خلائی مخلوق یا کچھ اور ہے؟
02 جولائی 2018 2018-07-02

تاریخ دنیا میں پڑھا جانے والا دوسرا بڑا مضمون ہے اور ماضی سے سبق سیکھنے کے حوالے سے اس کا پہلا نمبر آتا ہے جب ہم ماضی کی بات کریں غلطیوں سے سیکھنے کا سوال کرتے ہیں تو نہ جانے لوگ ’’سیخ پا‘‘ کیوں ہو جاتے ہیں۔ ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ بنگلہ دیش پہلے پاکستان کا حصہ تھا۔ اس سے بھی پہلو تہی نہیں ہو سکتی کہ 7 دسمبر 1970ء کو قومی انتخاب ہوئے تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ساری جماعتوں نے ان انتخاب میں پورے ایک سال انتخابی مہم چلائی۔ مجیب الرحمن نے پورے ایک سال انتخابی مہم میں حصہ لیا بھٹو تک نے جمہوریت ہماری سیاست، طاقت کا سرچشمہ عوام کا نعرہ لگایا۔ دوسری جانب عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں پورا ایک سال چھ نکات کے پرچار سے ملک توڑنے کی مہم جاری رکھی انہیں نہ تو چیف الیکشن کمشنر جن کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا، چھ نکات کے پرچار سے روکا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ 1970ء کی انتخابی مہم کے دوران پر تشدد واقعات ہوئے کسی کے خلاف ایکشن نہ ہوا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مولانا عبدالحمید بھاشانی نے کسان کانفرنس کے بعد گھیراؤ جلاؤ کی مہم شروع کی۔ لاہور میں سیاسی جماعتوں کے دفاتر توڑے گئے۔ یہ بھی سچ ہے کہ شیخ مجیب الرحمن نے مغربی پاکستان سے بھرپور انتخابی مہم کا آغاز کرنا چاہا مگر بلوچستان سے ہوتے ہوئے جب وہ لاہور آئے انہوں نے لاہور کے ناصر باغ میں جلسہ کیا۔ آغاز ہوا ہی تھا تو ہنگامہ ہو گیا۔ جلسے کو در ہم برہم کر دیا گیا۔ جوابی دھمکی بھی مجیب الرحمن کی تھی کہ مولانا مودودی کو بھی ڈھاکہ ایئرپورٹ پر نہیں اترنے دیا جائے گا۔ جماعت اسلامی نے مشرقی پاکستان میں جلسے کیے تو وہ بھی الٹ دیئے گئے۔ گولیاں چلیں چار جماعتی اتحاد پاکسان ڈیمو کریٹک پارٹی جس کے سربراہ نور الامین تھے اس جماعت کے لیے بھی پر تشدد واقعات سے انتخابی مہم چلانا مشکل تھا۔ شیخ مجیب الرحمن جو ہماری قومی دستاویزات کے مطابق غدار تھا۔ سوال تو یہ ہے جب تین جماعتیں مسلم لیگ کونسل۔ پاکستان ڈیمو کریٹک پارٹی اور جماعت اسلامی چھ نکات کو پاکستان کی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دے رہی تھیں تو ان کی یہ آواز نہ الیکشن کمشنر نے سنی ۔ یحییٰ خان ٹولہ تو افراتفری پر لمبی تان کر سو گیا تھا۔ بلکہ تحریک انصاف کے اسد عمر کے والد محترم مشرقی اور مغربی پاکستان میں سیاست دانوں کا اپنا گروپ بنا رہے تھے۔ اُن میں پیسے تقسیم کر رہے تھے۔
غلام مصطفی کھر نے بھی مجھے دیئے گئے انٹرویو میں تسلیم کیا کہ ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ سیاست دانوں میں پیسے تقسیم کیے گئے ہیں۔ اس پس منظر میں پاکستان کا اکیلا سیاست دان جو اُس وقت سیاسی ادراک کا سب سے زیادہ احساس رکھتا تھاوہ تھے نوابزادہ نصر اللہ خان ۔ ان کے پیچھے تھے ممتاز دولتانہ۔ انتخابی مہم کی اٹھان اتنی زبردست تھی جس پر عوامی لیگ کے انتہا پسند مشرقی پاکستان میں حاوی ہو چکے تھے۔ نوابزادہ نصر اللہ خان کی دانش بتاتی تھی کہ
مستقبل میں متفقہ آئین نہیں بن سکے گا وہ مطالبہ کر رہے تھے 1956ء کا آئین بحال کیا جائے اور اسی آئین کے تحت انتقال اقتدار دیا جائے مگر یحییٰ خان ٹولے کا اپنا ایجنڈا تھا۔ جسٹس حمود الرحمن کی رپورٹ شائع ہو تو معلوم ہو سکے گا ایجنڈا کیا تھا۔ انتخاب کے بعد 120دن کی شرط نیا آئین بنانے کے لیے جان بوجھ کر رکھی تھی۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے انتخابات سے دو ماہ قبل مشرقی پاکستان میں خوفناک طوفان آ گیا۔ اس سمندری طوفان میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ جاں بحق ہو گئے مگر مجیب الرحمن نے مرنے والوں کی تعداد دس لاکھ بتائی۔ انتخابات ملتوی کرنے کا بہانہ فراہم کر دیا گیا۔ یحییٰ اور اُن کے ساتھی امدادی کام کرنے کی بجائے سیاست گیری میں مغربی پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا رویہ سمندری طورفان میں بہہ جانے والوں کے لیے ہمدردی کا ضرور تھا مگر کسی نے اُن کی مدد نہ کی۔ یحییٰ خان نے انتخاب ملتوی کر دیئے ۔ مجیب الرحمن کی یہ دھمکی کام کر گئی اگر دس لاکھ لوگ سمندری طوفان میں مارے گئے ہیں تو دس لاکھ افراد انتخاب وقت پر کرانے کے لیے تیار ہیں۔ الیکشن 7 دسمبر 1970ء کو ہو رہے یحییٰ خان کے ایل ایف او کے مطابق مشرقی پاکستان کی 162 نشستیں جبکہ مغربی پاکستان کی 138 تھیں اس میں آبادی کے حساب سے 3 لاکھ 13 ہزار 8 سو 28 افراد کی ایک نشست تھی 2 کے علاوہ عوامی لیگ نے کشتی کے نشان پر 160 نشستیں جتیں، پیپلز پارٹی کی تلوار تھی۔ 300 میں 83 نشستیں ہی لے سکی۔ وہ بھی مغربی پاکستان میں ایوب خان کی کنونشن لیگ کی سائیکل تھی اس کا نشان سائیکل تھا مسلم لیگ قیوم جو اس زمانے میں یحییٰ خان کا مہرہ تھا شیر کے نشان پر سرکار کی بولی بول رہا تھا۔ جماعت اسلامی نے ترازو کے نشان پر حصہ لیا۔ مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمن کا اسی جماعت نے مقابلہ کیا۔ کافی ووٹ ملے۔ انتخاب میں 59.8 فیصد ٹرن آؤٹ رہا مشرقی پاکستان میں ٹرن آؤٹ 59.9 پنجاب عوامی بیداری میں سب سے آگے تھا۔ 68.7 ٹرن آؤٹ تھا۔ مگر اکثریت بھٹو کے ساتھ تھی۔ بلوچستان جہاں پورا بلوچستان 4 نشستیں رکھتا تھا ۔ یہاں کا ٹرن آؤٹ 40.6 فیصد تھا۔ عوامی لیگ نے 160 نشستوں کے ساتھ 39.2فیصد ووٹ لیے اور اسے 12,927,162ووٹ ملے۔ پیپلزپارٹی عوامی لیگ مقابلے میں آدھے ووٹ بھی نہ لے سکی اسے ووٹ ملے 6,148923 جس میں اس کا تناسب 18.6 فیصد تھا۔ پھر کیا ہوا جمہوریت کی سیڑھی کو پہلے step سے اتارنے کا منصوبہ آ گیا۔ عوامی لیگ سنگل لارجسٹ پارٹی بن گئی۔ اسٹیبلشمنٹ کے مہرے خان عبدالقیوم اور دائیں بازو کی اہم جماعتوں کے نتائج نے یحییٰ خان کو مایوس کر دیا۔ اسکرپٹ کا دوسرا حصہ شروع ہوا تک نہیں بھٹو نے انتخابی مہم کے دوران عوامی لیگ کے چھ نکات کا سوال تک نہیں اٹھایا۔ شکست کھانے کے بعد کہا ’’مجھے بھی اقتدار میں حصہ دو‘‘ جمہوریت میں حصہ نہیں پورا اقتدار ملتا ہے۔ یحییٰ خان نے شیخ مجیب سے ملاقات کی اچھی ملاقات تھی۔ یحییٰ مجیب سے اتنا خوش ہوئے کہ آخر مجیب کو مستقبل کا وزیراعظم کہہ ڈالا۔ یہ بات بھٹو کو اچھی نہیں لگی تھی۔ یحییٰ کی سودے بازی کامیاب تھی یہ کامیابی بھٹو پر بجلی بن کر گری 3 مارچ 1971ء کی تاریخ انتقال اقتدار کے لیے طے ہو گئی ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کا اجلاس طے ہوا۔ یحییٰ ڈھاکہ سے سیدھا لاڑکانہ پہنچے۔ مجیب اور بھٹو ملاقاتوں کاسلسلہ ہوا ۔ غلام مصطفی کھر ڈھاکہ میں بھٹو کا نمائندہ بن کر بیٹھ گیا مگر اس ملاقات سے پہلے 3 جنوری 1971ء کو ڈھاکہ نے رضا ریس کورس گراؤنڈ میں یوم فتح منایا۔ لاکھوں لوگ جمع تھے۔ جس میں مجیب الرحمن سمیت قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے عوامی لیگی ارکان نے حلف اٹھایا ۔ عبارت کچھ یوں تھی ’’ہم قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اللہ کے نام سے حلف اٹھاتے ہیں جو بڑا رحمن اور رحیم ہے ہم ان شہدا کے نام پر حلف اٹھاتے ہیں جن کی قربانیوں کی وجہ سے ہم اپنی فتح کا پہلا مرحلہ مکمل کر سکے ہیں ہم کسانوں، مزدوروں طلبہ اور ملک کے تمام طبقوں کے نام پر حلف اٹھاتے ہیں۔ اس وقت سٹیج کا ماحول کچھ یوں تھا تمام حلف اٹھانے والے ارکان 120 فٹ لمبے اور 30 فٹ چوڑے کشتی نما اسٹیج موجود تھے۔ اس موقع پر جئے بنگلہ اور جئے پاکستان کے نعرے لگائے گئے۔ ڈائس پر کشتی کے بادبان کی جگہ مشرقی پاکستان کا نقشہ جبکہ بنگلہ دیش اور پاکستان کا قومی پرچم بھی لہراتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ بھٹو نے اُدھر تم اِدھر ہم کا نعرہ لگا کر شیخ مجیب الرحمن کا کام آسان کر دیا پہلا اجلاس ملتوی کرانے کا تنہا ذمہ دار بھٹو تھا۔ جس نے مغربی پاکستان کے ڈھاکہ جانے والے ارکان کو دھمکیاں دیں۔ قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہوا تو مشرقی پاکستان ایک طوفان کی زد میں آ گیا۔ مشرقی کمانڈ کے دو سربراہوں احسن ایم احسن اور جنرل یعقوب نے استعفیٰ دے دیا آپریشن تو ٹکا خان نے کامیاب کر لیا مگر کس قیمت پر یہ سوال پھر کبھی اٹھائیں گے۔ یہ تو وہ تاریخ کے واقعات جس سے ہمیں سیکھنا چاہیے پسند کی حکومت اور جمہوریت لانے کے لیے قوم کو کیا قیمت ادا کرنا پڑی۔ 2018ء کے انتخابات کو دیکھا جائے کہ کیا پری پول رگنگ کا ماحول مسلم لیگ کے نام سے بنایا جا رہا ہے؟ اس کا آغاز تو سپریم کورٹ کے فیصلے ’’اقامہ‘‘ سے ہوا پھر نواز شریف ، وزیر خارجہ خواجہ آصف، وزیر داخہ پر گولیاں برسائی گئیں۔ سب کچھ ایسے ہی نہیں ہو گیا۔ بلوچستان میں صوبائی حکومت کو الٹایا گیا، سینیٹ کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) سے شیر کا نشان چھین لیا گیا۔ پنجاب میں (ن) لیگ کی قیادت کے خلاف احتساب کا ادارہ متحرک کیا گیا۔ متحدہ جنوبی صوبہ تحریک کے نام پر جمع ہونے والے بلے کے نشان پر متحد ہو گئے۔ (ن) لیگ کے ارکان کو ڈرانے اور دھمکانے کے واقعات سامنے ہیں۔ یہ کوئی اور یا خدائی مخلوق جو ایک پارٹی کے خلاف سب کو متحد کر رہی ہے۔یہاں تک اسٹیبلشمنٹ کے پرانے مہرے چوہدری نثار کو کامیاب کرنے کے لیے (ن) لیگ کے امیدوار قمر الزمان کو نیب پکڑ کر لے گئی۔ بات یہیں نہیں رکی آزاد امیدواروں کے لیے جیپ کا نشان منتخب کیا گیا۔ نوا زشریف کو لندن سے جواب دینا پڑا۔ شفاف انتخاب کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔ جس کے بعد لیاری میں بلاول بھٹو کی ریلی پر حملہ ہوا۔


ای پیپر