روسی عوام کا پیوٹن کے حق میں فیصلہ، 2036 تک صدر رہ سکیں گے
02 جولائی 2020 (23:31) 2020-07-02

روس کے عوام نے آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ دے دیا جس کے نتیجے میں صدر ولادی مری پیوٹن کی اپنے دور صدارت کو 2036 تک توسیع دینے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

خیال رہے کہ روسی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے عہدہ صدارت پر رہنے کی مدت کو صفر کرنے ، ہم جنس پرستوں کی شادی اور دیگر اصلاحات پر مشتمل آئینی ترامیم کی منظوری دے دی ہے تاہم صدر پیوٹن کی خواہش تھی کہ ان معاملات پر عوامی رائے بھی جانی جائے۔اس مقصد کیلئے پیوٹن نے آئینی اصلاحات پر عوامی ریفرنڈم کا اعلان کیا تھا جو 22 اپریل کو ہونا تھا تاہم کورونا کی وجہ سے اسے مؤخر کردیا گیا تھا اور اس پر ووٹنگ گزشتہ ہفتے شروع ہوئی۔

روسی الیکٹورل کمیشن کے مطابق 10 فیصد پولنگ اسٹیشن میں ووٹوں کی گنتی کے بعد یہ نتائج سامنے آئے کہ 70 فیصد سے زائد ووٹرز نے آئینی ترامیم کے حق میں رائے دی ہے،ان آئینی ترامیم کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے 2036 تک صدر بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

روسی آئین کے مطابق کوئی بھی شخص صرف دو بار ہی 6،6 سال کی مدت کیلئے صدارت کے عہدے پر رہ سکتا ہے تاہم چونکہ مذکورہ آئینی اصلاحات میں پیوٹن کے عہدہ صدارت پر رہنے کی مدت کو صفر کردیا گیا ہے لہٰذا وہ مزید 2 بار عہدہ صدارت پر براجمان ہونے کے اہل ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ روس میں صدارتی نظام رائج ہے جس میں صدر کو خاصے اختیارات حاصل ہیں لیکن نئی آئینی ترامیم کے بعد صدر کو مزید وسیع اختیارات حاصل ہوجائیں گے اور ان ترامیم میں صدر کا حکومت کو احکامات دینا اور وزیراعظم کو تعینات کرنا بھی شامل ہے۔


ای پیپر