے اقدار و روایات سے غیر محسوس انداز سے دور کررہے ہیں اس سے محفوظ رکھنے کا یہی ایک موثر طریقہ ہے۔

 

 


ای پیپر