ایک درد ایسا ہے، کچھ کمی نہیں جس میں
02 جولائی 2020 2020-07-02

قارئین کرام، بجائے اس کے کہ میں تمہید وتمثیل کا سہارا لوں، میں سیدھے انداز پہ آپ سے مخاطب بذریعہ تحریر ہوں، کہ ریاست مدینہ قائم ہونے سے پہلے، اور ہونے کے بعد ریاست کا انداز معاشرت وسیاست اور انداز بوش وباش اور مکانات پہ کچھ بات کرلیتے ہیں جب اسلام کا نفاذ ہوا، تو رسول پاک نے فرمایا، کہ کفرکی نحوست اس کے قریب نہیں آسکتی، اس شہر میں شیطان اپنی عبادت کرانے سے ناامید ہو گیا ہے، اور پھر ایمان دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچا مگر یہ بھی فرمایا، کہ جب ساری دنیا سے دین رخصت ہو جائے گا، اس وقت بھی مدینہ میں ایمان اور اسلام کی بہاریں جوبن پر ہوں گی۔

حضور اقدس نے فرمایا، بے شک اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو شرک سے پاک کردیا ہے، اہالیان مدینہ کا مذہب قیامت تک اسلام ہی رہے گا، وہ کفروشرک اور بدعات کے قریب بھی نہیں جائیں گے، کیونکہ

مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا

مروت حسن عالم گر ہے، مردان غازی کا!

مہمان نوازی، ایثار وفیاضی، اور اخلاق وعادات اہل مدینہ کے اس قدر لائق صد تحسین تھے اور ہے کہ قرآن پاک اور حدیث پاک کے مقدس ادراق ان کے محاسن اور اخلاق سے مزین ہیں، کیونکہ اہل مدینہ ابتداءسے ہی اخلاق کی عالیٰ وارفع سطح پہ مزین تھے اسلام نے ان کے اخلاق کریمانہ کو اور بھی تابندگی سے ہم کنار کردیا اس لیے وہ لوگ نرم خو، منکسرالمزاج، ہنس مکھ، حلیم الطبع، اور خوش خلق ہیں، ان کے اوصاف جمیلہ سے متاثر ہوکر جنہوں نے سارے اہل مکہ کو جو ہجرت کرکے اور مسلمان بن کر مدینے پاک پہنچے تھے، اپنے گھروں کوآباد کیا، بلکہ گھربھی ان کے نام کردیئے، اورمال ومتاع بھی، اس لیے حضور نے فرمایا، کہ ”اگر ہجرت کی فضیلت اور شرف غالب نہ ہوتا، تومیں انصار میں شامل ہوجاتا، سرور کون ومکاں قسم ہے، اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، مجھے انصار تمام قوموں سے زیادہ محبوب ہیں۔ محسن کائنات رسول کائنات عالم حضرت محمد نے فرمایا،کہ جب مدینہ منورہ میں رونق افروز ہوئے، تو مکہ مکرمہ کے غریب الوطن مسلمان حب وغلامی سے سرشارہوکر اور بادہ¿ عشق سے اور پروانہ عشق سے لبریزہوکر ان کے گردجمع ہونے شروع ہوئے، جنہیں اسلامی اصطلاح میں ”مہاجرین“ کہا جاتا ہے، اور اس وقت بھی انہیں اسی نام سے پکارا جاتا تھا ، وہ لوگ اپنا گھربار ، مال متاع ومنال ، رشتہ دار ماں باپ بہن بھائی اپنی اولاد اور میاں اپنی بیوی، تک چھوڑ کرمدینہ شریف آئے تھے۔

آپ لوگ حیران ہوں گے، کہ ان تمام مہاجرین کے لیے جہاں شفیق کریم آقا نے انہیں اپنے دامن رحمت میں پناہ دی، اسی لیے تو مورخ ومو¿لف شان محمدی میں رطب اللسان ہیں، کہ انہوں نے تمام کو اپنی دامن رحمت میں پناہ دی، اور ان کی رہائش، بودوباش، کھانا پینا، خورد ونوش، اور دیگر لوازمات ، کا مسئلہ حل کرنے کا فوری بندوبست کیا، واضح رہے کہ اس وقت مہاجرین وانصار کی کم مائیگی ضرور ہمیں محلات حےرت کدے میں دھکیل دیتی ہے، کہ حضور نے تہی دامن، تہی دست ہونے کے باوجود اپنے خلوص وہمدردی کے تحت، یہ کرشمہ اور معجزہ دکھا کرحیران کردیا۔

برادران محترم ومعظم، ہماری پاکستان کی ”جدید ریاست مدینہ“ کے پاس تو ذرائع اور محاصل اس قدرہیں کہ انہوں نے کھربوں کا بجٹ پیش کردیا شاید صرف کتابوں میں جس میں ہرمحکمے کے لیے سینکڑوں ارب رکھے ہیں، کروڑوں کو تو کب سے خیرباد کہہ دیا گیا ہے، اب بات اربوں تک پہنچ گئی ہے، اور جدید ریاست مدینہ میں مدینے پاک کی بات نہیں کی جاتی، نہ ان کی مثال دی جاتی ہے، بلکہ بات بات میں، لندن، اور نیویارک کی مثال دی جاتی ہے، میں حیران ہوں کہ وزیراعظم باتیں کرتے ہوئے سوفی صد اپنے عمل کے برعکس اورصحیح نظر آتے ہیں، مگر عملاً ان جیسا غریب مار، اور رعایا کو مفلس بنادینے والا حکمران آج تک ایسا شاید پوری دنیا میں نہیں آیا، میں نے تو اپنے طورپر تحقیق کرلیں، سوائے اس کے نیرو حکمران، جو ہروقت بنسری سے دل بہلاتے رہتے تھے، اور ان کی توجہ لوگوں کے مسائل، غربت اور افلاس کی طرف دلائی جاتی، تو وہ بھی نیرو جیسا جواب دیتے ہیں ،وطن عزیز کے پونے دوسو ٹی وی چینلز لگاکردیکھیں مہنگائی اور عوام کی چیخ وپکار دل دہلادیتی ہے، حتیٰ کہ اب تو اے آر وائی بھی حکومت کے لتے لیتی نظر آتی ہے، اور ملک کے شاعر اور تمام لکھاری خون دل سے مفلسی، کے خاتمے کے لیے حکمران وقت سے دہائیاں دیتے نظرآتے ہیں، ان میں سے ایک شاعر نیر کا کمال دیکھیں، شاید انہوں نے حکمران خان کو کروڑ گھر دینے کے وعدہ پورا کرنے کے لیے کہا ہے ۔

مفلسی کی حالت میں خون کے سبھی رشتے

ہیں مکان مکڑی کے

جوذرا سی جنبش پر، ٹوٹنے کوآتے ہیں

مگر واضح رہے، کہ مظلوم کی بددعا اور دہائی عرش الٰہی کو ہلا دیتی ہے، دعا اور بددعا دونوں مقبولیت میں انتہائی سریع الاثر ہیں، اب دیکھیں پہلے کون رنگ لاتی ہے۔


ای پیپر