کیا پنڈی بدستور مسلم لیگ ن کا گڑ ھ ہے۔۔۔؟
02 جولائی 2018 2018-07-02

راولپنڈی شہر و چھاؤنی ہی نہیں پورے ضلع راولپنڈی کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ یہ مسلم لیگ ن کے حامیوں کا گڑھ چلا آ رہا ہے تو یہ کچھ ایسا غلط نہیں ہو گا اس لیے کہ پچھلی صدی کے نوے کے عشرے میں 1993,1990اور 1997 میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں راولپنڈی کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی زیادہ تر نشستوں پر میاں محمد نواز شریف سے تعلق رکھنے والی مسلم لیگ کے اُمیدوار کامیاب ہوتے رہے ۔ اس سے قبل بھی اگست 1988 ء میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی شہادت کے بعد نومبر 1988 میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں جب پورے ملک میں پیپلز پارٹی کا طوطی بول رہا تھا تو بھی راولپنڈی سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی زیادہ تر نشستوں پر میاں محمد نواز شریف کے دھڑے سے تعلق رکھنے والی اُمیدوار کامیابی حاصل کرنے میں سرخرور رہے ۔اسی طرح اکتوبر 2002 میں منعقد ہونے والے انتخابات میں جب آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کا سورج نصف النہار پر تھا اور وہ ملک کے چیف ایگزیکٹو (سربراہ حکومت ) اور صدر مملکت (سربراہ ریاست) کے مناصب سنبھالے ہوئے تھے تو مسلم لیگی اُمیدواروں کی کامیابی کی یہی صورتحال قائم رہی۔ اس کے بعد فروری 2008 کے عام انتخابات میں بھی جب صدر مملکت کا عہدہ جنرل پرویز مشرف کے پاس ہی تھا اور دسمبر 2007 میں محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ملک بھر میں پیپلز پارٹی سے ہمدردی کی لہر زوروں پر تھی راولپنڈی کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابی نتائج کی سابقہ صورتحال برقرار رہی اور زیادہ تر نشستوں پر کامیابی مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے اُمیدواروں کے حصے میں آئی ۔ بیس، پچیس سال کے اس عرصے میں ضلع راولپنڈی سے جہاں چوہدری نثار علی خان، شیخ رشید احمد ، شاہد خاقان عباسی اور 1990 کے انتخابات کے بعد جناب اعجاز الحق قومی اسمبلی کے منتخب ممبران کے طور پر میاں محمد نواز شریف کے بااعتماد رفقاء کے طور پر سامنے آئے تو وہاں راجہ بشارت، چوہدری تنویر خان ، چوہدری محمد ریاض ، بادشاہ خان
آفریدی مرحوم ، شہریار ریاض اور سید ظفر علی شاہ وغیرہ مسلم لیگی اُمیدواروں کے طور پر بطورِ رُکن صوبائی اسمبلی کامیابی سمیٹنے میں کامیاب رہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اکتوبر 1999 میں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے میاں محمد نواز شریف کی آئینی حکومت کو برطرف کر کے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ جمایا تو مسلم لیگی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی میاں محمد نواز شریف سے وفاداری بشرط استواری اور مسلم لیگ سے وابستگی میں بھی تبدیلی آنا شروع ہو گئی اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کا اظہار بھی سامنے آنے لگا۔
2008 کے انتخابات میں بلا شبہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے لیے ہمدردی کی بے پناہ لہر پائی جاتی تھی تو مسلم لیگ ق بھی اقتدار میں موجود تھی تو مسلم لیگ ق بھی اقتدار میں ہوتے ہوئے حکمران جماعت کے طور پرایک مؤثر انتخابی قوت کے طور پر میدان میں موجود تھی لیکن اس کے باوجود قومی اسمبلی کے دو حلقوں NA-52 اور NA-53 سے کامیابی چوہدری نثار علی خان کے حصے میں آئی جبکہ NA-50 سے کامیابی نے جناب شاہد خاقان عباسی کے قدم چومے اور NA-51 سے پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف کامیاب رہے ۔گویا 2008 کے عام انتخابات میں راولپنڈی کی قومی اسمبلی کی 7 نشستوں میں سے 6 پر مسلم لیگ ن اور ایک پر پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی۔ صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں کامیابی کا تناسب بھی اس سے کچھ ملتا جلتا ہی تھا۔ تاہم مئی 2013 کے انتخابات کا ڈنکا بجا تو صورتحال میں ایک نمایاں تبدیلی آئی کہ اب کپتان عمران خان کی تحریکِ انصاف ایک مؤثر انتخابی قوت کے طور پر مقابلے میں آ چکی تھی ۔
مئی 2013 کے انتخابی نتائج کے مطابق راولپنڈی کی قومی اسمبلی کی 7 نشستوں میں سے 4 پر مسلم لیگ ن کامیاب رہی اور 3 پر کامیابی تحریک انصاف اور اُس کی حمایت یافتہ جماعت عوامی مسلم لیگ (شیخ رشید احمد) کے حصے میں آئی۔ صوبائی اسمبلی کی 14 میں سے 7 نشستیں مسلم لیگ ن نے جیتیں اور 7 پر ہی تحریکِ انصاف کو کامیابی ملی۔ راولپنڈی کے حوالے سے مئی 2013 کے انتخابی نتائج مسلم لیگ ن کے لیے گویا ایک طرح کی الارمنگ (خبردار) کرنے کی صورتحال کی نشاندہی کرتے نظر آئے۔ ان انتخابات کا قابلِ ذکر پہلو یہ رہا کہ قومی اسمبلی کے حلقہ NA-56 سے عمران خان نے مسلم لیگ ن کے اُمیدوار حنیف عباسی کو واضح برتری سے شکست سے دوچار کیا تو عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے تحریک انصاف کی حمایت اور تعاون سے NA-56 کی نشست مسلم لیگ کے شکیل اعوان کو ووٹوں کے تھوڑے مارجن سے شکست دے کر دوبارہ حاصل کر لی ۔ NA-52 سے چوہدری نثار علی خان نے ایک لاکھ سینتیس ہزار سے زائد ووٹ لے کر بہت بڑی اکثریت سے اپنے حریفوں تحریکِ انصاف کے کرنل اجمل صابر اور مسلم لیگ ق کے راجہ ناصر کو شکست دے دو چار کیا ۔ تاہم NA-53 میں انہیں تحریک انصاف کے سرور خان کے مقابلے میں تھوڑے ووٹوں کے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ NA-50پر مسلم لیگ ن کے جناب شاہد خاقان عباسی نے واضح اکثریت سے تحریکِ انصا ف سے تعلق رکھنے والے اپنے مخالف اُمیدوار کو ہرایا تو NA-51 سے راجہ جاوید اخلاص نے اپنے حریف پیپلز پارٹی کے اہم رہنما اور سابق وزیرِ اعظم جناب پرویز اشرف کو شکست سے دوچار کیا ۔ NA-54 پر ملک ابرار احمد بڑے تھوڑے مارجن سے تحریکِ انصاف کی اُمیدوار حنا منظور کے مقابلے میں کامیابی حاصل کر سکے۔ مئی 2013 کے عام انتخابات میں راولپنڈی شہر ، چھاؤنی اور ضلع میں تحریکِ انصاف کی یہ کامیابی گویا مسلم لیگ ن کے مضبوط قلعے میں شگاف ڈالنے کے مترادف تھی۔ اب 25 جولائی 2018 کو منعقد ہونے والے عام انتخابات میں راولپنڈی میں کیا منظر نامہ سامنے آئے گا ، کیا مسلم لیگ ن اپنے مخالفین کو بچھاڑنے میں کامیاب ہو گی یا تحریکِ انصاف جو اس کی حقیقی حریف ہے مسلم لیگ ن کے قلعے میں مزید شگاف ڈالنے میں کامیاب ہو جائے گی اس بارے میں حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم کچھ باتیں اور عوامل بڑے واضح ہیں جو مسلم لیگ ن اور تحریکِ انصاف کی کامیابی اور ناکامی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ان کاتذکرہ آئندہ ہو گا تاہم اتنی بات واضح ہے کہ پیپلز پارٹی بھی اگرچہ میدان میں موجود ہے لیکن اگر اس کے بارے میں یہ کہا جائے کہ وہ مقابلے سے تقریباً باہر ہی ہے تو یہ کچھ ایسا غلط نہیں ہو گا۔


ای پیپر