لاڑکانہ میں عدالتیں کام کرر ہی ہیں

02 جولائی 2018

آصف عنایت

جنگ عظیم دوئم کی بات ہے جب سلطنت برطانیہ پر بھاری وقت آیا تو وزیراعظم نے پوچھا ہماری عدالتیں (انگلینڈ) کی کام کر رہیں جواب آیا ہاں کر رہی ہیں تو وزیراعظم بولے England will survive ۔ پچھلے ہفتے میں نے اپنے ایک کالم میں چیف جسٹس صاحب آف پاکستان کو مشورہ دیا تھا کہ وطن عزیز کی صرف ایک ڈسٹرکٹ کورٹ کا خفیہ دورہ کر لیں وطن عزیز کے عوام کو دکھوں سے آفاقہ ہو گا مگر خفیہ دورہ میڈیا میں نہیں آ سکتا تھا ۔ ریڈر کا پل صراط اور ماتحت عدلیہ کے دیانت دار جج صاحبان کی عدالت کے ’عملہ، وکلاء کے منشیوں اور پیشہ ور یا سال ہا سال سے مجبور پیشیاں بھگتنے والوں کو قریب سے دیکھ سکتے مگر یوں سیدھا عدالت میں کام کرتے جج صاحب کے سر پر اچانک جا کھڑے ہونا ظاہر ہے بریکنگ نیوز بننا تھی اور موضوع بھی اس پر کوئی تو کیا ریمارکس دیتا ملک کے نامور قانون دان، سابقہ پراسیکیوٹر جنرل نیب، سابقہ جسٹس آف لاہور ہائی کورٹ اور جاندار سابقہ اٹارنی جنرل آف پاکستان مسٹر عرفان قادر نے سوشل میڈیا پر جو سٹیٹس لگایا
It is extremely unfortunate that CJP has no comprehension of judicial norms. He has no business or mandate to visit the court rooms and admonish the judges, even otherwise he must not play to the gallery by seeking publicity for ridiculing the judges. Every judge is as much a judge in his courtroom as the Chief Justice himself is. It is absolutely unbecoming on the part of CJP to have conducted himself in such a manner. It is unfortunate that the bench and the bar is being subjugated by the personality cult of an individual at the cost of seriously undermining our institutions. It is undoubtedly a sad day for the rule of law in Pakistan.
اس پر کافی لوگوں نے ریمارکس دیئے، جناب چیف جسٹس اس دورے پر میرا وجدان تھا کہ ماتحت عدلیہ کا جج استعفیٰ دے دے گا ۔ اس کا اظہار میں نے چند دوستوں آغا سہیل ، خواجہ عماد الدین، ارشد روف، عامر بشارت اور سلمان طارق بٹ وغیرہ سے بھی کیا شام تک ہی کمرشل میڈیا پر متعلقہ ماتحت جج جناب گل ضمیر سولنگی نے اپنے نام کی عکاسی کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیاکی خبر آ گئی۔
سوشل میڈیا پر چونکہ خواہش کو خبر بنا کر پیش کیا جاتا ہے ویسے تو کمرشل میڈیا پر بڑے بڑے جانباز تجزیہ کار سوائے چند ایک کے تجزیہ کار کم اور کسی سیاسی جماعت یا حکمران طبقے کے ترجمان اور سپورٹر ہی سنائی دکھائی دیتے ہیں ۔ لہٰذا استعفیٰ کا یقین نہ آیا مگر جب یہ خبروں میں آیا تو پھر تصدیق ہو بھی گئی۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاڑکانہ منانے میں تب تک ناکام رہے۔ سولنگی صاحب استعفیٰ واپس لیں نہ لیں مگر ایک ردعمل کا بہرحال زبردست اظہار کیا گیا ۔ کاش یہ ردعمل ایوب خان، ضیاء الحق اور مشرف کو (بن مانگے تین سال کی) مہلت دینے کی بجائے اعلیٰ عدالتی فیصلوں کی طرف ظاہر کیا ہوتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمہ میں کیا ہوتا تو آج وطن عزیز کی تاریخ مختلف ہوتی۔ افتخار محمد چوہدری کا قصہ بھی پہلے دن سے آخر تک واقفان حال جانتے ہیں ۔ سکرپٹڈ ہی تھا۔ چوہدری صاحب بھول گئے اور بالکل بھول گئے
کندھوں پر چڑھانے والوں کے کان نہیں پکڑا کرتے ورنہ وہ پٹخ دیا کر تے ہیں اور ایسا ہی ہوا۔ عدلیہ بحالی تحریک نے وکلاء کی روایات کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ عدالتی روایات وکلاء کی اکثریت کے طرز وکالت سے بہت بڑی طرح متاثر ہوئیں۔ لاہور میں ججز کی جانیں اور عزتیں پولیس نے بچائیں۔ یہ سب ٹی وی پر خبر بن کر چلتا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر ماتحت عدلیہ کے ساتھ ہونے والے سلوک کی ویڈیوز اکثر وائرل ہوتی رہی ہیں ۔ میرے ایک دوست ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشنز جج نے 10 سال پہلے ہی ریٹائرمنٹ لے لی کہ اب کام کی آزادی اور عزت نہیں رہی۔ مگر کبھی کبھار اعلیٰ عدلیہ اُن کے آنسو پونچھ دیا کرتی تھی۔ اب ساون جو آگ لگائے اسے کون بجھائے۔ لاکھوں لوگ بے گناہ سزا ہوپاتے ہیں ۔ جنہیں اعلیٰ عدلیہ فیصلہ بدل کر ظاہر ہے قانون کے مطابق رہائی دیتی رہی ہے اور ہزاروں ایسے بھی ہیں جن کی بریت کو سزا میں بدلا ہو گا۔ حضرت عمرؓ کا قول ہے کہ کسی گناہ گار کا سزا سے بچ جانا یقیناًزیادتی ہے مگر کسی بے گناہ کا سزا پا جانا انتہائی ظلم ہے۔ آج کمپیوٹر ڈیٹا کا دور ہے۔ اس سے پہلے بھی ریکارڈ کی حفاظت ہمیشہ ہی کمال درجہ مہارت سے کی جاتی رہی ہے۔ کیا کسی ماتحت جج صاحب کا مقدموں کا ریکارڈ مرتب نہیں ہوتا کہ کتنے مقدمات میں بے گناہ ہونے والے جیل کاٹ کر اعلیٰ عدلیہ سے رہا ہوئے اور کتنے گناہ گار بمطابق مثل مقدمہ سزا سے بچ گئے، کتنوں کے جائز حقوق متعلقہ جائیداد اور زندگیاں عدالتوں کی راہ داریاں کھا گئیں اور کتنے ناجائز قابض استفادہ حاصل کرتے رہے۔ ماتحت جج کے غلط فیصلوں کی کوئی تعداد مقرر ہونا چاہیے جس کے بعد اُن کو ایک یادداشتی خط بھیج دیا جائے کہ اتنے مقدمات کا فیصلہ آپ نے میرٹ پر نہیں کیا۔ کیوں نہ آپ کو عام آدمی بنا دیا جائے۔ مجھے یقین واثق ہے ایسے چند خطوط ماتحت عدلیہ کے فیصلوں کے معیار کو اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے معیار سے قریب ترین لے آئیں گے جس سے عوام دکھوں کی چالو بھٹی سے باہر آجائیں گے۔ عدالتی اوقات کار کے بعد میں نے کسی وکیل کو کبھی کالے کوٹ میں نہ دیکھا مگر چوہدری افتخار محمد کے دور کے بعد تو کسی پولیس والے کو وردی کے بغیر دیکھا جا سکتا ہے مگر وکیل کو نہیں۔ گوجرانوالہ بار میں ایک دفعہ ایک وکیل صاحب غالباً شیرازی صاحب تھے۔ سر پر معمولی زخم لگوا کر آ گئے اور درخواست دی کہ فلاں ڈی ایس پی نے ڈنڈا مار کر سر پھاڑ دیا ہے۔ صدر بار جو سید اظہر حسین زیدی کے کزن تھے نے اجلاس طلب کیا، تین سینئر وکلاء کی کمیٹی بنائی کہ فوراً جائیں اور پتا کریں کہ سر پر ڈنڈا لگا ہے یا ڈنڈے کو جا کر سر مارا گیا۔ اس وقت وکلاء روایات کے تحت تھانے اور سرکاری دفاتر میں نہیں جایا کرتے تھے مگر آج ماتحت عدلیہ تو در کنار اعلیٰ عدلیہ کو بھی وکلاء گروپوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں ماتحت جج کی عدالت میں اس رویہ نے کیا بہتر اثرات چھوڑے؟ سولنگی کے استعفیٰ نے شاید چیف صاحب کے راستے میں اپنی قربانی سے دیوار کھڑی کر کے ماتحت عدلیہ کو خوف سے نجات دلا دی۔ کیونکہ لاڑکانہ میں عدالتیں کام کر رہی ہیں خاموشی سے قلم کے ساتھ سزائے موت دینے اور زندگی دینے کا اختیار رکھنے والے جج صاحبان ، وزرائے اعظم کو گھر بھیجنے اور پھانسی دینے کے اختیار رکھنے والے جج صاحبان کا ماتحت عدلیہ کی اصلاح کا طریق کار یقیناًقلم کے ذریعے ہونا چاہیے نہ کہ فلم کے ذریعے، قلم کی جگہ جب فلم آ گئی تو ادارے برباد ہونے لگے۔ چیف صاحب اللہ کا شکر ادا کریں کہ ان کی عدلیہ میں سولنگی بھی تھا ورنہ ماتحت عدلیہ کے جج صاحبان جن حالات میں کام کر رہے ہیں روزانہ صحیح سلامت گھروں کو لوٹ کر شکر ادا کرتے ہیں ۔ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ 70 سالوں سے حکمران طبقوں کے ظلم سہنے والی قوم میں انا اور حق کی خاطر بولنے والے ہیں ، سولی چڑھنے والے، پنڈی میں سرعام اور سالہا سال جیل کاٹنے والے، بچوں کو بھوک دے کر اناؤں کو پالنے والے ہیں ۔ جسٹس صدیقی صاحب نے بھی تو چیف جسٹس آف پاکستان سے اپنے انداز میں بات کی ہے۔ بحرحال سولنگی کی اصلاح دراصل ماتحت عدلیہ کی اصلاح کا پیغام تھا مگر طریق کار نے ان کی انا کو مجروع کیا ہو گا جس پر سولنگی کے ردعمل (مقننہ اور انتظامیہ تو ڈھیر ہو جایا کرتی ہیں مگر عدلیہ سامنے ماتحت عدلیہ؟)نے پوری دنیا کو بتا دیا کہ لاڑکانہ میں عدالتیں کام کر رہی ہیں ۔ لہٰذا Pakistan will survive

مزیدخبریں