File Photo

کالا باغ ڈیم اختلافات کب اور کیسے ختم ہوں گے؟
02 جولائی 2018 (22:57) 2018-07-02

حافظ طارق عزیز :کہا جاتا ہے کہ مستقبل میں جنگیں پانی کی وجہ سے لڑی جائیں گی۔ پانی دنیاکی وہ حقیقت ہے جس کی اہمیت سے ایک لمحے کے لئے نہ انکارکیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے نظراندازکرنا ممکن ہوتا ہے۔ دنیا میں کئی خطے ایسے ہیں جو پانی کی قلت کی وجہ سے بنجر ہوکر تباہی کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں۔ دنیا کی ہی مہذب اور ترقی یافتہ قوم نے اپنی زرعی اور دیگر ضروریات پوری کرنے کئے لئے بڑے بڑے ڈیم تعمیرکئے ہیں جہاں سے نہ صرف بجلی بناکر توانائی کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں بلکہ اس ذخیرہ شدہ پانی کو آبپاسی کے مقاصد کے لئے بھی استعمال کی جاتا ہے۔ وطن عزیزہی ایک ایسا خطہ ہے جہاں پانی جیسی نعمت کی اہمیت کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی جا رہی۔ الٹا اس نعمت کو ضائع ہونے سے بچانے کے منصوبوں پر مسلسل سیاست کی جا رہی ہے اور اس بات کا ادارک نہیں کیا جا رہاکہ پانی کی قلت کا مسئلہ روزبروز شدت اختیارکرتا جا رہا ہے۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر میں تعطل بھی ہماری اسی سوچ کا مظہر ہے۔


پاکستان میں جہاں بیشتر شعبے انحطاط کا شکار ہیں وہیںآ بی ڈیموں کے حوالے سے بھی صورت حال انتہائی مایوس کن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جو پانی1947ءمیں دستیاب تھا اب اس کا صرف پانچواں حصہ باقی رہ گیا ہے۔ پانی کی اس قلت کے باعث ملک کا 2 کروڑ ایکڑ سے زائد رقبہ بنجر ہو چکا ہے۔ آبپاشی کے لئے پانی کی بڑھتی ہوئی قلت جہاں ملکی سطح پر سوچنے سمجھنے والے طبقات کے لئے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے وہیں یہ مسئلہ سنجیدہ عالمی حلقوں میں بھی غور و فکر کا باعث بنتا رہتا ہے۔ یہ وہی صورت حال ہے جس کی جانب کاشت کاروں کی تنظیمیں عرصہ دراز سے توجہ مبذول کراتی رہی ہیں۔ تاہم اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے میں جو غفلت برتی گئی اس کے اثرات پچھلے کئی برسوں کے دوران ایک طرف دریائی پانی کی کمی اور صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم پر تلخی کی صورت میں ظاہر ہوتے رہے ہیں تو دوسری جانب وطن عزیز کی زرعی پیداوار میں کمی کی صورت میں ۔


چند دن قبل سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک عدالت میں پیش ہوئے اور ڈیم کی تعمیرکے حق میں دلائل دیے۔ اُنہوں نے بہترین معلومات شیئرکیں کہ دنیا میں 46 ہزار ڈیم تعمیر ہو چکے ہیں، چین میں 22 ہزار ڈیم بنائے گئے ہیں، چین ایک ڈیم سے 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے، بھارت 4500 ڈیم تعمیر کر چکا ہے۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر نہ ہونے سے سالانہ 196 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کی پانی کے بغیر بقا ممکن نہیں، اگر پاکستان ڈیم نہیں بنائے گا تو پانچ سال بعد پانی کی صورت حال کیا ہوگی، کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح خطر ناک حد تک گر چکی ہے، ڈیمز بننے سے چاروں صوبوں کو فائدہ ہوگا، سوچ رہا ہوں عدالتی کام روک کر پانی کے مسئلے پر سیمینار کروائیں، پاکستان کی بقا کے لیے پانی اشد ضروری ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ہمیں ماہرین اور لوگوں کو اکٹھا کرنا پڑے گا، یہ ڈیم ہرصورت بننا ہے، نہیں علم یہ ڈیم میری زندگی میں بنتا ہے یا نہیں، ڈیم کی تعمیر میں سب سے پہلے حصہ عدالت عظمیٰ ڈالے گی، قوم کو بچالیں یااپنے مفاد کو بچالیں، بات کالا باغ ڈیم کی نہیں بات پاکستان ڈیم کی ہے، چاروں بھائیوں کو ڈیمزکی تعمیر کے لیے قربانی دینا ہوگی۔ کالا باغ ڈیم نہ بنا تو کے پی کے کی بیشتر زمین کو پانی نہیں مل سکے گا، ہمیں ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔چیف جسٹس نے کہا دس سال سیاسی حکومتیں رہی ہیں، ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے کچھ نہیں ہوا، سیاسی حکومتوں نے دس سال میں ڈیمز کی تعمیر کے لیے کیا کیا؟ ڈیم تو ہر حال میں بننا ہے، یہ بتائیں ڈیمز کن جگوں پر بنیں گے، جب تک مسئلے کا حل نہیں نکلتا میں نے جانے نہیں دینا، مجھے بندے بتائیں، ماہرین کے نام بتائیں، میں نے سب کو بلا کر اندر سے کنڈی لگا دینا ہے، ایک کمیٹی یا ٹیم تشکیل دینا پڑے گی، ڈیمز کے مسئلے پر عدالت عظمیٰ اپنی ٹیم تشکیل دے گی، ڈیموں کی تعمیر انا کی نذر ہوگئی۔


اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ توانائی کا ہے۔ یہاں چھوٹے چھوٹے مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی گئی، حالانکہ ان مسائل کا سد باب کرناکوئی بڑاکام نہیں ہے، مثلاََ اس جگہ پر بسنے والے لوگوں کی رہائش کا مسئلہ ، دنیا بھر میں بڑے ڈیمزکے قومی ثمرات کی وجہ سے مجوزہ مقامات پر رہنے والے افراد کو نہ صرف منتقل کیا گیا بلکہ انہیں اس کا پرکشش معاوضہ بھی دیاگیا، جس طرح آزاد کشمیر میں منگلا ڈیم کی تعمیرکے لئے پورا میرپور شہر ڈیم کی جھیل میں آگیا تھا۔ ایسے میں نہ صرف موجودہ میر پور شہر آبادکیا گیا بلکہ ڈیم میں آنے والے پورے میر پور شہر کی آبادی کو برطانیہ کا ویزہ دے کر ترقی کی شاہراہ پر آگے بڑھنے کا پورا موقع بھی دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج میر پور شہرکا کوئی بھی شخص کروڑ پتی سے کم نہیں۔ اسی طرح ہری پور میں بنائے گئے تربیلا ڈیم کے متاثرین کو بھی معقول معاوضہ دیا گیا اور انہیں صوبہ پنجاب اور سندھ میں زمینیں بھی فراہم کی گئیں۔


پاکستان اور بھارت کے درمیان1960ءمیں طے پائے جانے والے سندھ طاس معاہدہ کے بعد سے اب تک جتنے بھی آپریشنل نہری منصوبے بنائے گئے ان سے بالخصوص سندھ، بلوچستان اور سرحد کو فائدہ پہنچا، جبکہ پنجاب کے شہر ڈیرہ غازیخان کی تحصیل تونسہ کے کچھ حصہ کو چشمہ رائٹ بنک کینال کی ٹیل سے تھوڑا سا پانی دیا گیا۔ اسی طرح گزشتہ دور حکومت میں گریٹر تھل کینال کا منصوبہ بنایاگیا جو تاحال تکمیل کے مراحل میں ہے، اور اسے بھی پانی کا حصول محال رہتا ہے۔ بھارت نے ماضی میں کالا باغ ڈیم کی مخالفت میں تمام تر حربے استعمال کئے۔ واپڈا کے سابق چیئرمین شمس الملک وہ شخصیت ہیں جنہیں کالا باغ ڈیم منصوبے کے بانیوں میں شامل کیا جاسکتا ہے، یقیناً وہ ایک سچے پاکستانی ہیں جنہیں پاکستان کا مفاد عزیز ہے لیکن بھارت امن کی آشا دراصل بغل میں چھری اور منہ میں رام رام بن چکی ہے اور دنیا کے سامنے امن کی آشا کی آڑ میں بھارتی عزائم سامنے آچکے ہیں کیونکہ ماضی میں پاکستان دشمنی میں بھارت نے کالا باغ کی مخالفت کرنے والوں پر اربوں روپے خرچ کرکے ہمارے ملک کی ترقی روکنے کے حربے استعمال کئے۔ شمس الملک کے بقول کالا باغ تو 1996ءمیں ہی بن جانا چاہیئے تھا لیکن ہم متفق ہی نہ ہو سکے جبکہ بھارت ہمارے پانی پر درجنوں ڈیم بنا چکا ہے، کالا باغ ڈیم روشن پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے اور اس کی عدم تعمیر قوم کے لئے صدیوں کی سزا بن کر رہ گئی ہے۔ پاکستان میں پاور ویژن رکھنے والے جرا¿ت مند لیڈر موجود ہیں اور ہمارے موجودہ حکمرانوں میں سابق حکمرانوں سے زیادہ قوت دکھائی دیتی ہے اور ان کے عزائم بھی بظاہر پختہ ہیں اس لئے وہ کم ازکم کالاباغ ڈیم کی تعمیر ہی شروع کردیں کیونکہ یہ کارنامہ ان کے مستقبل کے لئے بھی زادہ راہ ثابت ہو سکتا ہے اور ساتھ ہی بھارت کو بھی ہم نفسیاتی شکست دے سکتے ہیں۔


ہمارے ادارے کیوں محبِ وطن انجینئر شمس الملک ایسے صاحبانِ علم و خبرکو پوری توانائی اور طاقت سے سامنے نہیں لا رہے جو اپنے علم اور تجربات کی اساس پر چیلنج کرتے ہوئے بار بار ثابت کر چکے ہیں کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے نہ تو خیبر پختونخوا کا کوئی شہر (مثال کے طور پر نوشہرہ) زیر آب آئے گا اور نہ ہی کالاباغ ڈیم میں اسٹورکیے جانے والے پانی سے سندھ کی زراعت کوکوئی گزند پہنچے گا اور نہ ہی سندھ کے حصے کا پانی چرایا جا سکے گا۔ میرا خیال یہ ہے کہ اگرکالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے سنجیدگی اور شائستگی سے قابلِ عمل کام کیا جائے تو بہت سی مشکلات بھی دور ہو سکتی ہیں اور کالا باغ ڈیم کے معاندین نے بوجوہ اپنے عوام کے ذہنوں میں جن شکوک و شبہات کو بٹھا دیا ہے، وہ بھی ختم ہو جائیں گے۔ شرط مگر یہ ہے کہ مخالف اور موافق فریقین کو دیانت داری اور حب الوطنی کے جذبے سے محبِ وطن جماعتوں کو آگے آنا چاہیے۔


خوشی اس بات کی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار صاحب نے صدقِ دل سے کالا باغ ڈیم کے بارے میں اپنے جذبات اور احساسات کا ذکر کیا ہے۔ وہ بجا کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنے پانی کے تحفظ میں کوئی بڑا ڈیم نہ بنا سکے تو اپنی آنے والی نسلوں کو کیا جواب دے سکیں گے؟ ا±نہوں نے ملک کو درپیش پانی کے سنگین مسائل کے پس منظر میں اِسے اوّلین ترجیح قرار دیا ہے۔ واپڈا کے موجودہ چیئرمین بھی یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ” کالا باغ ڈیم تکنیکی اعتبار سے بن سکتا ہے اگر صوبوں کے تحفظات دور ہو جائیں تو لیکن حقیقت یہ ہے کہ پانی کے حوالے سے ہم جس عظیم بحران کی دہلیز پر کھڑے ہیں، اس کا تقاضا ہے کہ سارے فریق فوری مل بیٹھیں۔ قوم یہ بھی عرض کرتی ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے ٹیکنیکل معاملات کو واضح کرنے کے لیے غیرجانبدار اور عالمی شہرت یافتہ انجنیئرز پاکستان بلائے جائیں جو خالصتاً تکنیک کی بنیاد پرکالا باغ ڈیم کے مخالفین کو مطمئن کر سکیں کہ یہ عظیم آبی بند ضرر رساں نہیں، مفید ثابت ہوگا۔ دنیا بھر کا اصول یہ ہے کہ قومی مفادات میں پیچیدگیاں کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جب کہ ہمارے ہاں معاملہ معکوس ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر ہم سب آج اس عظیم مقصد کے لیے اکٹھے نہ ہو سکے توکبھی اکٹھے نہیں ہو سکیں گے۔


ہمیں چھوٹے اور ذاتی مفادات کے بجائے ملکی مفادات کے لئے مل کرکام کرنا ہوگا، کالاباغ ڈیم جیسے اہم تریں قومی مسئلے کو سیاسی مفادات نہیں بلکہ قومی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ جہاں باہمی رضا مندی اور اتفاق رائے سے کالاباغ ڈیم کی تعمیرکو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے وہاں دیگر چھوٹے ڈیم بنانا بھی اہم بھی ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ آبی ضروریات پوری کرنے کے لئے بھارت کے ساتھ بھی پانی کے معاملات حل کیے جائیں تاکہ ہم اپنے بہترین نہری نظام سے کماحقہ فائدہ اُٹھا سکیں۔
٭٭٭


ای پیپر