لٹیروں سے پیسے کیسے لو گے........
02 جولائی 2019 2019-07-02

ڈالر کی اونچی پرواز اور پاکستان کا شدت اختیار کرتا مالی بحران، پی ٹی آئی حکومت کا کڑا امتحان ہے۔ اس وقت پاکستان کے مالی حالات ہاسٹل کے ان لڑکوں کی طرح ہیں جہاں سب کچھ موجود تو ہے لیکن اپنی نہیں ہے، چائے بنانے کیلئے کیٹل ساتھ والے کمرے سے پکڑی ہوئی ہے، سات آٹھ جوتوں کے جوڑے ہیں لیکن سب دوستوں نے پہننے کو دے رکھے ہیں، کمرے میں ہر قسم کی تزئین و آرائش ہے لیکن ساتھ ہی یہ خوف لاحق ہے کہ ان چیزوں کا اصل مالک کسی بھی وقت ان چیزوں کی واپسی کا تقاضہ کر سکتا ہے۔ یہ ہی خوف ، تذبذب اور پریشانی حکومت کو بھی ہاسٹل کے ان لڑکوں کا کمرہ بنا چکی ہے جہاں مراد سعید کی بڑھکیں، خسرو بختیار کی نا اہلیاں، اسد عمر کی اوور سمارٹنس ، فواد چودھری کا پلاسٹک احمد شاہ ابدالی بننے کا شوق، شاہ محمود قریشی کی پوائنٹ اسکو رنگ ، شیریں مزاری کی کچھ نہ کر دکھانے کی آرزو، علی محمد کے گاندھی گری کے شوق، حفیظ شیخ کی آئی ایم ایف کو تسلی کہ “فکر نہ کریں جلد گروی ہو جائیں گے ” ، شفقت محمود کی غیر سنجیدہ وزارت سمیت ہاسٹل کے کمرے میں یہ سب لڑکے جنھوں نے اس وقت حکومت بنا رکھی ہے ان کو اگلے پانچ سال میں73 بلین ڈالر جو کہ جون 2018 سے پہلے قرض لے چکے، ادا کرنا ہونگے۔ جی ہاں جون دو ہزار اٹھارہ سے پہلے۔ یہ رقم ہماری آمدن سے زائد، سٹیٹ بینک کے ریزرو سے آٹھ گنا زائد، اوورسیز کی جانب سے آنے والی رقوم کی مد میں موصول ہونے والی رقم سے دو گنا زیادہ ، ہماری درآمدات سے108 گنا زائد اور اسٹاک مارکیٹ کی ٹوٹل ویلیو کا ساٹھ فیصد ہے۔

ان پریشان کن تقابلی اعدادوشمار کے بعد حل کی صرف ایک ہی صورت جو نکالی گئی ہے وہ یہ کہ مزید ادھار لیا جائے تاکہ پچھلا ادھار چکایا جا سکے ، اس تھیوری کو جو حفیظ شیخ پریکٹیکل کی صورت میں کررہے ہیں، یہ اکناممکس نہیں “Darnomics” تھیوری ہے۔ مراد سعید جیسے شخص کے مطابق عمران خان نے آنا تھا اور پہلے ہی دن لوٹی ہوئی کل رقم لٹیروں کے پیٹ سے نکلوا کر آئی ایم ایف کے منہ پر دے مارنا تھی اور حکومت سنبھالتے ہی عوام کو سرخرو کر دینا تھا۔ بہرحال معیشت دان Darnomics کے تحت کوئی بھی حل تلاش نہیں کر پا رہے تاہم قوم کو انگیج رکھنے کیلئے اپوزیشن رہنماو¿ں کی گرفتاریاں ، میڈیا اور عدالت کے سامنے پیشی پہ پیشی کے ذریعے لوٹا ہوا مال نکلوا کر قرضوں کی ادائیگی کے لائحہ عمل پر کاربند ہیں۔ اور اب اس بے وقوفی سے بھی پردہ اٹھانے کا وقت آ چکا ہے ، یاد رکھیئے کہ جب بھی فنڈز اوورسیز بھیجے جاتے ہیں ان کو با اعتماد کمپنیوں کی اپنے مخصوص دائرہ کار کے تحت جمع کیا جاتا ہے چنانچہ ایسے فنڈز کا واپس آنا قریب ترین نا ممکن ہے، ہر چند کہ مجرم خود سے وہ رقم پیش نہ کردے چنانچہ مغرب کے قانون کے تحت یہ ایک بہت بڑا قانونی سقم ہے۔ جب ایسی رقم یا فنڈز تحویل میں لئے جاتے ہیں تو ان فنڈز کو واپس آنے کیلئے کئی دہائیاں درکار ہوتی ہیں، یہ نصف صدی کا قصہ ہوگا کوئی ایک دہائی کی بات نہیں۔ لہٰذا آپ لٹیروں سے حساب ضرور لیجئے لیکن اس حساب کا فیصلہ تیس چالیس سال میں تو ہونے والا نہیں، حکومتِ وقت اپوزیشن کو جیل میں رکھ کے خوف کی لہر تو قائم کر سکتی ہے لیکن معاشی پالیسی ترتیب نہیں دے سکتی۔

اب دوسرے درجے میں ان فنڈز کی ترسیل کے مکینیکل طریق کار کی بات کریں تو وہ کچھ یوں ہے کہ سب سے پہلے یہ پیسہ کیش کی صورت حوالا کے ذریعے دبئی کے اکاو¿نٹس میں منتقل ہوتا ہے جو کہ اپنے آپ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ فنڈز کی ترسیل کیلئے دبئی ہی پہلا ٹرانزٹ ہوا کرتا ہے۔ دبئی سے یہ رقم فوری طور پر ٹرسٹ میں منتقل کی جاتی ہے۔ وہاں سے اس کو Belize کی جانب کچھ دنوں کیلئے روانہ کیا جاتا ہے۔ وہاں سے اس رقم کو Bahamas کے ایک ٹرسٹ میں بھیج دیا جاتا ہے جس کو انگلینڈ کی ایک لاءفرم کی ہدایت کے مطابق ایک کلائینٹ کی طرف سے آپریٹ کیا جاتا ہے اور کلائینٹ جو دنیا کے کسی بھی ملک میں ہو سکتا ہے، کی تمام معلومات مکمل طور پر صیغہِ راز میں رکھی جاتی ہیں۔

اب تیسرے درجے میں ہم یہ جائزہ لے لیں کہ ان تمام فنڈز کو اگر ریکور کرنا ہو تو کیسے ہوسکتا ہے۔ جیسے پہلے دو درجوں میں فنڈز کو ٹریک کرنا نا ممکن ہیں ویسے ہی ریکوری بھی ناممکن ہے لیکن نا ممکن کو سمجھ لیجئے۔ اس مرحلے میں آپ قانونی چارہ جوئی کی خاطر دبئی حکام کو ان فنڈز کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں کہ تفتیش کی جائے کہ یہ فنڈز ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچے ہیں یعنی دبئی سے Belize تک۔ قانونی طور پر اس عمل کو بذریعہ عدالت کیا جائے گا اور کرشماتی طور پر آپ دبئی میں اس قانونی جنگ کو جیت بھی گئے تو اب آپکو Belize کی عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔ فرض کیجئے کہ خان صاحب کی حکومت قسمت کی دھنی نکلتی ہے تو اس کو یہ ہی عدالتی اور قانونی عمل انگلینڈ میں بھی دہرانا ہو گا اور سلسلہ جونہی چلتا رہے گا۔ اس عرصہ کے دوران فر سٹیشن میں اگر آپ کچھ ملین ڈالر کی ریکوری کی خاطر” United Nations stolen asset recovery initiative star“ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں تو پتہ چلے گا کہ یہ عمومی طور پر صرف ڈرگز یا منظم جرائم کے تحت خورد برد کی رقم کو واپس کرنے کا مجاز ہے۔

ان تینوں مثالوں کو سمجھنے کے بعد عوام اس بات کو بھی سمجھ لے کہ لوٹی ہوئی رقم کو واپس لینے کے شور سے پی ٹی آئی ایک بار پھر حکومت تو بنا سکتی ہے لیکن چالیس سے پچاس سال تک بھی یہ رقم قرض لوٹانے کے کام نہیں آئے گی، مالیاتی میکینزم کے مطابق یہ ایک بے تہاشا مہنگا ، وقت طلب اور تب بھی ناممکن چیز ہے۔

اب کوئی خان صاحب کو کچھ مالیاتی معاملات پڑھائے اور مالیاتی تاریخ کی کچھ کیس اسٹڈی کی مدد سے بتانے کی کوشش کرے اور ان سے پوچھے کہ خان صاحب ملکوں کی تاریخ میں ایسے فنڈز کبھی ریکور ہوئے؟ ہوئے تو کتنے؟ اور اگر چند ہیں تو انگلیوں پر گن لیں کیونکہ یہ تمام صرف دہشت گردی،نسل پرستی اور منشیات سے منسلک ہیں۔ چنانچہ سیاسی مخالفین کے جیل آنے جانے سے لوٹی ہوئی رقم واپس نہیں آئے گی۔

اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ حکومت اس مالیاتی کچرے کو صاف کرسکتی ہے؟ اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ کہ ادھار واپس کرنے کیلئے مزید ادھار لینا حل ہے تو ڈار صاحب بھی یہی کرتے رہے اور یہ حکومت بھی یہی کرے گی جو کسی صورت حل نہیں ہے۔

پاکستان کے دوست ممالک نے پاکستان کو بینک کر پٹ ہونے سے بچا تو لیا لیکن پاکستان کو فوری طور پر مالیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ امداد کی مد میں سعودی عرب ، یو اے ای اور چین اگر فوری مدد نہ کرتا تو پاکستان اس مالیاتی دلدل میں پھنستا جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ باقی رہ جاتا، اس پر تفصیلات اگلے کالم میں پیش کی جائیں گی۔ بہرحال نیب اپنا کام کرے لیکن اس سے پاکستان کو کسی صورت مالیاتی تشفی حاصل نہیں ہو گی۔ حل صرف مالیاتی ایمرجنسی نافذ کرنا ہی ہے۔


ای پیپر