حکومت و سیاست پاکستان میں اور جائیدادیں باہر
02 جولائی 2018 2018-07-02

بنیادی طور پر ہم ایک جذباتی قوم ہیں اس لیے ہمیں یہ ٹائٹل اچھا نہیں لگ رہا ہو گا۔اہل حکمت و دانش کہتے ہیں کہ جذباتیت انسانوں کو زندگی کے حقائق کا صحیح ادراک نہیں ہونے دیتی۔
ویسے مجھے ذاتی طور پر جذباتی لوگ اچھے لگتے ہیں، نہ جانے کیوں۔ اس کی وجہ تو خود مجھے بھی نہیں معلوم۔آپ کے مشاہدہ میں ہو گا کہ جذباتی لوگوں کا مستقبل کوئی خاص درخشاں نہیں ہوتا اور وہ عموماً مایوس اور پریشان رہتے ہیں۔ہمارے ایک دوست جو وفاقی سیکریٹری رہ چکے ہیں آجکل ڈیفنس لاہور میں رہتے ہیں۔ بڑی ذہین اور خوبصورت گفتگو کرتے ہیں۔ ان سے ملنے کو جی چاہا ، معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ وہ ملک سے باہر ہیں۔ یہ تو ہمیں پتہ تھا کہ ان کے بچے کینیڈا میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔کچھ دن پہلے ان کے فون سے معلوم ہوا کہ وہ لاہور آ چکے ہیں۔ ان سے ملاقات طے ہوگئی۔دوران ملاقات معلوم ہوا کہ ان کی بیگم اور تمام بچے کینیڈین شہریت حاصل کر چکے ہیں لیکن پاکستان میں سرکاری ملازمت کی وجہ سے انھوں نے اپنا کیس pending رکھوایا ہوا تھا۔اب ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے اپنا کیس reactivate کرا لیا ہے اور جلد انہیں بھی کینیڈین شہریت مل جائیگی۔مجھے اپنا دیس چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں جا بسنا کبھی اچھا نہیں لگا ۔مجھے یوں لوگوں کے غیر ملکی شہریت لینے اور پھر وہاں جا کر رہنے لگ جانے کی منطق کچھ خاص سمجھ نہیں آتی ۔آج کی نئی نسل تو امریکہ ، کینیڈا اور یورپ میں زندگی بسر کرنے کو رشک کی نگاہوں
سے دیکھتی ہے۔مجھے اپنے کلچر ، اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے درمیاں زندگی گزارنا بہت بھلا لگتا ہے۔ اس فیصلہ کی وجہ پوچھنے پر وہ کہنے لگے ، اس ملک میں اب رہ کیا گیا ہے۔ زرداری اور شریف خاندان نے اس میں رہنے کیا دیا ہے۔بے اماں غیر ملکی مہنگے قرضوں کا بوجھ اس ملک پر لاد دیا گیا ہے جن کی واپسی اس ملک کے غریبوں کے بس میں نہیں ہے۔مکمل تباہی کی طرف یہ ملک تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ سمجھ دار لوگ اس ڈوبتی کشتی سے دور بھاگ رہے ہیں۔اس ملک کے سیاستدانوں اور امراء کو تو چھوڑیں یہاں کی بیوروکریسی اور ان کے خاندانوں کی ایک بڑی تعداد نے غیر ملکی خصوصاً یورپ ، امریکہ ، کینیڈا،برازیل اور آسٹریلیا کی شہریت حاصل کر رکھی ہے۔وزارت خارجہ کے افسران تو اس سلسلے میں خاصی مہارت رکھتے ہیں۔وہ تو اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنے اور اپنی فیملی کے لیے غیرملکی شہریت کا بندوبست کر چکے ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے میں ان لوگوں کا قصور ہی کیا ہے۔ اس ملک میں نہ تو کوئی بچوں کی مناسب تعلیم کا بندوبست ہے اور نہ ہی علاج معالجہ کی کوئی سہولت میسر ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مستقبل میں بھی کوئی روشنی کی کرن نظر نہیں آتی ہے ۔ کہنے لگے شاید آپ کو معلوم نہیں کہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ جس میں امریکہ ، اسرائیل، برطانیہ اور بھارت سر فہرست ہیں نے پاکستان کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کا پلان بنا رکھا ہے، اور اب تو اس میں ہمارا پڑوسی ملک افغانستان بھی شامل ہو چکا ہے۔ان کی یہ بات سن کر مجھے لیجنڈ سفارت کار اور سابق سیکریٹری وزارت خارجہ آغا شاہی کا وہ لیکچر یاد آ گیا جو انھوں نے2003 ء میں 83rd ایڈوانس کورس ان پبلک سیکٹر مینجمنٹ میں شریک افسرا ن کو نیپا لاہور میں دیا تھا ۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اس کورس میں احسن اقبال موجودہ وفاقی سیکریٹری ،ڈاکٹر اللہ بخش ایکس سیکریٹری سکولز اور سلیمان اعجاز موجودہ سیکریٹری لٹریسی حکومت پنجاب بھی شامل تھے۔ ان دنوں محترم آغا شاہی صاحب کے ایک انٹر ویو نے جو کہ ایک پاکستانی اخبار کے سنڈے میگزین میں چھپ چکا تھا ،لوگوں کے ذہنوں کوڈسٹرب کر کے رکھ دیا تھا۔اس انٹر ویو میں انھوں نے اس مادر وطن کے ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کی پیش گوئی کا ذکرکیا تھا۔ ان کے لیکچر کے آغاز سے پہلے ہی کورس کے شرکاء نے اس انٹرویو کی بابت ان پر سوالوں کی بوچھاڑ کر دی تھی۔مجھے آج تک یاد ہے آغا شاہی صاحب افسران کی اس یلغار کے باوجود بڑے کمپوزڈ (composed ) رہے تھے۔کہنے لگے افسوس مجھے اس بات کا ہو رہا ہے کہ آپ لوگ اس نتیجہ پر کیسے پہنچے ہیں کہ آپ مجھ سے زیادہ محب وطن ہیں ۔ کہنے لگے میں وہ شخص ہوں جس نے اپنی ذاتی زندگی اس ملک پر قربان کر دی ہے۔ بتانے لگے کہ انھوں نے فارن سروس بڑے شوق سے جوائن کی تھی۔ پھر سفارت کاری میں کچھ یوں ڈوبے کہ اپنی ذاتی زندگی بھول گئے، شادی بھی نہیں کی اور اب ریٹائرمنٹ کے بعد اسلام آباد میں تن تنہا رہتے ہیں۔ ہاں میرے پاس ایک نوکر ہے جو میرا اور میری کتیا کا خیال رکھتا ہے۔ اور جب وہ چھٹیوں پر گاؤں چلا جاتا ہے تو کتیا کے کھانے پینے کا خیال بھی مجھے رکھنا پڑتا ہے۔کہنے لگے میں سروس کے دوران اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی دنیا کے مختلف اور بہت اہم تھنک ٹینکس( Think tanks) کا ممبر رہا ہوں۔یہ تھنک ٹینکس مختلف ممالک کے سیاسی اور ملٹری حالات پر سوچ وبچار کرتے رہتے ہیں اور پھر ان کی بنیاد پر مختلف پیشین گوئیاں کرتے ہیں۔کہنے لگے کہ ایک امریکن تھنک ٹینک ہے جس کا میں بھی ممبر ہوں ۔ میں نے آج تک اس تھنک ٹینک کی کوئی پیشین گوئی غلط ثابت ہوتے نہیں دیکھی۔ اسی امریکی تھنک ٹینک نے پیشین گوئی کی ہے کہ پاکستان جلد یا بدیر ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گا۔کہنے لگے آپ کیا سمجھتے ہیں کہ میرے جیسا شخص جس کی کل کائنات ہی اپنا ملک ہے وہ اس پیشین گوئی پر خوش ہوا ہوگا۔ لیکن ضرورت شور مچانے کی نہیں ہے ، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری قوم اسے ایک چیلنج سمجھ کر ڈٹ جاے اور ملکی سلامتی کو دنیا کی ہرچیز سے مقدم رکھے۔یہ سب کچھ سوچ کر دل گھبرانے سا لگا ہے ۔ مجھے یہ یاد آنے لگا ہے کہ ہمارے تو تمام سیاستدانوں نے برطانیہ میں گھر لیکر سجا رکھے ہیں۔ میاں نواز شریف کے دو بیٹے ہیں ، دونوں برطانوی شہری ہیں اور برطانیہ میں رہتے ہیں۔ ابھی لندن کے اخبار ڈیلی میل نے خبر چھاپی تھی کہ شریف خاندان کی ا یون فیلڈ لندن والے گھروں کے علاوہ بھی بے شمار بہت مہنگی پراپرٹیز لندن میں ہیں۔پرویز مشرف کا گھر بھی لندن میں ہے۔ زرداری صاحب کے تو لندن ، امریکہ ، فرانس اور دبئی میں محلات ہیں۔ شہباز شریف کا بھی لندن میں گھر ہے ۔ عمران خان کے بیٹے بھی لندن میں رہتے ہیں۔ جہانگیر ترین اور علیم خان کے گھر بھی لندن میں ہیں۔ اور تو اور مولانا فضل الرحمان بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں انھوں نے بھی لندن میں ایک گھر بنا رکھا ہے۔تو اس ملک کے غریب بہن بھائیو اس ملک کے سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور امراء نے تو باہر کی دنیا میں اپنے گھر بنا رکھے ہیں ،صرف غریبوں کا مستقبل اس ملک سے وابستہ ہے۔لیکن اس ملک کے غریبوں کی سب سے بڑی ٹریجدی یہ ہے کہ ان پر حکمرانی دو خاندان کرتے ہیں جن کے گھر باہر کے ملکوں میں ہیں ۔
جن کی فیملیز اور اولادیں باہر کے ملکوں میں رہتی ہیں۔ ان کے بچے وہیں تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ وہیں کاروبار کرتے ہیں۔ ان کا علاج معالجہ بھی باہر کے ملکوں میں ہوتا ہے۔ان کا انداز حکمرانی آمرانہ ہوتا ہے۔ تمام ملکی ادارے انہوں نے ختم کر دیے ہیں ۔ قومی اداروں کے ملازمین کو انہوں مختلف ہتھکنڈوں سے اپنا زر خرید غلام بنایا ہوا ہے۔ایک واحد ادارہ اس ملک کی طاقتور اور محب وطن فوج ہے جو ان کی غلامی قبول نہیں کرتی، اسے غلام بنانے کے لیے وہ مختلف قسم کے حربے اپناتے رہتے ہیں ۔اوپر دئیے گئے حالات سے واضح ہے کہ اس ملک کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں اور کسی بھی ملک کی سلامتی کا دارو مدار اس کی افواج پر ہوتا ہے۔لیکن اس ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس ملک کے سیاستدان ہی فوج کو کمزور کرنے کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ موجودہ دور میں اب دشمن ممالک اپنے حدف ملک پر افواج سے حملہ نہیں کرتے بلکہ اسے اندرونی طور پر کمزور کر دیتے ہیں۔اگر کسی ملک کی فوج ہی کو کمزور کر دیا جائے تو اس کی سلامتی خود بخود کمپرومائز ہو جاتی ہے اور ملک بکھر جاتا ہے۔ غریب عوام جن کا جینا مرنا اسی ملک میں ہے اپنی ملک کی فوج کے پیچھے کھڑے ہو جائیں۔ انشا اللہ یہ ملک تا ابد سلامت رہے گا۔


ای پیپر