افغانستان: آتش و آہن کی بارش میں مذاکرات
02 جولائی 2018 2018-07-02

امریکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ ’ ہم ہیبت اللہ اخونزادہ کے ساتھ بات چیت کیلئے کوشاں ہیں،طالبان رہنما مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ سے جہاں وہ چاہیں، براہ راست امن بات چیت کے لیے تیار ہیں تاکہ افغان امن ریلی کے شرکاء کے مطالبات مانے جائیں،تمام فریقوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ملک میں کئی عشروں سے جاری تنازعات کو بند کیا جائے،عیدالفطر پر کی گئی تین روزہ جنگ بندی کومیں نے اپنے طور پر بڑھا کر 10روز کر دیا ۔اِدھر افغان صدر جنگ بندی کی بات کر رہی ہیں اُدھر صوبہ لوگر ضلع چرخ میں امن مارچ کے شرکاء پردھماکے میں خاتون اور بچے سمیت گیارہ افراد جاں بحق ہو گئے۔ صوبہ ننگرہار کے دو اضلاع میں طالبان کی کارروائیوں میں پانچ سکیورٹی اہلکار مارے گئے۔ اس کے علی الرغم صوبہ ننگر ہار کے گورنر نے دعویٰ کیا ہے کہ ننگر ہار سے طالبان کے ٹھکانوں سے ہتھیاروں کے دو بڑے ذخیروں پر قبضہ کر لیاگیاہے۔ افغانستان کے شمالی صوبے تخار میں متعدد چیک پوسٹوں پر طالبان کے حملوں میں کم از کم 14پولیس اہلکار جاں بحق، 2 زخمی اور 6لاپتہ ہو گئے ،جس کی طالبان نے ذمہ داری قبول کی جبکہ مقامی اور اتحادی سکیورٹی فورسز نے آپریشن کلین کے دوران50طالبان ہلاک 33 زخمی کرنے اور متعدد پناہ گاہیں تباہ کر نے کا دعویٰ کیا ہے۔دوسری طرف طالبان کے حملوں میں19سکیورٹی اہلکاراور11شہری ہلاک ہو گئے۔مبصرین کے مطابق افغان حکومت ایک ہاتھ سے شاخِ زیتون لہراتی ہے اور دوسرے ہاتھ میں اس نے بارود برساتی بندوقیں تھام رکھی ہیں۔ اس صورت حال میں مذاکرات کی بیل کیسے منڈھے چڑھ سکتی ہے۔متعدد فضائی حملوں میں پچاس سے زائد طالبان کی حالیہ ہلاکت کے باوجود اس بات چیت کا موضوع افغانستان میں ممکنہ جنگ بندی ہے۔ زمینی حقائق سے با خبر تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ ان مذاکرات کی ممکنہ کامیابی کا کافی زیادہ انحصار اس بات پر ہو گا کہ اس پورے عمل کو کس حد تک خفیہ رکھا جاتا ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ مئی میں امریکا نے افغان حکومت کے طالبان کے اعلیٰ نمائندوں سے خفیہ مذاکرات کی تصدیق کر دی تھی۔ یاد رہے کہ 31 مئی کو پینٹاگون کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ حال ہی میں امریکی فوج کے متعدد فضائی حملوں میں 50 سے زائد طالبان شدت پسندوں کی ہلاکت کے باوجود کابل حکومت کے اعلیٰ اہلکاروں اور طالبان کے سرکردہ نمائندوں کے مابین صیغہ راز میں رکھی گئی اس مکالمت میں مرکزی موضوع یہی ہے کہ آیا جنگ زدہ افغانستان میں کوئی فائر بندی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ انہی دنوں امریکی فوج کے جنرل جان نکلسن نے پینٹاگون میں مدعو کیے گئے صحافیوں کو کابل سے ایک ٹیلی کانفرنس میں بتایا تھا ’’( افغانستان میں ) اس وقت ظاہری منظر نامے کے پیچھے مکالمت اور کافی زیادہ سفارت کاری جاری ہے، یہ کوششیں بیک وقت کئی مختلف سطحوں پر کی جا رہی ہیں‘‘۔ یہ امر پیش نظر رہے کہ تب جنرل نکلسن نے کھل کر یہ تو نہیں بتایا تھاکہ کابل حکومت کی طالبان سے اس درپردہ بات چیت میں کون کون شامل ہے تاہم انہوں نے اتنا ضرور کہا تھاکہ ’ اس مکالمت میں طالبان کی طرف سے درمیانے درجے سے لے کر اعلیٰ سطح تک کے نمائندے حصہ لے رہے ہیں‘۔اسی سانس میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مستقبل میں کابل حکومت اور افغان طالبان کے مابین اس مذاکراتی عمل کی ممکنہ کامیابی کا انحصار کافی حد تک اس بات پر بھی ہو گا کہ اس ’پورے عمل کو کس حد تک خفیہ‘ رکھا جاتا ہے‘۔واضح رہے کہ جنرل جان نکلسن مارچ 2016ء سے افغانستان میں امریکی فوجی دستوں کے اعلیٰ ترین کمانڈر ہیں، جو ہندو کش کی اس ریاست میں امریکی فوجی مشن ’ریزولیوٹ سپورٹ‘ کی قیادت بھی کر رہے ہیں۔
محرمان اسرار جانتے ہیں کہ سال رواں فروری میں افغان صدر اشرف غنی نے خود بھی طالبان کو امن مذاکرات کی پیشکش کر دی تھی۔ اس موقع پر غنی نے کہا تھا کہ ’ اگر طالبان ریاست افغانستان کے 2004ء میں منظور ہونے والے آئین کو تسلیم کرنے اور ساتھ ہی فائر بندی پر بھی تیار ہو جائیں، تو ان کے ساتھ نہ صرف بات چیت ہو سکتی ہے بلکہ ایسی بات چیتکی تکمیل پر تحریک طالبان کو ایک باقاعدہ سیاسی جماعت بھی تسلیم کیا جا سکتا ہے‘۔لیکن ان کی پیشکش کا طالبان نے کوئی فوری لیکن باقاعدہ جواب نہیں دیا تھا لیکن گزشتہ برسوں
کی طرح 2018 ء میں بھی موسم بہار کے آغاز پر انہوں نے ملک کے مختلف صوبوں میں اپنے حملے تیز تر کر دیے تھے، جنہیں طالبان ’موسم بہار کی جنگی حکمت عملی‘ کا نام دیتے ہیں۔ یہ حملے خاص طور پر دارالحکومت کابل میں بھی کیے گئے تھے، جو ہنوز افغان شہریوں کے لیے ملک کا خطرناک ترین شہر بن چکا ہے۔ماہرین کے ایک حلقے کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں جب تک طالبان کے خلاف کابل حکومت اور امریکا کے دستے زمینی اور فضائی حملے کرتے رہیں گے، تب تک طالبان کی قیادت سے کوئی سنجیدہ بات چیت شروع نہیں ہو سکتی۔اس کے برعکس جنرل نکلسن، جو طالبان کو بہت زیادہ نقصانات کے ساتھ عسکری دباؤ میں لاتے ہوئے انہیں مذاکرات کی میز کا رخ کرنے پر مجبور کر دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، کہتے ہیں کہ ایسے حالات میں ’طاقت کے استعمال‘ یا ’بات چیت کے ذریعے پیش رفت‘ میں سے کسی ایک کے بجائے ’تشدد اور مکالمہ‘ دونوں بیک وقت بھی دو متوازی حقیقتیں ہو سکتی ہیں۔ ہمارے نزدیک دنیا کے کسی بھی ملک میں تشدد اور خانہ جنگی کے ماحول کو ختم کرنے کے لئے مقتدر قوتوں کو پہلے مرحلے پر تشدد کے حربے استعمال کرنے سے دریغ کرنا پڑتا ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ آتش و آہن کی بارش اس فریق پر جاری رہے جسے مکالمے اور مذاکرات کی دعوت دی جا رہی ہو۔ امریکی حکام آج افغانستان پر اپنا تسلط محض فضائی بالادستی اور جدید ترین مہلک ہتھیاروں کے اندھا دھند استعمال کی وجہ سے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اکتوبر 2001ء سے تادم تحریر امریکیوں کی جانب سے یہ ’’مشق‘‘ بلاتوقف جاری ہے۔ زمینی حقائق ا س امر کے ٹھوس شواہد پیش کرتے ہیں کہ یہ حکمت عملی بری طرح ناکام رہی اور آئندہ بھی پینٹاگون اسی پر عمل پیرا رہا تو افغانستان میں عشروں تک پائیدار قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ افغان طالبان آج بھی افغانستان کی سب سے بڑی متحارب سیاسی اور عسکری قوت ہیں۔ افغانستان کا ایک قابل ذکر حصہ ان کے قبضے میں ہے۔ انہیں ان تمام افغانیوں کی تائیدوحمایت اور عملی تعاون بھی حاصل ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ افغان طالبان اور ان کی قیادت افغانستان کو غیرملکی قبضے اور تسلط سے نجات دلانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ امریکی اور افغان حکومت اس امر کا کامل ادراک و احساس کریں کہ 17 برسوں کی مسلسل جنگ کے باوجود وہ طالبان مزاحمت کاروں پر مکمل قابو پانے میں محض اس لئے ناکام رہے ہیں کہ وہ انہیں شرپسند تصور کرتے ہیں جبکہ افغان عوام اور طالبان کی اکثریت امریکیوں کو ایک قابض اور جارح ملک کی حیثیت سے ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی میزبانی میں گزشتہ سال جون 2015ء میں افغان طالبان اور حکومت کے نمائندوں کے درمیان پہلی براہ راست ملاقات اسلام آباد کے قریب سیاحتی مقام مری میں ہوئی تھی۔ ان مذاکرات میں پہلی مرتبہ امریکا اور چین کے نمائندوں نے بھی مبصر کے طور پر شرکت کی تھی۔ تاہم بعد میں افغان طالبان کے امیر ملا عمر کی موت کی خبر کے بعد یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ۔یہ امر ذہن نشین رہے کہ دسمبر2015ء اسلام آباد میں منعقدہ ہارٹ آف ایشیا استنبول پراسس کے تحت کانفرنس کے موقع پر چار فریقی مفاہمتی عمل کو بحال کرنے کے لیے کوششوں کو تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 12جنوری 2016 کو افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان امن عمل آگے بڑھانے اور مذاکرات کا لائحہ عمل تیار کرنے کیلئے چار ملکوں کے نمائندوں کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔اس اجلاس میں نائب افغان وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری، افغانستان اور پاکستان کے لئے خصوصی امریکی مندوب رچرڈ اولسن اور چین کے افغانستان میں سفیر ڈنگ زی جن نے اپنے ممالک کی نمائندگی کی ۔اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ’ چاروں ممالک پر مشتمل چار فریقی گروپ نے کام کرنے کے طریقِ کار کو اپناتے ہوئے افغانستان میں امن اور مفاہمت کے عمل کے لئے اپنے باقاعدہ اجلاس جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے‘۔پاکستان اور افغانستان دونوں کے استحکام کے لئے خطے میں امن کا قیام ضروری ہے۔ بھارت کو یہ صورت حال کسی طرح ہضم نہیں ہو رہی کہ پاکستان ترقی کرے۔ وہ تیزی سے ابھرتی ہوئی ترقی کو سبوتاژ کرنے کے لئے ہر قسم کی رکاوٹیں پیدا کرتا رہا اور کر رہا ہے ۔ افغانستان پاکستان کے درمیان عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے بھارتی افواج کی ذیلی تنظیم’’را‘‘ بلوچستان میں قوم پرست، انتہا پسندوں اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے الگ پراکسی جنگ لڑ رہا ہے۔ بلوچستان میں بھارتی قیادت کے ملوث ہونے اور’’را‘‘ کے ایجنٹوں کے ذریعے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے ثبوت سامنے آ چکے ہیں۔’ را ‘ کی سرگرمیوں کا کلیدی مقصد پاک چائنا اکنامک کوریڈور کے عظیم منصوبے کے بارے شکوک و شبہات پیدا کر کے اس حوالے سے مبنی بر عصبیت مسائل کو ہوادینا اور اسے متنازع بناکر یہ تاثر پیدا کرنا ہے کہ اس منصوبے سے بلوچستان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
ہماری سو چی سمجھی رائے ہے کہ اس موقع پر اس امر کو بھی سامنے رکھا جائے کہ افغان حکومت طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لئے کیا لائحہ عمل وضع کرتی ہے۔ اس امر کا جائزہ بھی لینا پڑے گا کہ افغان طالبان افغان حکومت کی مذاکراتی پیش کش پر کس قسم کا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مجوزہ مذاکرات کے حوالے سے تادم تحریر افغان طالبان رہنماؤں کا اس قسم کا کوئی عندیہ سامنے نہیں آیا کہ وہ ان مذاکرات میں کسی بھی عنوان سے شامل ہونا چاہتے ہیں۔یہ امر بھی پیشِ نظر رہے کہ تمام طالبان گروہوں کو مذاکراتی عمل کی پیشکش اور ان کی جانب سے کسی جواب سے قبل فوجی کارروائیوں کی دھمکی مثبت قدم نہیں ۔ افغانستان اور خطے میں دیر پا امن کے قیام کے حصول کے لئے افغان قیادت امن عمل کو سہولت مہیا کرنے کے لئے مشترکہ کوششوں پر غور ے۔ پہلے مرحلے پر اعتماد سازی کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ افغان صدر اشرف غنی نے اب اگر جون کے آخری ہفتے میں مذاکرات کی دعوت دی ہے تو انہیں افغان حکومت کی جانب سے پورے افغانستان میں مکمل جنگ بندی کے عملی مظاہر بھی پیش کرنا ہوں گے اور یاد رکھنا ہوگا کہ آتش و آہن کی بارش میں امن و سکون کی فصل کاشت نہیں کی جا سکتی۔


ای پیپر