دیر آید درست آید
02 جون 2018 2018-06-02

تعلیم کی اہمیت سے کون واقف نہیں،وہ اقوام جنہوں نے تعلیم و تدریس کے مقام کو سمجھا انہوں نے دنیا میں نام کمایا۔ وہ جو علم و ہنر سے دور ہوئے ،گویا ترقی کے راستوں سے دور ہو گئے۔بد قسمتی سے پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں تعلیم و تدریس کو اشرافیہ اور کاروباری طبقے نے حبسِ بے جا میں رکھا ہوا ہے ۔جس سے تعلیم کا معیار ہر گزرتے دن بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے،یہی وجہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام عالمی سطح پر پسماندگی کا شکار ہے اور ہمارے تعلیمی اداروں سے اڑان بھرنے والے پرندوں کی پرواز بہت محدود ہے، خاص طور پر سرکاری اداروں میں پڑھنے والی مڈل کلاس۔ جس کے ڈگری ہولڈر جرائم کی شاہراؤں پر چل پڑے ہیں۔

وطن عزیز میں تعلیمی زبوں حالی کی بے شمار وجوہات ہیں جس میں سب سے پہلی اور سب سے اہم پاکستان کا نظام تعلیم ہے۔ پاکستا ن میں بیک وقت کئی قسم کے نظام تعلیم رائج ہیں۔ ایک طرف اُردو میڈیم ہے اور دوسری طرف انگلش میڈیم۔بڑے شہروں کو چھوڑ کرعام اور چھوٹے شہرو ں اور قصبوں میں تو اُردو کی بجائے مقامی زبانیں ذریعہ تعلیم ہیں۔یہاں اگر نصاب تعلیم اُردو میں بھی ہو تو اساتذہ بچوں سے تمام گفتگو اپنی مقامی زبانوں میں ہی کرتے ہیں، جس سے اُنہیں اپنی قومی زبان اُردومیں لکھنے بولنے کی مشق نہیں ہوپاتی۔ان سکولوں سے فارغ التحصیل طلبا ء، خصوصاً وہ جو پرائمری درجہ کے بعد تعلیم کو خیر باد کہہ دیتے ہیں، ماسوائے اس کے کہ وہ خواندہ کے زمرے میں آجائیں، ملک اور معاشرے کی کوئی خاص خدمت سر انجام دینے کے قابل نہیں ہوتے ۔ اپنے بزرگوں کا ہاتھ بٹانے کے سوا اُن کے پا س او ر کوئی راستہ نہیں ہوتا،یا و ہ شہروں میں جا کر غیرہنر مند فرد کی حیثیت سے مزدوری کریں۔

شہروں اور قصبوں کے اُردو میڈیم سکولوں کالجوں سے فارغ التحصیل طلباء کی اکثریت بھی چھوٹی موٹی دفتری

ملازمتوں کے سوا کسی بہتر پوزیشن پر جانے کی اہلیت سے عاری ہوتی ہے۔دوسری طرف ماسوائے چند بڑے ناموں والے انگلش میڈیم سکولوں اور کالجوں کے، عام پرائیویٹ انگلش میڈیم سکولوں، جو کہ گھر گھر اور گلی گلی کھلے ہوئے ہیں، سے پڑھے ہوئے طلباء بھی ملک اور معاشرے کے لئے کوئی مفید خدمات سرا نجام دینے کے قابل نہیں ہوتے، کیونکہ نہ اُنہیں پوری طرح اُردو آتی ہے اور نہ انگلش۔یہ مسائل اتنے مسلم ہیں کہ ان سے نظریں چرانا خود کشی کے مترادف ہے جو ہم مسلسل کئے جا رہے ہیں اور بچاؤ کا کوئی راستہ بھی نہیں اور بچنے کی کوئی امید بھی نظر نہیں آتی۔ وجہ یہاں بھی حکمرانوں کی بے حسی ہی ہے جس کا خمیازہ اس دھرتی کی نسلیں بھگت رہی ہیں۔ قوانین کی موجودگی کے باوجود ان پر عمل درآمد نہ ہوناہی کسی نظام کی ،کسی ریاست کے ناکام ہونے کی علامت ہے مگر سمجھنے والے سمجھنے کے لیے تیار نہیں ۔

اب آتے ہیں اصل موضوع ، یعنی اکیڈمی اور ٹیوشن کلچرکی طرف۔جس پر بات کرنے کے لیے تعلیمی نظام بارے بات کرنا پڑی۔ سرکاری سکول کے استادوں کے ٹیوشن سنٹر سے جدید اور مہنگی تعلیمی اکیڈمیوں کے فروغ میں ہمارے نظام تعلیم کی خامیاں ہی وہ بنیادی پہلوہے جس نے تعلیم میں سرمایہ کاری کو محفوظ راستہ دیا۔ کیا ان اکیڈمیز کو قانونی دائرہ کار میں لانے کے لیے کسی قسم کے قوانین نہیں تھے کیا؟ تھے جناب، واضح اور بھر پور قوانین تھے مگر ان کو نوٹوں کی جھلک دکھا کر سلا دیا گیا تھا۔اسی لیے پاکستان میں تعلیم کو کاروبار کادرجہ حاصل ہے اور استاد عزت و تکریم سے محروم ہیں۔ ہمارے تعلیمی ادارے ڈگری ہولڈر تو پیدا کر رہے ہیں مگر ہماری نسلیں شعور اور احترام کے جذبوں س روشناس نہیں۔

تعلیم کو کاروبار بنانے میں ان اکیڈمیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے جو تعلیمی اوقات کار کے بعد اپنی دکان سجائے بیٹھے ہیں۔سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ نجی تعلیمی اداروں کی کارکردگی اور کامیابی ان نجی اکیڈمیوں کی مرہون منت ہے جو انتہائی اعلیٰ فیسوں پر تعلیم کا کاروبار کر رہے ہیں ۔ ان اداروں کی اکثریت رجسٹرڈ بھی نہیں، اس لیے من مانیوں میں آزاد ہیں۔ان اداروں میں پڑھانے والے بھی سرکاری اداروں میں تعلیم وتدریس میں مصروف استاد اور پروفیسرز ہی ہیں ۔جن کے اپنے اپنے ٹیوشن سنٹرزاور اکیڈمیاں بھی مارکیٹ میں موجود ہیں اور علم بیچنے میں مصروف ہیں۔یہ وہ ہیں جو اپنی سرکاری فرائض تو اتنی دیانت داری سے انجام نہیں دیتے نظر آتے مگران نجی اکیڈمیوں پوری ذمہ داری سے پڑھاتے نظر آتے ہیں۔جس میں یقیناًمحکمہ تعلیم کے اہلکار بھی ملوث ہوں گے۔لاہور میں ان نجی اکیڈمیوں کا کاروبار تو پورے عروج پر دیکھائی دیتا ہے۔تاہم اب معالات بدلتے نظر آ رہے ہیں،با وثوق ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے شہر بھر میں پھیلی ہزاروں کی تعداد میں موجود اکیڈمیوں کو ضابطے اور قوانین کے تحت لایا جائے گا ۔ اس ضمن میں اکیڈمیوں کی رجسٹریشن کرنے کا فیصلہ بھی کیا

گیا ہے۔ایجوکیشن اتھارٹی کی جانب سے اکیڈمیز مالکان کو رجسٹریشن کرانے کے لیے پندرہ دن کی مہلت دی گئی ہے ۔

واضح رہے کہ پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنزآرڈیننس 1984 کی شق نمبر دس کے تحت صوبے میں تعلیمی سرگرمیوں کے نام پر قائم کئے گئے تمام اداروں کی رجسٹریشن لازمی ہو گی ۔ جن اداروں میں نرسری،پرائمری ، ایلیمنٹری، ہائی، ہائی سیکنڈری، او لیول ،اے لیول اور سیکنڈری سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے شامل ہیں۔ماہرین تعلیم کے مطابق حکومت کی جانب سے اس آرڈیننس کا اطلاق اکیڈمیز پر آج تک نہیں کیا گیا تاہم اب ڈسٹرکٹ ایجوکشن اتھارٹی لاہور نے اس قانون کے نفاذ کا فیصلہ کر لیا ہے ۔یوں کھمبیوں کی طرح اگی ہوئی ان اکیڈمیوں کی تعداد پر آسانی سے قابو پایا جا سکتا ہے،اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یقیناایسی تما م علتوں پر قابو پایا جا سکے گا جو تعلیمی خامیوں کا باعث بن رہی ہیں۔ واضح رہے کہ ان اکیڈمیوں میں پڑھانے والے اساتذہ کا تعلق سرکاری تعلیمی اداروں سے ہی ہے۔ اس خبر کے مطابق اگر مکمل طور پر قوانین پر عمل درآمد کرلیا گیا تو ماں باپ کو لوٹنے والے ان بے فیض اداروں سے جان چھوٹ جائے گی ۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیمی معیاراتنا بلند ہوکہ بچے ان اکیڈمیوں کو رخ نہ کریں۔جہاں جا کر بچے غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہو جاتے ہیں۔ چیک اینڈ بیلنس کا ماحول بہت ضروری ہے ۔ جب اکیڈمی مالکان کوپتہ ہو گا کہ ہمیں قانونی دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا ہے تو بھی ہر گلی ، محلے میں قائم درجنوں اکیڈمیاں ویسے ہی بند ہو جائیں گی۔یہ فیصلہ کرنے میں یقیناًبہت دیر ہو گئی ہے مگر مکمل دیانت داری سے اگر اس پر عمل درآمد کیا جائے تودیر آید درست آید کے مترادف اچھا ہی ہو گا،اور کی میرے قتل کے بعد جفا سے توبہ والا معاملا بہت پیچھے رہ جائے گا۔


ای پیپر