اقلیتی اراکین کا انتخاب اقلیتیں نہیں کرتیں
02 جولائی 2018 2018-07-02

پاکستان کی انتخابی سیاست میں اقلیتی اراکین اسمبلی اتنے اہم نہیں ، لیکن اقلیتی ووٹرز بہت اہم ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق قومی اسمبلی کی 90 سے زائد نشستوں کی ہار یا جیت پر اقلیتی ووٹرز اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ اتنی طاقت رکھنے کے باوجود وہ نہ اپنا نمائندہ منتخب کر سکتی ہیں اور نہ انہیں انتخابات کی مین اسٹریم سیاست کا حصہ بن سکی ہیں وجہ یہ ہے کہ اقلیتی نشستوں کا فیصلہ سیاسی جماعتیں کرتی ہیں۔
قومی اسمبلی کی کل 342 نشستوں میں سے 272 جنرل ہیں۔ 60 خواتین اور 10 اقلیتوں کے لئے مخصوص ہیں۔لیکن الیکشن صرف 272 جنرل نشستوں پر ہوتا ہے۔ باقی 70 اراکین منتخب ہونے والی سیاسی جماعتیں نامزد کرتی ہیں۔اقلیتوں کے لئے 23 نشستیں چاروں صوبائی اسمبلیوں میں بھی ہیں۔ مخصوص نشستوں کے لئے رائج طریقہ انتخاب کے مطابق مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والے ووٹرز جنرل نشستوں پر ووٹ دیں گے۔ اقلیتی امیدوار عام نشستوں پر انتخاب بھی لڑ سکتے ہیں۔ جبکہ ان کے لئے مخصوص نشستوں پر انتخاب بلواسطہ ہوتا ہے۔ جو پارٹی اسمبلی میں جتنی نشستیں حاصل کرتی ہے ا س کو مخصوص نشستیں متناسب نمائندگی کی بنیاد پر تقسیم کردی جاتی ہیں۔ یہی طریقہ خواتین کی مخصوص نشستوں کے لئے بھی ہے۔ یعنی یہ نشستیں سیاسی جماعتوں میں متناسب طریقے سے بانٹ دی جاتی ہیں۔ عام انتخابات سے قبل سیاسی جماعتیں اقلیتی امیدواروں کی ترجیحی حتمی فہرست الیکشن کمیشن کے پاس جمع کراتی ہیں۔ اس ترجیحی فہرست کے مطابق الیکشن کمیشن امیدواروں کے منتخب ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ عملاا اقلیتی امیدواروں کا انتخاب ہی نہیں ہوتا۔ان کی کامیابی اور نامزدگی سیاسی جماعتوں صوابدید پر ہے۔سیاسی جماعتوں کے پاس ان اقلیتی امیدواروں کی نامزدگی اور ترجیحی فہرست کے لئے کوئی قانون یا مقررہ اصول موجودد نہیں لہٰذا وہ اپنی مرضی سے یہ فہرست ترتیب دیتی ہیں۔ انتخاب کا طریقہ نہ صرف پیچیدہ او رپراسرار ہے بلکہ اور یک طرفہ بھی ہے اس میں ووٹ کاسٹنگ یا خفیہ بیلٹ کے ذریعے ووٹنگ نہیں لہٰذا غیر جمہوری ہے۔
سیاسی جماعتیں ایسے لوگ منتخب کر کے لے آتی ہیں جو نہ حقیقی معنوں میں اپنے حلقے کی نمائندی کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں لوگوں کے مسائل سے سرو کار ۔ پنجاب میں چرچ پراپرٹی پر قبضہ کرنے کے لئے ایسے نمائندوں کو استعمال کیا گیا۔اقلیتوں کے نام پر ’’ یس مین‘‘ آجاتے ہیں جو اپنے ’’سیاسی مالکان‘‘ کی خدمت کرتے رہتے ہیں۔ یہ مشق گزشتہ تین انتخابات سے جاری ہے۔
اس سے قبل جنرل ضیاء کے نافذ کردہ جدا گانہ طریقہ انتخاب پچیس سال تک رائج رہا جس کے تحت اقلیتیں اپنے نمائندے خود منتخب کرتی تھی۔ اس نظام کے تحت پانچ انتخابات ہوئے ۔
سیاسی جماعتیں اپنی مرضی کے اراکین اقلیت پر مسلط کرتی ہیں۔نتیجۃ اقلیتوں کی صحیح نمائندگی نہیں ہو پاتی۔ دوسری طرف جنرل نشستوں پر اقلیت سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کی حوصلہ افزائی نہیں ہوئی ۔ گزشتہ دو انتخابات میں جنرل نشستوں پر ایک ایک نمائندہ منتخب ہو کر آسکا۔ جولائی میں منعقد ہونے والے انتخابات میں بھی یہی صورتحال برقرار ہے۔
ملک میں کل 27 لاکھ 77 ہزار اقلیتی ووٹ ہیں جن میں سے17 لاکھ 70 ہزار ہندو ہیں جو کل اقلیتی ووٹوں کا 40 فیصد ہیں۔ غیر مسلم میں عیسائی دوسرے نمبر پر ہیں جن کی تعداد 16 لاکھ 40ہزار ہے ۔ ان میں سے دس لاکھ پنجاب میں ہیں اور دو لاکھ سندھ میں ۔
عمرکوٹ میں 49 فیصد اور تھرپارکرمیں 46 فیصد ، میرپور خاص میں 33فیصد ، ٹنڈو الہیار میں 26 فیصد، ٹنڈو محمد خان میں 17 فیصد، مٹیاری میں 13 فیصدہندو اقلیتی ووٹرز ہیں جبکہ گھوٹکی اور حیدرآباد میں 7 فیصد ہیں۔ کراچی جنوبی میں ان کی تعداد دس لاکھ سے زائد ہے ۔
مخلوط طرز انتخاب کے بعد کئی غیر مسلم امیدواروں میں یہ خواہش شدت سے پیدا ہوئی کہ جہاں اقلیتی ووٹرز زیادہ ہیں وہاں جنرل نشستوں پر انتخابات لڑ یں۔ 2002ء میں سندھ میں قومی اسمبلی کے لئے پانچ غیر مسلم امیدوار وں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ ان میں سے جیکب آباد سے تین، میرپورخاص سے تین، اور تھرپارکر سے دو امیدوار تھے۔ ان میں سے صرف ایک کے پاس پارٹی ٹکٹ تھا۔ ان انتخابات میں سندھ اسمبلی کے لئے گھوٹکی، جیکب آباد، نواب شاہ، حیدرآباد، بدین، تھرپارکر، میرپورخاص اور دادو سے 42 اقلیتی امیدواروں میں سے 13 کے پاس پارٹی ٹکٹ تھا۔
2008ء کے انتخابات میں قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں کے لئے آٹھ اقلیتی ا میدوار میدان میں تھے۔ یہ امیدوار جیکب آباد تھرپارکر، دادو، میرپورخاص اور اور عمرکوٹ سے انتخاب میں حصہ لیا، ان میں سے دو امیدواروں کے پاس پارٹی ٹکٹ تھے سب سے زیادہ ووٹ 28411 پیپلزپارٹی کے مہیش ملانی نے حاصل کئے۔ تب غیر مسلم امیدواروں میں صوبائی اسمبلی میں کم دلچسپی تھی۔ دوسرے مخلوط انتخابات میں اقلیتی امیدواروں کی سندھ اسمبلی میں تعداد کم ہوگئی۔ گھوٹکی، جیکب آباد، لاڑکانہ، حیدرآباد، بدین، تھرپارکر، میرپورخاص، عمرکوٹ، جامشورو اور سانگھڑسے انتخاب لڑے ۔ ان 28 امیدواروں میں سے صرف چار پارٹی ٹکٹ ہولڈرز تھے۔ پیپلزپارٹی کے ڈاکٹر دیارام نے 48432 ووٹ لئے اور جیت گئے۔ 2013ء کے انتخابات میں صرف ساتاقلیت سے تلق رکھنے والے امیدوران کو جنرل سیٹ پر پارٹی ٹکٹ دی گئی ۔
عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر صابر مائیکل کا کہنا ہے کہ’’ گزشتہ انتخابات میں اقلیتوں کی شرکت غیر فعال اور سست تھی۔ انہوں نے خاص طور پر کراچی میں خود کو اس سے دور کھا جبکہ بڑی پارٹیوں کی جانب سے بھرپور دباؤ تھا کہ وہ انہیں ووٹ ڈالیں۔ بعض مقامات پر سیاسی جماعتیں اس ایسا کرنے میں کامیاب بھی ہوئی۔‘‘ سیاسی جماعتوں نے انتخاب لڑنے کے لئے اقلیتی نمائندوں کو مناسب مواقع نہیں دیئے۔ اراکین اسمبلی بننے والے نہ کمینوٹیز میں سرگرم ہیں اور پاکستان کی اقلیتوں میں جن کی جڑیں ہیں۔ایوان میں بھی ان کا رول غیر متحرک اورغیر فعال رہاہے۔ ان نامزدگان کی ایوان میں صرف ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔
دراصل اقلیتوں کی نمائندگی کا موجودہ طریقہ کار درست نہیں ۔ وہ نہ انہیں قومی مین اسٹریم میں لے کر آرہا ہے اور نہ ہی ملکی معاملات میں۔ عملا یہ نشستیں اقلیتوں کے لئے نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے لئے ہو کر رہ گئی ہیں۔ یہ نشستیں ان لوگوں کو دی جاتی ہیں جن میں نہ اہلیت ہے، اور نہ ہی نمائندگی کرتے ہیں ان میں سے بیشتر کی کوئی سیاسی تربیت بھی نہیں کی ہوئی ہوتی۔
سندھ میں کم از کم آٹھ حلقوں میں اقلیتی ووٹر جیت یا ہار کا سبب بنتے ہیں۔ جبکہ تھرپارکر اور عمرکوٹ میں یہ ووٹ اپنا امیدوار کھڑا کرنے اور انہیں کامیاب کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ ان دو اضلاع میں ہندو اقلیت ووٹرز چایس سے پچاس فیصد ہیں۔ 25 جولائی کو منعقد ہونے والے انتخابات کے لئے صرف تین اقلیتی امیدوار ہیں جنہیں پارٹی ٹکٹ جنرل سیٹ پر حاصل ہے۔ تھرپارکر میں ڈاکٹر مہیش ملانی کو قومی اسمبلی کی نشست کے لئے ٹکٹ دیا جارہا ہے، تھرپارکر میں شیڈیولڈ کاسٹ اکثریت میں ہیں۔ جس میں بھیل، کولہی، اور میگھواڑ شامل ہیں۔ میرپورخاص میں کشنچند پاروانی اور ہری لال کشوری لال اور جامشورو سے گیانچند ایسرانی کو پیپلزپارٹی کی ٹکٹ ہے۔
اقلیتوں خاص طور پر ان کے پسماندہ برادریوں میگھواڑ، بھیل اور کولہی کو یہ شکوہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اقلیتی امیدواروں کو مطلوبہ مواقع نہیں دیتے کہ وہ عام نشستوں پر انتخاب لڑیں۔ پارٹی کے ہاتھ میں فیصلہ آنے کے بعد صحیح نمائندے نہیں آپاتے، پارٹیوں میں پیسے کے بل پر ٹکٹ خرید لی جاتی ہے۔ ا نا رول غیر فعال ہو جاتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے ان پر ووٹ کے لئے دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
پانچ وجوہات کی بناء پرا قلیتی نمائندگی گورکھ دھندہ ہے(۱) بعض حلقوں خاص طور پر عمرکوٹ اور تھرپارکر میں چالیس سے پچاس فیصد جنرل نشستوں پر اقلیتی امیدوار سیاسی پارٹیوں کی ترجیح نہیں ۔ (۲) پارٹی ٹکٹ کے اجراء میں میرٹ نہیں کی جاتی۔ وہ لوگ جو کسی نہ کسی وجہ سے پارٹی قیادت سے قریب ہیں، یا ان تک جن کی رسائی ہے وہ ٹکٹ حاصل کرلیتے ہیں۔ بھلے ان کی حلقے یا اپنی برادری میں قبولیت ہو یا نہ ہو، (۳) ہندو برادری میں 90 فیصد سے زائد میگھواڑ، بھیل اور کولہی شیڈیولڈ کاسٹ ہیں ۔
وہ بے بس اور بے سہار ہوتے ہیں ان کے ووٹ وڈیرے کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ یہ پکے ووٹ وڈیرہ جس کو چاہے دلا سکتا ہے۔ لہٰذا یہی ووٹ جیت یا ہار کا باعث بنتے ہیں۔ امیدواران چونکہ براہ راست ان
ووٹرز سے رابطہ کرنے کے بجائے وڈیروں سے ہی رابطہ کرتے ہیں۔ فیصلہ کن ووٹ ہونے کے باوجود یہ ووٹرز اپنی رائے کا اظہار اور فیصلہ آزادانہ طور پر نہیں کرسکتے۔ ایک اور نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس سے وڈیرے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ (۴) بڑی سیاسی جماعتیں اقلیت کے سیٹھوں اور شاہوکاروں کو ٹکٹ دیتی ہیں اس کے عوض وہ براہ راست پارٹی فنڈ میں یا بلواسطہ رقومات وصول کرتی ہیں۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اقلیت کی مخصوص نشستیں فروخت ہو جاتی ہیں۔
(۵)لوئر کاسٹ کے ووٹرز صرف زمیندار کی زیادتیاں ہی برداشت نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے ہی ہم مذہب اونچی ذات کی بالادستی برقرار رکھنے کی کوششوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ جب بھی اقلیت میں سے امیدوار لینے کی ضرورت پڑتی ہے تو ترجیح اونچی ذات کے ہندو کو دی جاتی ہیں جن کے سامنے بڑی تعداد میں موجود اقلیت کی وہی حیثت ہوتی ہے جو ایک کسان کی وڈیرے کے سامنے ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ گزشتہ تمام انتخابات سے چلا آرہا ہے۔ اس وجہ سے اقلیتوں کی حقیقی نمائندگی نہیں ہوپاتی۔ یہ کھیل اس مرتبہ بھی کھیلا جائے گا۔
سیاسی جماعتیں، حکومت اور الیکشن کمیشن کو موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اقلیتوں کی صحیح نمائندگی ہو سکے اور سیاسی جماعتیں اس کو اپنا سیاسی کھیل تماشہ نہ بنائیں۔


ای پیپر