موجودہ الیکشن او ر مجلس احرار اسلام !
02 جولائی 2018 2018-07-02

آج کل انتخابی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں ،ہر امیدوار اپنے مخالف امیدوار پر ،ہر پارٹی دوسری پارٹیوں پر الزامات کی بوچھاڑ کررہی ہے اور ایک دوسرے کے لئے سب وشتم کا بازار گرم ہے ،ملک پاکستان کے موجودہ حالات کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرایا جارہا ہے ،انتہاء ہوگئی ہے کہ اقتدار سے بوریا بستر گول کرنے والی جماعت کے امیدوار بھی اپنے کارہائے نامہ کی فہرست پیش کرنے کی بجائے مخالفین پر کیچڑ اچالنے کی روش اپنائے ہوئے ہیں ،حالانکہ پاکستان کے معروضی حالات باہمی جنگ وجدل ،دست وگریباں ہونے کے ہر گز ہرگز محتمل نہیں ہیں ،انڈیا پاکستان کے پانی پر قابض ہوچکا ہے ،پاکستان کی زمینوں کی پیداوار کی اوسطاً پہلے کی نسبت بہت کم ہوئی ہیں ،لیکن الیکشن میں سرگرم امیدوار باہمی منافرت پھیلانے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں ،اپنے دورِ اقتدار میں غائب رہنے والے اس وقت عوام الناس میں مارے مارے پھر رہے ہیں ،یہ تو ملک پاکستان کی قدیمی روایت ہے کہ
انتخابات کے ایام میں امیدوار مارے مارے پھرتے ہیں اور یہ دورانیہ کوئی دو یا تین ماہ کا ہوتا ہے ،پھر پورے زمانہ اقتدار میں عوام کو دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑتیں ہیں ،اس سب کے باوجود ’’کتنے سادہ لوح ہیں میرے شہر کے لوگ ‘‘کے مصداق عوام پھر بغیر سوچے سمجھے قوم کے وڈیروں ،جاگیرداروں ،پنڈ کے چودھریوں ،نوابوں اور جعلی پیروں فقیروں کے اشارۂ ابرو پر ووٹ ڈال دیتے ہیں ،جبکہ عوام الناس کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ کس کو ووٹ دے رہے ہیں اور کس غرض سے ووٹ ڈال رہے ہیں ،ووٹ آپکی گواہی ہے اور اس بابت روزِ محشر ہمیں جوابدہ ہونا ہے ۔
مجلس احرار اسلام اس نظام سیاست(مغربی جمہوریت) کی مؤ ید نہیں لیکن چونکہ ارض پاک میں یہی نظام رائج ہے ،اس لئے اس نظام سے مکمل کنارہ کش رہنا بھی مذہبی حلقوں کے لئے مفید نہیں ہے ،اس لئے مجلس احرار اسلام کی قیادت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں از خود حصہ لینے کے بجائے متحدہ مجلس عمل کے صحیح العقیدہ اور صحیح الفکر امیدواروں کی مجموعی طور پر تائید وحمایت کی جائے ،جہاں ایم ایم اے کے امید وار نہیں ہوں گے وہاں کے علاقائی سطح پر بہ اعتبار مناسب امیدوار کی اپنے طور حمایت کی جاسکتی ہے ،لیکن آغاز میں ہی امیدوار سے تحریری عہد لیا جائے کہ وہ اسمبلی میں پہنچ کر نفاذ اسلام کی جدوجہد کی حمایت کریں گے ،تحفظ ناموس رسالت ،تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس صحابہؓ ،کے لئے کی گئی قانون سازی کو کسی صورت سبو تاژ نہیں ہونے دیں گے اور ملکی سلامتی وحدت کے لئے اسمبلی کے اندر اور اسمبلی کے باہر سرگرم عمل رہیں گے ۔
مجلس احرار اسلام پاکستان نے اس حوالے سے 30 ۔جون 2018 ء ہفتہ کو دارِ بنی ہاشم ملتان میں اپنی مرکزی عاملہ (ایگزیٹو باڈی) کا ایک اجلاس منعقد کیا ،جس کی صدارت امیر مرکزیہ حضرت پیر جی سید عطاء المہیمن بخاری اور نائب امیر سید کفیل بخاری نے کی جس کے بعد یہ اعلان کیا گیا کہ :’’ مجلس احرار اسلام موجودہ نظام سیاست پر عدم اعتماد کے باوجود معروضی صورتحال کے پیش نظراپنا حق رائے دہی استعمال کرے گی ،اور نفاذ اسلام ،تحفظ ناموس رسالت ،تحفظ ختم نبوت اور استحکام پاکستان پر یقین رکھنے والے امیدواروں کی حمایت کی جائے گی ،اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ سیاسی جماعتوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی صفوں سے دین اور وطن دشمن عناصر کو نکال باہر کریں ،قادیانیت نواز امیدوار چاہے کسی بھی جماعت سے ہو ں مجلس احرار ان کو بے نقاب کرے گی اور ان کی مخالفت بھی کرے گی ،اجلاس میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی تاریخی کامیابی پر ان کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان کی مکمل اخلاقی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ترکی خلافت عثمانیہ کی طرف واپس لوٹے گا ،اجلا س میں پاکستان کو ’گرے لسٹ‘‘ میں شامل کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالم کفر کی طرف سے پاکستان پر اقتصادی ومعاشی دباؤ بڑھانے کی سازش قرار دیا تاکہ پاکستان ان کے ایجنڈے کے تابع رہ سکے ‘‘۔
مجلس احرار اسلام کا قادیانیت نواز امیدواروں کے خلاف یہ فیصلہ کوئی نیا نہیں ،بلکہ مجلس احرار اسلام نے اپنی بِنا کے روز اول سے ہی تعاقب قادیانیت کو اپنا ماٹو قرار دیا ہو اہے کہ قادیانی جس راہ سے امت مسلمہ کے حق پر شب خون مارنے کی سعی کریں گے تو مجلس احرار اسلام ان کا راستہ روکے گی ،اور تاریخ پاکستان کے مختلف ادوار گواہ ہیں کہ مجلس احرار اسلام ،پاکستان میں قادیانیوں اور قادیانیت نواز لوگوں کے سامنے سدّ سکندری ہے ،جس نے مسلمانوں کا ایمان بچانے کی خاطر اور عقیدہ ختم نبوت اور مقام ومنصب صحابیت کے تحفظ کے لیے انتھک محنت کی ہے ،مسلمانوں میں مذہبی شعور بیدار کیا ہے ، مجلس احرار اسلام کے رہنماؤں نے جماعتی وذاتی مفادات پر دین اسلام کو مقدم رکھا ،اس کے لئے جیل کی کال کوٹھڑیاں کو آباد کیا،مصائب وآلام کی وادیوں سے گزرے ،اپنے اور پرایوں کی مخالفت برائے مخالفت کا نشانہ بنے، لیکن ان کے پائے استقامت میں لرزش واقع نہ ہوئی ، اوربقول شاعرؔ
زمانہ معترف ہے اب بھی ہماری استقامت کا
نہ ہم نے قافلہ چھوڑا، نہ ہم نے رہنماء بدلا
آج بھی رضاکارانِ احرار کو قیادت کی جانب سے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے جو 1988 ء میں قا ئد احرار سید عطاء المحسن شاہ بخاری ؒ نے دیا تھا کہ’’ موجودہ انتخابی میدان میں آپ کو بھرپور جہاد کرنا ہوگا ، احرار کارکن گلی گلی ،محلہ محلہ اور ایک ایک گھر جاکر مسلمانوں کے بے دین امیدواروں کے سیاہ کردار سے آگاہ کریں اور ان میں یہ جذبہ پیدا کریں کہ جب امیدوار لوگوں کے گھروں میں جائیں تو لوگ ان سے نفاذ اسلام کی بات کریں اور صاف لفظوں میں یہ مطالبہ کریں کہ ہم آپ کوصرف اسی صورت ووٹ دیں گے کہ آپ ہمیں یہ حلف دیں کہ آپ صرف نفاذِ اسلام کی جدوجہد کریں گے ،مسلمانوں میں یہ جذبہ پیدا کریں کہ وہ موجودہ انتخابات میں دین کے باغیوں اور ملک کے غداروں ،بہروپیوں اور غیر ملکی ایجنٹوں کو تاریخی اور عبرتناک شکست سے دو چار کردیں ، احرار ؔ کارکنو! ہمارا مقصد صرف الیکشن نہیں مکمل اسلامی نظام کا قیام ہے ‘‘۔


ای پیپر