دورِ--آنی
02 جون 2018 2018-06-02

بلاشبہ برصغیر کے 2 سابق سپائی ماسٹرز کی مشترکہ کتاب 'دی اسپئی کرونیکلزرا، آئی ایس آئی اینڈ دی الوڑن آف پیس' کے منظر عام پر آنے کے بعد سے دونوں ملکوں کے سیاسی، عسکری، صحافتی اور عوامی حلقوں میں کافی ہلچل برپاہے۔ سابق را چیف امرجیت سنگھ دلت اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی پراپنے اپنے ممالک میں کافی دباو¿ بھی ہے۔ اب تک جو معلومات ہیں اسکی بنا پرپاک فوج کو بھی تحفظات ہیں۔ مجھے نہیں پتا لکھنے والے اس کتاب سے متعلق کیا کیا لکھ رہے ہیں اور مطالبے کرنے والے کیا کیا مطالبات کررہے ہیں۔لیکن اگر اس کتاب کو بغور پڑھ بھی لیا جائے تو تبصرہ کرنا زیادہ آسان ہوگا۔ آسان الفاظ میں یہ کہنا مقصود ہے کہ جن جن موضوعات کو تمام مکتبہ فکر کے لوگ موضوعِ بحث بنا رہے ہیں ان میں سے کسی بھی واقعے کا تعلق بلاواسطہ یا بلواسطہ جنرل (ر) اسد درانی سے نہیں ہے۔ مثال کے طور پر 25سال قبل ریٹائرڈ ہونے والے 77-78 سال کے بوڑھے ریٹائرڈ فوجی کو کیا پتہ کہ کارگل آپریشن کے محرکات کیا تھے۔ کونسی گراو¿نڈ تھیں جن کی بنا پرکارگل آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ صلاح مشورہ سے لے کر فائنل اپروول تک درانی صاحب کس capacity میں تبصرہ کرسکتے ہیں؟۔ایبٹ آباد میں امریکی نیوی سیلز کا بن لادن آپریشن پاکستان کے محافظوں سے اوجھل ہوگیا لیکن قیاس کرتے ہوئے ریٹائرڈ درانی میرا خیال ہے کہ کر گپ شپ مار رہے ہیں۔ اسی طرح حافظ سعید، کشمیر، برہان وانی اور دیگر کئی موضوعات اس کتاب میں زیر بحث آئے۔ کوئی شک نہیں جنرل (ر) اسد درانی کی جانب سے عمر کے آخری حصے میں کئی ایسے انکشافات بھی کیے گئے جو پاکستان کے قومی اور ریاستی بیانیے سے مطابقت نہیں رکھتے۔مان لیتے ہیں کہ کچھ باتوں کی وضاحت ضروری ہے تو تبھی ڈٰی جی آئی ایس پی آر نے آرمی چیف کی ہدایت پر اسد درانی صاحب کو ان کے کتابی شکل کے مخبوط الحواس بیانات پر پوزیشن واضح کرنے کے لیے پیر 28 مئی کو طلب بھی کیا۔ ابتدائی طور پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر باز پرس بھی کی گئی۔ یہاں تک کے لیفٹیننٹ جنرل کی سربراہی میں ایک تفتیشی بورڈ بھی قائم کردیا گیا ہے جو جنرل (ر) اسد درانی سے اس کتاب میں استعمال کیے گئے الفاظ، ان کے محرکات، حساسیت اور نتائج کے اثر انداز ہونے کی سختی سے متعلق مکمل تفتیش کریں گے۔اور تو اور وزارت داخلہ کو جنرل (ر) اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش بھی کردی گئی اور اس کا نوٹیفیکشن بھی جاری ہوگیا۔ یعنی تفتیش کے مکمل ہونے تک درانی صاحب دلت سے ملاقات تو دور کی بات ملک سے باہر نہیں جاسکیں گے۔ اس کتاب کو مکمل پڑھنے والوں کی نظر میں یہ کتاب دو ریٹائرڈ بزرگ اسپائی ماسٹرز کی بے تکی گفتگو سے زائد کچھ بھی نہیں ہے۔ پوری کتاب میں کہیں بھی کسی قسم کے انکشاف والا عنصر نظر نہیں آیا۔ بلکہ ہر سوال کے جواب میں میرا خیال ہے، مجھے لگتا ہے، میں کنفرم تو نہیں ہوں، یقینناً ایسا ہونا چاہیے تھا، یہ ہو بھی سکتا ہے، اگر واقعات کے دو سِروں کو جوڑا جائے تو بات یہ بن سکتی ہے، میں اس کا نام نہ ہی لوں تو شاید مناسب ہوگا، میرے پاس ثبوت تو کچھ نہیں، میری اس بات سے کہیں وہ مشہور نہ ہوجائے، اس سے زیادہ کچھ بھی نظر نہیں آیا۔یاں یوں کہیے کہ چند ریٹائرڈ سرکاری ملازم شام کے اوقات میں چائے کی چسکیاں اور تاش کے پتے کھیلتے ہوئے جس طرح اپنی آرزوئیں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرلیتے ہیں اسی طرح اَمر جیت سنگھ دَلت اور جنرل (ر) درانی بینکاک، استنبول اور کھٹمنڈو میں چسکیاں لگاتے ہوئے اس کتاب میں 1 لاکھ 70 ہزار الفاظ کی بڑھکوں سے زیادہ محسوس نہیں ہوئے۔اصل حقیقت بھی جنرل (ر) درانی جلد بتا دیں گے کیونکہ یہ کتاب بلائے ناگہانی کے طور پر ایک پی ڈی ایف فائل کی شکل میں پاکستان پر وارد ہوئی ہے۔ شاید ریٹائرڈ آرمی آفیسر کے پیسے کمانے کا ذریعہ بننا مقصود ہو کیونکہ عام طور پر دنیا بھر میں خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ یا ہائی پروفائل جاسوس ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے یادداشتوں کو کتابی شکل میں شائع کرادیتے ہیں تاکہ آخری عمر میں کمائی کا کچھ آسرا ہوسکے۔ لیکن اس کتاب میں حیرانگی کی بات تو یہ ہے کہ دو بزرگ اسپائی ماسٹرز اپنی تمام یادداشتیں دوران سروس کے زمانے کی نہیں بلکہ ریٹائرمنٹ سے عمر کے آخری حصے کے دوران کی رقم کرواگئے ہیں جو کسی طور پر بھی قابل فہم یا قابل بحث نظر نہیں آتیں۔اور تو اور بغیر پڑھے سابق وزیراعظم نواز شریف نے جنرل (ر) اسد درانی اوربھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ کی مشترکہ کتاب پر قومی کمیشن بنانے اور قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کردیا۔ ان کی یہ بھی فرمائش ہے کہ اسی طرح جنرل (ر) پرویز مشرف کی کتاب 'اِن دی لائن آف فائر' اور جنرل (ر) شاہد عزیز کی کتاب 'یہ خاموشی کہاں تک' پر بھی قومی کمیشن تشکیل دیا جائے۔شاید یہ مطالبہ اپنی زبان کے زخم مندمل کرنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے جائز سوال اٹھایا کہ کیا جنرل اسد درانی نے وفاقی حکومت سے یا جی ایچ کیو سے کتاب لکھنے کی اجازت لی تھی۔ لیکن ایک بار پھر اس کتاب کو بغیر پڑھے ان کا یہ ماننا ہے کہ اگر یہ کتاب کسی عام شہری یا پاکستانی سیاستدان نے اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ مل کر لکھی ہوتی تو آسمان سَر پر اٹھالیا جاتا۔جنرل مشرف کا کہنا ہے کہ درانی کی کتاب سازش نہیں بلکہ محض ایک بے وقوفی ہے۔ دفاعی تجزیہ کار امجد شعیب کا تبصرہ نہایت توجہ طلب ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسد درانی پر قانونی پابندی تو شاید نہ ہو لیکن بطور فوجی افسر جنرل (ر) درانی کو تاحیات یہ پابندی سمجھنی چاہیے تھی۔ اس کتاب سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری تو شاید نہ آئے لیکن زیب داستان کے لیے نئے تنازعات ضرور اٹھنے کا خدشہ ہے۔ اس کتاب کی حساسیت اس سے زیادہ کچھ نظر نہیں آرہی کہ یہ درانی صاحب کے زندگی کے آخری دور کے دوروں سے زیادہ ہو۔


ای پیپر