ریاست مدینہ....حکمران تو اللہ مسلط کرتا ہے
02 جولائی 2019 2019-07-02

بزرگ صحافی اور میرے محسن خاص جناب محمود شام نے کیا خوبصورت بات کی ہے کہ عمران خان ریاست مدینہ کا بار بار ذکر کرتے ہیں، مگر انہوں نے اُس دورکے واقعات اسباب اور طرز حکومت پر تحقیقی کتابیں نہیں پڑھیں، یہ نظام تو پندرہ سوسال میں کسی بھی ملک میں دہرایا نہیں جاسکا، ہمارا ملک جن سیاسی، معاشی اور جغرافیائی دشواریوں سے دوچار ہے ، اس کے لیے جس تدبر اور تربیت کی ضرورت ہے ، ظاہر ہے وہ نہ تو وزیراعظم میں ہے ، اور نہ ہی ان کی ٹیم میں، بہت سے تو ابھی تک کھلنڈرے پن سے ہی نہیں نکلے، ان کے انداز گفتگو میں وہی بے احتیاطی اور سطحی پن ہے ، جو اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ان میں تھی، عمران خان بے باک ہیں، .... مگر انہوں نے بے باکی کی تفصیل بیان نہیں فرمائی، کہ کس حساب کتاب میں بے باک ہیں؟ مثلاً پراپرٹی ٹیکس میں انکم ٹیکس میں یا خود ایمنسٹی سکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والوں سے، ریاست مدینہ کے بعد آنے والے حکمران ، عمران خان سمیت ان ہستیوں کے پاﺅں کی دھول بھی نہیں۔ عمران خان ریاست مدینہ کا نام لینے کے بجائے، آج کل کے کسی رول ماڈل کو سامنے رکھ لیں، مثلاً ترکی، ویت نام، ملائیشیا ، انڈونیشیا وغیرہ کیونکہ اس پر عملدرآمد ان کے لیے آسان ہوگا، اور کسی گستاخی کا احتمال بھی نہیں ہوگا، ان کی کچن کابینہ میں جوشامل ہیں ان کا بھی ملک یا صوبے چلانے کا کوئی تجربہ نہیں نہ ہی انہوں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے ، اسی لیے ہربحران کے بطن سے نئے بحران پیدا ہورہے ہیں، اور صوبائی اور ملکی انتشار پیدا ہورہے ہیں، جوکسی بھی وقت سراٹھا سکتے ہیں۔ ان خدشات کا تدارک کیونکر ممکن ہے ، کیا کبھی ان کی بیخ کنی، اورخطرات کے تدارک کے لیے دانشواران وطن نے مل بیٹھ کر اپنی حُب الوطنی کا ثبوت دینے کے لیے عملی سبیل کی تدبیر کی ؟حالانکہ علماءاور صاحب الرائے حضرات نے بتایا ہے کہ قرآن حکیم نے اخلاقی رواداری کے جو اصول پیش کیے ہیں، اس پر عمل پیرا ہونے سے انسان” عبدیت“ کے بلند ترین مقام پہ فائز ہوسکتا ہے ، حکماءاور فلاسفروں نے مختلف دور میں اخلاقی اقدار سے متعلق بہت کچھ لکھا ہے ، اور ”انسان کامل“ کا نظریہ پیش کیا ہے اور یہ سلسلہ آج تک، اور ابھی بھی قائم ودائم ہے ۔

مگران مسلسل کاوشوں کے باوجود کسی نے وہ اخلاقی اقدار پیش نہیں کیں جو اتنی احسن واکمل ہوں، جیسی کہ سورة اسراءمیں موجودہیں۔ اسلامی ریاست اورمعاشرے کی تعمیر کے لیے بنیادی اصول کچھ اس طرح سے ہیں، کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کو معبود نہ بنایا جائے، اور نہ سمجھا جائے، عبادت بندگی، اطاعت اور فرماں روائی کے حقوق میں کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے، اجتماعی زندگی میں تعاون، ہمدردی، اور ایثار کا جذبہ موجود ہونا چاہیے، یہ تعلیمات اسلامی، محض حکمرانوں کے لیے ہی نہیں، بلکہ عوام الناس کے لیے بھی ہیں تاکہ اس پر عمل کرکے معاشرے میں بہتری لاکر مملکت کو راہ فلاح پر ڈالا جاسکے اس لیے ، رشتہ داروں، مسکینوں عزیز واقارب اور ”مسافروں“ کے حقوق خندہ پیشانی سے ادا کیے جائیں۔ ان احکامات پہ وزیر ریلوے شیخ کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ جو یہ تو فرماتے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ بندہ ہوں، مگر انہیں شیخ رشید کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کی زندگی کو اجیرن بنادیا جاتا ہے ، اور گاڑیاں اگر حادثات سے بفضل خدا بچ جائیں، تو پورے پورے دن کے لیے لیٹ کردی جاتی ہیں۔ اسلامی مملکت میں اگر ایک مسافر کہیں بھی جائے، اپنے آپ کو مہمان نواز لوگوں کے درمیان پائے، معاشرے میں حق، اور حقوق کا تصور اتنا وسیع ہو کہ ہر شخص ان سب انسانوں کے حقوق اپنے آپ پر محسوس کرے، جن کے درمیان وہ رہتا ہے ، ان کی خدمت کو اپنا شعار بنالے۔ اگر وہ کسی خدمت کے قابل نہ ہو، تو بڑی نرمی سے معذرت کرے، اور خدا سے فضل مانگے تاکہ وہ دوسروں کے کام آسکے۔

لوگ اپنی دولت کو غلط طریقے سے خرچ کرکے ضائع نہ کریں، اور حکمران بھی یہ ذہن نشین کرلیں، کہ روز محشر خالق ومالک رعایا کے ایک ایک پیسے اور پائی کا حساب لے گا، اور یہ کبھی نہ بھولے، کہ حضرت عمر ؓجیساحکمران بھی وفات کے بعد جب اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوا، تو ان کی پیشانی پسینے سے شرابور تھی اس لیے فخر، ریا، اور نمائش کے خرچ، عیاشی اور فسق و فجور کے خرچ جو انسان کی حقیقی ضروریات اور مفید کاموں میں صرف ہونے کے بجائے دولت کو غلط راستوں پہ بہادیں، یہ خدا کی نعمت کا کفران ہیں۔ جو اس طرح اپنی دولت کو خرچ کرتے ہیں، وہ حقیقت میں شیطان کے بھائی ہیں، یہ تہمت محض عوام پہ نہیں لگائی جاسکتی، ایک صالح معاشرے کا فرض ہے کہ ایسے بے جا ، اسراف اور صرف کال کو اخلاقی تربیت، اور قانونی پابندی کے ذریعے روکا جائے، اپنا ہاتھ نہ تو گردن سے باندھ کر رکھو ، کہ ایک حکمران اپنے مہمان کو جو رات دن کے سفرکے بعد آپ کے پاس پہنچے، تو اسے صرف بسکٹ پیش کرکے، اپنی ذاتی تشہیر کا بندوبست کرے۔ میں یہ عرض کررہا تھا، کہ اللہ تعالیٰ نے بخیل، اور کنجوس ، جو دولت کی گردش کو روکنے کا سبب جائے، اس کو بالکل پسند نہیں فرمایا، مگر اس کے ساتھ ساتھ فضول خرچی کو بھی پسند نہیں فرمایا، اور کہا ہے ، کہ اگر ایسا کرو گے تو ایسے ہی رہ جاﺅ گے، اورلوگ تم کو ملامت بھی کریں گے، اور تم عاجز آجاﺅ گے۔

تمہارا پروردگار جس کے لیے چاہتا ہے ، رزق کشادہ کردیتا ہے ، اور جس کے لیے چاہتا ہے ، تنگ کردیتا ہے ، کیونکہ وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے ، اور وہ انہیں دیکھ رہا ہے ۔

قارئین کرام، اب آپ مسلمان ہیں، تو پھر صرف اسی پہ ایمان رکھتے ہوئے، یہ یقین کرلیں، کہ عوام کی حالت زارکو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے ، جب کہ ہمیں تو یہ پتہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہماری ماں سے بھی ستر گنا زیادہ رحیم و کریم ہے ، تو پھر کیا وجہ ہے کہ لوگ ایک روٹی کے لیے بھی ترستے ہیں؟

جیسا کہ میں نے پہلے بھی لکھا ہے کہ اگر ہرانسان اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنے فرائض کو بھی یاد رکھے، کہ ہمیں تو یہ بھی تاکیدکی گئی ہے ، کہ ہمارے گھر میں پکنے والی خوشبو ہمسائے کے گھرتک نہ جائے، مثلاً کھانے کے بعد ہڈیاں وغیرہ ایسی جگہ نہ پھینکی جائیں، کہ جس کو دیکھ کر آپ کا ہمسایہ ”دل گرفتہ“ ہو جائے، لہٰذا بہتر ہے کہ انسان کوئی اچھی چیز بنائے تو اپنے ہمسائے کو بھی بھیج دے، اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ، اس میں حکمران سے لے کر ہرانسان کے لیے وضع کردہ قانون اصول اور احکامات موجود ہیں، ہمارا مسئلہ محض یہ ہے ، کہ ان اصولوں پہ نہ تو حکمران عمل کرتے ہیں، اور نہ ہی رعایا اور اللہ تعالیٰ نے توواضح بتادیا ہے کہ جیسی رعایا ہوگی ویسے حکمران مسلط کردوں گا، قارئین آپ لفظ ” مسلط “ کو کن معنوں میں لیتے ہیں، یہ اب آپ کی صوابدید پہ ہے ۔


ای پیپر