عظیم لوگ!
02 جولائی 2020 2020-07-02

اس سے پہلے دو کالمز میں نے ”سرمغیث الدین شیخ“ کے عنوان سے اُن کی وفات پر اُن کی عظیم شخصیت وکارناموں کے بارے میں لکھے، یہ کالم اُنہی کالموں کا تسلسل ہے، اِس کا عنوان ”سرمغیث الدین شیخ “ سے تبدیل کرکے ” عظیم لوگ“ میں نے اِس لیے کیا میں نے کچھ اور عظیم لوگوں کا ذکر کرنا ہے،.... سرمغیث الدین شیخ کے بارے میں لکھے جانے والے اپنے گزشتہ کالم میں، میں یہ عرض کررہا تھا وہ ایک بار بطور خاص میرے والد محترم سے ملنے ہمارے گھر آئے، اِس موقع پر جوکچھ میرے بارے میں اُنہوں نے کہا اِس کے جواب میں ابوجان اُن کا ہاتھ تھامے بس ایک ہی بات کہتے چلے جارہے تھے” یہ سب آپ کی تربیت کا کمال ہے“ ....جواباً سرمغیث ان سے کہہ رہے تھے ”نہیں نہیں بٹ صاحب یہ میری نہیں آپ کی تربیت کا کمال ہے“....اِس پر ابوجان کہنے لگے ” اگر یہ میری تربیت کا کمال ہوتا تو میرا ایک بیٹا نکما بھی نکلا ہے“ .... یہ سُن کر سرمغیث نے ایک بھرپور قہقہہ لگایا ، اس پر مجھے بھی ایک واقعہ یادآگیا جو اُسی وقت سرمغیث اور ابوجان کومیں نے سنایا، ایک بارمیرے ایک بہت ہی عزیز سٹوڈنٹ نے گریجویشن میں ایف سی کالج میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرلی، اس کے والدمحترم بے شمار تحائف لے کرمیرے گھر آئے، مجھے دعائیں دیتے رہے اور بار بار اپنے ٹاپ پوزیشن ہولڈر صاحبزادے کی طرف اشارے کرکے کہتے رہے ”اِس نکمے نے صرف آپ کی وجہ سے ٹاپ کیا ہے“ ۔میںاُن کو مسلسل سمجھائے جارہا تھا کہ میرا اس میں کوئی کمال نہیں، یہ اس کی محنت ،نیت اور آپ (والدین) کی دعاﺅں کا نتیجہ ہے“ ۔جب اُن کا یہ اصرار بڑھ گیا کہ ان کے بیٹے نے صرف میری وجہ سے اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے، میں نے ان کے سامنے ہاتھ جوڑے، اور عرض کیا ”بزرگو میری کلاس دے کچھ منڈے فیل وی ہوئے نیں، جے سارا کمال میرا ہوندا اوہ وی سارے ٹاپ پوزیشناں حاصل کرلیندے“....اس پر ابوجان اور سرمغیث نے زندگی سے بھرپور ایسا قہقہہ لگایا، میں ایک عجب یقین میں مبتلا ہوگیا میرے یہ دونوں ”جان من“ ہمیشہ زندہ رہیں گے، ظاہر ہے یہ میرا وہم تھا ”زندگی تو بے وفا ہے ایک دن ٹھکرائے گی“ .... سرمغیث بہت دیرتک میرے والد محترم کے پاس بیٹھے میری ہی تعریفیں کیے چلے جارہے تھے، جواباً ابوجی مسلسل ان سے کہہ جارہے تھے ”یہ اصل میں آپ کی عظمت ہے، اس کا کوئی کمال نہیں“ ....”عظمت“ کے حوالے سے ایک اور واقعہ مجھے یاد آرہا ہے، ایک بہت عظیم پولیس افسر جاوید نور تھے، آج کے اکثر پولیس افسر اُن کی عظمتوں کے مقابلے میں ”بونے“ نظر آتے ہیں، ان میں ایک ساڑھے چھ فٹا قد آور پولیس افسربھی ہے جس کی ناک بھی اُس کے قد کے حساب سے لمبی ہے جو اس کے کاموں کے اعتبار سے اب کافی حد تک کٹ چکی ہے، سات ماہ پہلے پنجاب میں جب وہ تعینات ہوا یوں محسوس ہورہا تھا یہ جاوید اقبال اور صاحبزادہ رﺅف جیسا اعلیٰ اہل اور مضبوط پولیس افسر ثابت ہوگا، پر مختلف اقسام کی ”کمزوریوں“ میں وہ ”خان بیگ“ تک کو پیچھے چھوڑ گیا، سیٹ بچانے کے لیے ہمارے کچھ افسروں کو کیا کیا پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں ؟بلکہ اُنہیں ”پاپڑ“ بیچنا بھی پڑیں، اُس سے بھی شاید گریز وہ نہ کریں،.... خیر میں معافی چاہتا ہوں ایک اعلیٰ پولیس افسر جاوید نور (مرحوم) کے ساتھ ایک متکبراور صرف میٹنگ پر میٹنگ کرکے اپنی پرفارمنس ظاہر کرنے والے پولیس افسر کا ذکر چھیڑ دیا، جاوید نور صاحب کے ساتھ میرا عقیدت اور محبت کا ایسا رشتہ تھا، کتنے ہی برس ہوگئے دنیا سے اُنہیں رخصت ہوئے ایک لمحے کے لیے ان کی محبتوں اور عظمتوں کو میں کیاکوئی بھی بھلا نہیں پایا، اُن کی عظمتوں کی تفصیل کسی نے جاننی ہو ایڈیشنل آئی جی فنانس پنجاب طارق مسعود یٰسین سے وہ مل لے ....جاویدنور ڈی آئی جی لاہور تھے، آج کے ”سی سی پی اولاہور“ کو تب ڈی آئی جی لاہورکہا جاتا تھا، پر آج کے سی سی پی او کے پاس صرف لاہورہے، اُس وقت قصور، شیخوپورہ ، اوکاڑہ، وغیرہ بھی ”ڈی آئی جی لاہور“ کے ماتحت ہوتے تھے، اِس اعتبار سے یہ سیٹ آج کے سی سی پی او لاہور کی سیٹ سے زیادہ اہم تھی، .... میں ایک بار جی او آر ون میں واقع ”ڈی آئی جی ہاﺅس“ میں اُن سے ملنے گیا، میرا ایک کزن میرے ساتھ تھا، واپسی پر میں جب گاڑی میں بیٹھنے لگا وہ کمال عظمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میرے لیے گاڑی کا دروازہ کھولنے لگے، میں نے ان کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے، ہاں میں ایک اور بات آپ کو بتاﺅں میں اس وقت کالم وغیرہ نہیں لکھتا تھا، وہ میری یہ عزت میرے ایک استاد ہونے کی وجہ سے کررہے تھے، اُنہیں جو لوگ ذاتی طورپر جانتے ہیں، وہ یہ جانتے ہیں وہ ہمیشہ اہم پوسٹوں پر خالصتاً اپنے میرٹ اور دیانت کی بنیاد پر تعینات ہوتے رہے ، ہماری حکومتیں جہاں بے شمار بددیانت ، نااہل اور بدکردار افسروں کو مختلف شعبوں میں یا مختلف عہدوں پر تعینات کرتی ہیں، وہاں جاوید نور ایسے دوچار دیانتدار اور اہل لوگوں کو تعینات کرکے اپنی تھوڑی بہت ساکھ بحال رکھنے کی کوشش بھی کرلیتی ہیں، کسی اہم عہدے کے حصول کے لیے کسی کی چاپلوسی کرنا تو دور کی بات ہے وہ اس لفظ سے ہی آشنا نہیں تھے۔ ہم جب گاڑی میں بیٹھ کر ان کے گھر سے باہر نکلے، میرا کزن مجھ سے کہنے لگا ”آج میں نے اپنے بھائی کی حیثیت دیکھی ہے کہ کس طرح ڈی آئی جی آپ کی گاڑی کا دروازہ کھولنے کے لیے آگے بڑھے“ ۔میں نے ناراضگی سے اُس سے کہا ”یہ میری حیثیت نہیں اُن کی عظمت تھی“ .... عظیم اصل میں وہ ہوتا ہے جو دوسروں کو عزت دیتا ہے، اور دوسروں کو عزت وہ دیتا ہے جس کے اپنے پاس عزت ہوتی ہے، اب مشتاق سکھیرے سے یا موجودہ آئی جی سے کوئی یہ توقع کرے وہ اپنے کسی ماتحت کو یا کسی جاننے والے کو یا نہ جاننے والے کو عزت دیں تو وہ بے چارے کہاں سے دیں ؟؟؟، جاوید نور دنیا سے رخصت ہوگئے، دلوں سے پر کبھی نہیں ہوسکیں گے، نور ان کے نام سے نکل کر ہروقت ان کے چہرے پر بکھر ارہتا تھا، ریٹائرمنٹ کے بعد اُنہیں کینسر ہوگیا تھا، کبھی کبھی وہ حمید لطیف ہسپتال سے کیمو لگوا کر شادمان جی اوآر میں واقع میرے گھر تشریف لے آتے، ہم پرانی روایات ، پرانے زمانے کے لوگوں کو یاد کرکرکے آسودہ ہوتے، ....2013ءکے الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے فوراً بعد انہوں نے مجھے فون کیا، کہنے لگے ”بیماری (کینسر) نے مجھے بہت لاغر کردیا ہے، میں ووٹ کاسٹ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا، اس کے باوجود میں اپنی زندگی کا آخری ووٹ آج عمران خان کو دے آیا ہوں“ ۔کاش خان صاحب ایسے عظیم لوگوں کے ووٹوں کی لاج رکھ سکیں !!


ای پیپر