عمرہ نامہ ! ....(آٹھویں قسط)
02 جولائی 2019 2019-07-02

گزشتہ سے پیوستہ....

اپنے عمرے کے ”کالمی سفرنامے“ کی گزشتہ قسط کا اختتام میں نے ایک انتہائی عظیم اور نفیس پولیس افسر جاوید نور(مرحوم) کے ذکرخیر سے کیا تھا وہ اُن دنوں ڈی جی آئی بی تھے، زرداری کے ساتھ عمرے پر میں نے چونکہ اگلے روز روانہ ہونا تھا لہٰذا پاسپورٹ اُن کے سٹاف کے حوالے کرکے میں نے سوچا کیوں نہ ایک بابرکت سفر پر روانہ ہونے سے پہلے ایک نیک انسان سے مِل لیا جائے۔ ویسے بھی اُن دنوں میں جب بھی اسلام آباد آتا اکثر جاوید نورصاحب کے پاس ہی ٹھہرتا تھا۔ وہ مجھ سے بڑی محبت فرماتے تھے، اور مجھے اُن سے جو عقیدت تھی اُس کی واحد وجہ اُن کی عاجزی، ایمانداری اور اہلیت تھی جو اب ہمارے افسروں خصوصاً پولیس افسروں میں نہ ہونے کے برابر ہے، ایمانداری کا تصور تو بالکل ہی ختم ہوتا جارہا ہے۔ اگر ہے بھی تو صرف پیسے یعنی رشوت وغیرہ نہ لینے کے عمل کو ہی ”ایمانداری“ سمجھا جاتا ہے جبکہ اصل ایمانداری میرے نزدیک مثبت ذہنیت اور خلق خدا کی خدمت کا نام ہے، یہ جذبہ اب بہت کم افسران میں موجود ہے، ایک زمانہ تھا رشوت لینے والے افسر کو بہت بُرا سمجھا جاتا تھا، اب نہ لینے والے افسر کو بُرا سمجھا جاتا ہے ، جہاں تک رشوت کا تعلق ہے اُسے بالکل ہی بُرا نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اپنا ”حق“ سمجھا جاتاہے، جیسا کہ اپنے گزشتہ کالم میں بھی میں نے لکھا تھا ”ایک ڈی ایس پی سے میں نے گلہ کیا ”آپ نے میرے فلاں دوست سے پچاس ہزار رشوت لی، اور اُس کا کام بھی نہیں کیا“ وہ فرمانے لگے ” میں نے رشوت لی ہے تو کام ضرور کروں گا، میں نے اپنے بچوں کو کبھی حرام نہیں کھلایا“ یعنی اب رشوت لے کر کام کرنا ”عین عبادت“ ہے، رشوت لے کر کام نہ کرنا چھوٹی موٹی خرابی سمجھی جاتی ہے، جاوید نور بہت دھیمے مزاج کے مگر بہت دلیر پولیس افسرتھے، اب مختلف سرکاری محکموں میں زیادہ تر ”الماس بوبی“ ہی دیکھائی دیتے ہیں، جو دلبری اور دلیری ماضی کے اکثر افسران میں ہوتی تھی موجودہ افسران میں اُس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، یہ ایسا موضوع ہے جو دوچار لائنوں، دوچار کالموں میں مکمل نہیں ہوسکتا، اِس کے لیے کئی تھیسزلکھنا پڑیں گے ....میں نے جاوید نور کو بتایا میں عمرے پر جارہاہوں، وہ بہت خوش ہوئے، فرمانے لگے ” یہ بہت بڑی سعادت ہے“، میں نے عرض کیا ” مگر میں صدرزرداری کے ساتھ جارہا ہوں“۔ وہ مسکرادیئے، فرمایا ” اس کے باوجود یہ بہت بڑی سعادت ہے“ ،....پھر اُنہوں نے مجھے اپنے پہلے عمرے کی کہانی سنائی، جو کہانی کم میرے لیے ”گائیڈنس “ زیادہ تھی، میری موجودگی میں اُنہیں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی کال آگئی، مجھے اِس کا اندازہ اُن کی گفتگو سے ہوا جو وزیراعظم سے وہ کررہے تھے، وہ فرمارہے تھے ”سر آپ کی مہربانی، عزت کے ساتھ نوکری مکمل ہونے والی ہے، مزید کسی عہدے یا ایکسٹینشن کا خواہش مند نہیں ہوں، میں ایکسٹینشن وغیرہ لے کر کسی کو اُس کے حق سے محروم نہیں کرنا چاہتا، میں اب آرام کرنا چاہتا ہوں“.... میں نے محسوس کیا ایک طرف اصرار بڑھتا جارہا تھا، دوسری طرف ایک انتہائی قناعت پسند پولیس افسر مسلسل معذرت کررہے تھے، فون بند ہوا، میں نے اُن سے کہا ”سر مجھے لگتا ہے یہ وزیراعظم کا فون تھا، انہوں نے بات ٹال دی، دوبارہ عمرے کا ذکر چھیڑ دیا، میں نے پھر اُن سے پوچھا ”سر بتائیں یہ وزیراعظم کا فون تھا ؟“۔ میرے اصرار پر اُنہوں نے اقرار کرلیا وزیراعظم کا فون تھا، یہ ظرف بہت کم بڑے غیرت مند افسروں میں ہوتا ہے اُنہیں بوقت ریٹائرمنٹ ایکسٹینشن وغیرہ کی پیشکش کی جائے، یا کسی اور اہم عہدے سے نوازا جانے لگے وہ یہ سوچ کر اس سے معذرت کرلیں کہ اس سے کسی کا حق مارا جائے گا، ہمارے زیادہ تر افسران، سیاسی وفوجی حکمرانوں کی ہرجائز ناجائز خدمت یا مالش وغیرہ کرتے ہی صرف اس لیے ہیں ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اُنہیں ایکسٹینشن وغیرہ سے نواز دیں، یا کسی ایسی اہم پوسٹ پر لگادیں جہاں ایسی تنخواہ اور مراعات اُنہیں حاصل ہوں اُنہیں ریٹائرمنٹ کا احساس ہی نہ ہو، ایک سابقہ پولیس افسر مشتاق سکھیرا اس حوالے سے جس غلیظ اور بدترین مقام پر جاکر کھڑے ہوگیا کوئی غیرت مند افسر اُس کا تصور بھی نہیں کرسکتا، سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے اِس مرکزی کردار کو بطور آئی

جی پنجاب ریٹائرمنٹ کے بعد شریف حکمرانوں نے ایسی ہی خدمات کے صلے میں ایسے عہدے سے نوازا جس کا اُسے کوئی تجربہ ہی نہیں تھا، پچھلے دنوں موجودہ حکومت نے یہ ”نوازش“ واپس لی تو بجائے اس کے تھوڑی سی غیرت کسی سے اُدھار لے کر حکومت کا یہ فیصلہ وہ قبول کرلیتا ” حکم امتناعی“ کے پیچھے چھپ گیا، اُس سے اچھا ذوالفقار چیمہ نکلا جسے سرکار نے الگ کیا وہ خاموشی سے ہوگیا، بلکہ یہ تاثر دے کر اپنی عزت بھی بچالی کہ اس عہدے سے وہ رضاکارانہ طورپر الگ ہوا ہے، حالانکہ اس کا آدھے سے زیادہ ٹبر عدلیہ سے وابستہ ہے اور اس خصوصیت کی بنیاد پر وہ بھی کوئی حکم امتناعی وغیرہ حاصل کرکے ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والے اپنے عہدے کی مدت آسانی سے پوری کرسکتا تھا، .... مشتاق سکھیرے کے پاس اب صرف عہدہ ہی رہ گیا ہے، عزت نہیں رہی، عزت کی اس کے ہاں ویسے بھی کوئی اہمیت نہیں، ایسے لوگ بے عزتی کوبھی عزت ہی تصورکرتے ہیں، .... یہ ایسا ”بددعایا“ ہوا شخص ہے جس کے بارے میں کوئی کلمہ¿ خیر نہیں کہتا، .... بات سے بات نکلتی ہے، پھر بات چل نکلتی ہے اور سنبھالی نہیں جاتی، ارادہ صرف عمرے کے پاک سفر پر لکھنے کا تھا کہ ایک ناپاک شخص کا ذکر بیچ میں ایسے ہی آگیا ،....جاوید نور صاحب نے اصرار کیا رات میں ان کے ہاں قیام کروں، لاہور سے ان کی فیملی بھی آئی ہوئی تھی، سو خوب گپ شپ ہوئی، رات دس بجے کے لگ بھگ احمد ریاض شیخ کی کال آگئی، میں اس کال کا منتظر تھا، انہوں نے بتایا ”آپ کا عمرے کا ویزا لگ گیا ہے، آپ نے صبح نوبجے تک اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچنا ہے“۔ میںان کی ہدایت کے مطابق ٹھیک نوبجے صبح اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچا، صدر زرداری کے پولیٹیکل سیکرٹری ڈاکٹر قیوم سومرو اور اس وقت کے وفاقی وزیر دفاع احمد مختار نے میرا استقبال کیا، میرا کیا سبھی کا استقبال وہی کررہے تھے، وہ مجھے ایئرپورٹ کے وی وی آئی پی لاﺅنج میں لے گئے، وہاں کچھ لوگ احرام باندھے بیٹھے تھے، بہت سے چہرے جانے پہچانے تھے، ان میں کچھ ارکان اسمبلی، کچھ وفاقی وزراءاور کچھ ملک کے معروف صنعت کار تھے، زیادہ تر ایسے تھے جن کا تعلق سندھ خصوصاً کراچی سے تھا، میں نے بھی احرام باندھ لیا جو اسلام آباد آتے ہوئے لاہور سے میں نے خرید لیا تھا، میں ایک کونے میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا، اچانک پیچھے سے کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا، میں نے دیکھا وہ اس وقت کے وفاقی وزیر قانون بابر اعوان تھے۔ (جاری ہے)


ای پیپر