File Photo

الیکشن 2019ءاور مودی سرکار کے ہتھکنڈے
02 جولائی 2018 (23:01) 2018-07-02

امتیازکاظم:گورکھپوری (حوشی نگر) کا یوگی آدتیہ ناتھ گورکھپورکی لوک سبھا کی نشست مسلسل حاصل کرتا چلا آ رہا تھا۔ 2014ءکے انتخابات میں بھی اس نے یہ نشست حاصل کر لی جوکہ بڑی اہمیت کی حامل نشست ہے۔ سابقہ کارکردگی اور کٹر بنیاد پرست تنظیم آر ایس ایس کی بھرپور سپورٹ سے اسے اتر پردیش جیسی اہم ریاست کا چیف منسٹر بنا دیاگیا۔ مودی کے لئے آر ایس ایس کی سفارش ٹھکرانا اُس کے بس کی بات نہیں لیکن یہ کیا؟ کہ جیسے ہی خالی سیٹ پر ضمنی انتخابات ہوئے سماج وادی پارٹی کے امیدوار نے یہاں کی نشست جیت لی۔ سوال یہ ہے کہ وہی گورکھپور ہے وہی ووٹرز ہیں سال بھی وہی ہے تو یوگی جیت کیسے گیا اور پھر ہارا کیسے؟ پھر یہاں نعرے بھی لگے کہ ”دلی میں مودی یو پی میں یوگی“ حالانکہ دہلی اور بہارکے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔کیشو پرساد موریہ پھولپور کی نشست سے واضح کامیابی حاصل کرنے والا مضبوط امیدوار تھا، اسے ڈپٹی چیف منسٹر اترپردیش بنایا گیا تو پھولپورکی یہ نشست خالی ہوئی۔ لوک سبھاکے ضمنی الیکشن میں یہ سیٹ بھی سماج وادی پارٹی۔ بی ایس پی کی حمایت سے حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔کرناٹک کے ضمنی الیکشن میں تو حد ہی ہوگئی کہ اس اہم سیٹ کی جیت کے لئے نریندر مودی خود میدان عمل میں اترا اورکانگریس کے خلاف یہاں کی کمان سنبھالی جبکہ مودی کا دست راست امیت شاہ یہ سیٹ جتوانے کے لئے دولت کا انبار لئے میدان میں آیا۔ جوڑ توڑ، بانٹو، خریدو، قیمت لگاﺅ، ووٹ خریدو تمام حربے آزمائے گئے پھر بھی کانگریس اور جنتا دل (سیکولر) یہاں سے چناﺅ جیت گئے اور آپس میں اتحاد کر کے کرناٹک کا اقتدار حاصل کر لیا۔ اوائل جون میں کیرالہ کے ضمنی انتخابات کے نتائج سامنے آئے جس میں یوگی آدتیہ ناتھ کو بذات خود پارٹی کی مہم چلانے کے لئے نامزد کیا گیا اور اس نے خوب دھوم دھام سے مہم بھی چلائی۔


بی جے پی کے مقابلے میں راشٹریہ لوک دل کی مسلم خاتون تبسم حسن تھیں۔ تمام تر کوششوں کے باوجود بھی بی جے پی یہ سیٹ ہارکر اپنے گلے کا ہار بنا گئی بلکہ ایک ریکارڈ بھی بن گیا کہ 17ویں لوک سبھا میں تبسم حسن اترپردیش کی پہلی خاتون مسلم رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں۔ 2014ءکے الیکشن میں بی جے پی 284 نشستیں جیت کر پھولے نہ سما رہی تھی لیکن اب لوک سبھا میں اپنی اکثریت کھو بیٹھی ہے۔ مودی حکومت نہ تو اپنے نعرے ’سب کا ساتھ سب کا وکاس“ پورا کر سکی نہ ہی نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کر سکی، تعلیم کا بیڑا غرق ہوا، ہندوستانی بینکوں سے بڑے بڑے نامور فراڈیے کروڑوں، اربوں لوٹ کر ملک سے بھاگ گئے، پٹرول 80 روپے لٹر سے اوپر جا رہا ہے، کسان روز بروز قرضوں تلے دب کر خودکشیاں کر رہے ہیں، معیشت دگرگوں ہے لیکن داد دینی پڑتی ہے مودی اور بھارت کی ہندوانتہا پسند تنظیموں کی کہ انہوں نے بھارتی عوام کو کن فضول کاموں میں الجھائے رکھا یعنی ”گﺅرکھشا“، ذبیحہ پر پابندی، اذان پر پابندی کہ اس سے ساﺅنڈ پولیوشن پھیلتی ہے۔ علی گڑھ یونیورسٹی میں ہنگامہ آرائی، سڑکوں اورکھلے پارکوں میں نماز پڑھنے پر پابندی۔ مسلمانوں پر گائے خریدنے پر پابندی اور شام سات بجے سے صبح تک گائے کی ہر قسم کی نقل و حرکت پر پابندی،نیز اسی طرح کے فضول ترین کاموں میں بھارتی عوام کو الجھائے رکھا۔

مقصد مسلمانوں کو دیوار سے لگانا تھا لیکن اب جبکہ عام ہندو کے پیٹ پر لات پڑی ہے تو اُسے دن میں تارے نظر آنے لگے ہیں کہ مودی کا تمام پروگرام سوائے سراب اور دھوکے کے اور کچھ نہیں تھا۔ 2002ءکا مودی کا گجرات جس میں دنگا، فساد اور قتل عام کے سوا کچھ نظر نہیں آتا کم از کم بھارتی مسلمانوں کو تو نہیں بھولا ہوگیا اور اب ضمنی انتخابات میں اہم نشستوں پر جگہ جگہ شکست مودی سرکار کی کارکردگی کا پول کھولتی نظر آ رہی ہے۔ ایسے میں دلت اور مسلمانوں کا اتحاد قائم کرنے کی جو کوششیں ہیں وہ عروج پر ہیں۔

صرف اگر اترپردیش جیسی بڑی اور اہم ریاست کی بات کی جائے تو وہاں کے 49 اضلاع میں دلت ووٹر اکثریت میں ہیں جب کہ 20 اضلاع میں مسلم ووٹرز اکثریت میں ہیں۔ دلت 49 اضلاع میں اس لئے اکثریت میں ہیں کہ یہاں دلتوں کی70 کے قریب ذاتیں مقیم ہیں اور صرف اترپردیش میں ہی دلت ووٹروں کی اوسط کل آبادی کا21 فیصد سے زائد ہے اور مسلم ووٹروں کی اوسط 20 فیصد یعنی دونوں مل کر41 فیصد زیادہ کا کمال دکھا سکتے ہیں۔ لوک سبھا کی کل 545 نشستیں ہیں۔ جن میں دلتوں اور شیڈولڈ کاسٹ کی بالترتیب 84 اور 47 لوک سبھا نشستیں ہیں یعنی شیڈولڈ کاسٹ اور ٹرائس کے لئے کل 131 نشستیں ریزرو ہیں اور ان کی 545 نشستوں میں سے اترپردیش کی نشستیں 80 ہیں اور ان 80 میں سے 17 شیڈولڈ کاسٹ وغیرہ کے لئے ہیں۔

صرف اترپردیش میں مجموعی صورت حال کچھ اس طرح سے ہے کہ 131 ریزو لوک سبھائی نشستوں میں سے 67 سیٹیں بی جے پی (مود) کے پاس ہیں 13 سیٹیں کانگریس کے پاس۔ ترنول کانگریس کے پاس 12 جبکہ بیجو جنتا دل اور اناڈی ایم کے سات سات نشستیں رکھتی ہیں۔ بھارت میں پچھلے ستر سال سے مسلمانوں کے ووٹ بینک کو کیش کرانے کی پالیسی چلتی رہی ہے جس کے ساتھ ساتھ دلت ووٹ بینک بھی اہم کردار ادا کرتا چلا آ رہا ہے۔ اب یہ دونوں (دلت،مسلم) اتحاد کر کے اگر آگے بڑھتے ہیں تو 2019ءکے الیکشن میں نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آئیں گے جس کا فائدہ کانگریس اور بی جے پی سمیت سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی اٹھانا چاہئے گی۔


ماضی میں بھی ان چاروں جماعتوں کے اتحاد اتر پردیش میں بنتے رہے ہیں۔ مثلاً 1989ء ملائم سنگھ یادو، بی جے پی ، بھارتیہ جنتا پارٹی (بھاجپا) کی حمایت سے وزیراعلیٰ اترپردیش بنے جبکہ 1991ءمیں بھاجپا کی مکمل اکثریتی سرکار بنی اور کلیان سنگھ وزیراعلیٰ بنے لیکن 1992ءمیں بابری مسجد سانحہ کے بعد کلیان سنگھ حکومت برخاست ہوئی۔ 1993ءکے الیکشن میں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے اتحاد کیا جس میں مایاوتی اور ملائم سنگھ باریاں لیتے رہے پھر2001ءمیں راجناتھ سنگھ وزیراعلیٰ بنے۔2007ءکے الیکشن میں مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی مکمل اکثریت سے سامنے آئی اور اب آدتیہ ناتھ یوگی کی قیادت میں مکمل اکثریتی سرکار بنی ہوئی ہے۔

گنتی اور ووٹ فیصد کے حساب کتاب کے ماہرین اترپردیش کی 15 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں جو کہ حالیہ ہوئے ہیں، سے اندازہ لگا رہے ہیں کہ 2014ءکے انتخابات میں بی جے پی (بھاجپا) کو 191 سیٹیں ملی تھیں لیکن اسمبلی انتخابات میں جو ووٹ فیصد بنتے ہیں اس حساب سے بی جے پی کی نشستیں 146 بنتی ہیں یعنی پوری 45 سیٹیں کم اور یہ ایک بہت بڑا دھچکا ہوگا جو کہ بی جے پی کو صرف اترپردیش سے ملے گا جبکہ الیکشن میں ایک ایک سیٹ کی بڑی اہمیت ہوتی ہے موجودہ بی جے پی مودی سرکار کے پاس کل 272 نشستیں رہ گئی ہیں اور یہ بھی آہستہ آہستہ گھٹتی جا رہی ہیں۔ موجودہ ماڈرن دور میں میڈیا کے سر پر اس کی حمایت سے انتخابی مہم چلانا اور میڈیا کی حمایت حاصل کر کے انتخابات جیتنا بھی ایک فیشن بن کر رہ گیا ہے۔

ٹرمپ نے ہیلری کے مقابلے میں سوشل میڈیا پر بہت کم پیسہ لگا کر انتخابات جیت لئے۔ مودی کو بھی میڈیا کی غیرمشروط حمایت حاصل رہی۔ میڈیا نے حکومت کے حق میں تعریفوں کے پل باندھے اور ناجائز قانون کو خصوصاً مسلمانوں کے خلاف بننے والے ہر ناجائز قانون کو جائز قرار دیا گیا۔ حتیٰ کہ گائے جیسے جانور کے بدلے میں اشرف المخلوقات انسانوں کو قتل کر دیا گیا لیکن میڈیا کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ ہندو یووا واہنی جیسی بیہودہ تنظیم نے ایک ہندو ناری کو مسلمان بنانے کے بدلے میں سو مسلم ناریوں کو ہندو بنانے کا اعلان کیا اور یہ کام گورکھپور (خوشی نگر) کے یوگی آدتیہ ناتھ کی تنظیم انجام دے رہی ہے جو واہنی کا سربراہ بھی ہے۔

ان حالات میں مودی نے اپنے بہت سے یوگی، مہنت،گرو، بابے وزیراعلیٰ بنا رکھے ہیں جو آر ایس ایس اور بھاجپا کے علاوہ اپنی اپنی علاقائی تنظیمیں بھی رکھتے ہیں تو مودی کو اگر یہ محسوس ہوا کہ اس کے لئے آنے والے انتخابات میں جیت مشکل ہو جائے گی تو کہیں ایسے میں وہ گجرات والا کھیل دوبارہ نہ کھیل دے تاکہ ہندوﺅں کی غیرمشروط حمایت حاصل کر سکے یا پھرکہیں سے وہ کوئی کرنل پروہت جیسا کوئی کردار سامنے نہ لے آئے جبکہ امیت شاہ جیسا قاتل پہلے ہی اس کی مٹھی میں کہیں پھرکسی سمجھوتہ ایکسپریس پر حملہ نہ ہو جائے یا ممبئی حملوں جیسا کوئی اور واقعہ نہ ہو جائے جبکہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا شوشہ پھر سے چھوڑا جا رہا ہے اور تجزیہ کار2019ءکا الیکشن مودی کے لئے مشکل قرار دے رہے ہیں۔ اس مشکل سے نکلنے کے لئے ہر طرح سے راستہ بنانا مودی اور اس کی ہندو تنظیموں کے لئے مشکل نہ ہوگا جبکہ بی جے پی (بھاجپا) دلت ووٹوں پر ابھی انحصار نہیں کر رہی ہے اوہر مسلمانوں کے خلاف کام کر کے اس نے مسلم ووٹ بینک پر ویسے ہی لات ماردی ہے۔ اب رہ جاتا ہے ہندو ووٹ جسے حاصل کرنے کے لئے وہ ہر جائز و ناجائز طریقہ استعمال کرنا اپنا حق سمجھتی ہے۔ آر ایس ایس (راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ) کے علاوہ RAN بھی مودی کی مٹھی میں ہے۔

مانا کہ ہیمنت کرکرے اورکویتا کرکرے جیسے کردار بھی ابھی بھارت میں زندہ ہیں جو ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہیں لیکن برائی اپنے پر پُرزے زیادہ نکالتی ہے۔ اترپردیش میں بی جے پی کا گرتا ہوا گراف اسے غیرمقبولیت کی طرف لے جا رہا ہے۔ یہاں تین لوک سبھا کے حلقوں میں ضمنی انتخابات میں سے بی جے پی ایک میں بھی کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ ریاست بہار میں نتیش کمارکو استعمال کرکے شراکت دار بنی ہے۔ لالو پرساد یادو کی جگہ ان کا فرزند تیجسوی یادو الیکشن لڑے گا جس کے لئے لالو ایڑی چوٹی کا زور لگائے گا۔ جبکہ آئندہ چند ماہ میں راجستھان، مدھیہ پردیش اور ریاست چھتیس گڑھ میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ راجستھان اور مدھیہ پردیش میں کانگریس کی پوزیشن بہت بہتر ہے جبکہ چھتیس گڑھ میں مودی کا گرو مہنت بابا وزیراعلیٰ ہے جو مودی کو کورکرے گا۔ راجستھان اور مدھیہ پردیش میں کسان برادری بی جے پی سے خاصی ناراض ہے جبکہ ریاست مہاراشٹر میں شیوسینا کی مخالف سے بی جے پی کے لئے حالات بہت مشکل ہوگئے ہیں حالانکہ شیوسینا اور بی جے پی کا اتحاد حالیہ دور میں یہاں پر رہا ہے لیکن اب راستے الگ ہو چکے ہیں جبکہ یہاں کانگریس این سی پی سے اتحاد کرکے مہاراشٹر میں بھی بی جے پی کو ٹف ٹائم دے رہی ہے۔ کیا مودی نے جو فصل بوئی تھی اُسے کاٹنے کا وقت آ گیا ہے۔


ای پیپر