کیا بھارتی ہٹ دھرمی سے مسئلہ کشمیر حل ممکن ہے؟
02 جولائی 2018 2018-07-02

مقبوضہ کشمیر میں میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں قائم حریت فورم نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ضلع پلوامہ میں شہید ہونیوالے نوجوانوں کو شاندار خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے کے لیے ہر طرح کے غیر انسانی اور غیر جمہوری ہتھکنڈے برائے کار لا رہا ہے۔ بھارتی فورسز مقبوضہ علاقے میں روز انسانی خون سے ہولی کھیلی رہی ہیں اورکشمیریوں کو شدید قسم کے مصائب اور تشدد کا شکار بنارہی ہیں۔ بھارتی حکمرانوں کی ہٹ دھرمی اور منفی طرز عمل کی وجہ سے خطے کا امن بری طرح سے داؤ پر لگا ہوا ہے۔بھارت کشمیر کو مراعات یا انتظامی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے کشمیریوں کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل کرنے کے اقدامات کرے۔ بھارت کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے بے گناہ کشمیریوں کی جانوں کے زیاں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ بھارتی چیرہ دستوں کی وجہ سے کشمیری نوجوان عسکریت کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔بھارت اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبا نہیں سکتا۔ کشمیریوں کے قتل عام میں ملوث بھارتی فوجیوں کے عالمی عدالت انصاف میں کھڑا کیا جانا چاہیے تاکہ بھارت کا بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے نمایاں ہو۔
گزشتہ برس بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے روایتی ہٹ دھرمی سے کام لے کر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں پھر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرارداد کی دھجیاں اڑا دیں اور جنرل اسمبلی میں بھی اٹوٹ انگ کا راگ الاپ دیا۔ سشما سوراج نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور رہے گا۔ پاکستان کشمیر کا خواب دیکھنا چھوڑ دے اور بلوچستان کی جانب دیکھے۔کوئی بھارت سے کشمیر کو علیحدہ نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو بلوچستان کی طرف دیکھنا چاہیے۔ اگر پاکستان سمجھتا ہے کہ وہ اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات دے کر کشمیر کو بھارت سے الگ کر سکتا ہے تو ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ دہشت گردی بونے، اگانے والے ملک کی پہچان کرکے جواب لیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ عالمی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے۔ بلوچستان پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے جس پر بات کر کے سشما سوراج نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایک سال پہلے مذاکرات بھارت نے معطل کئے اور سابق وزیراعظم نوازشریف کی مذاکرات کی پیشکش کا بھی کوئی جواب نہیں دیا ۔ تمام باتیں دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانے کے لئے کی گئیں۔ بھارت کا سلامتی کونسل کی قرار دادوں سے لاتعلقی کا اظہار حیران کن ہے۔ کشمیر بھارت کا لازمی حصہ ہے تو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر کیوں ہے؟
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا خطاب جھوٹ کا پلندہ ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے مذاکرات کا عمل منسوخ کیا ۔ سشما سوراج نے پہلا جھوٹ یہ بولا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے جبکہ اقوام متحدہ کی قراردادیں ہیں کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ریکارڈ پر ہیں۔ سشما سوراج نے یہ بھی سب سے بڑا جھوٹ بولا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہورہی۔ انہوں نے یہ بھی جھوٹ بولا کہ ہم نے مذاکرات پر کوئی شرط نہیں لگائی۔ بھارت نے مذاکرات منسوخ کئے ساری دنیا جانتی ہے۔
سشما سوراج نے بلوچستان پر پاکستان کو بدنام کرنے کا خواب دیکھا، کشمیر میں ہونے والے مظالم پر بھارت نے جھوٹ بولا، بھارت نے بے بنیاد الزامات لگائے، پاکستان جواب دے گا۔ یہ پاکستان کا حق ہے کہ وہ بھارتی الزامات کے جواب دے۔ بھارتی وزیر خارجہ کے بیانات پاکستان سے بغض کو ظاہر کرتے ہیں۔ بھارت کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کرنا چاہتا۔ دنیا کو پتہ چل گیا پاکستان مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتا ہے۔ بھارت نے کشمیر کے مظالم پر جھوٹ بولا، الزامات بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم چھپانے کیلئے لگائے گئے۔ 50 سال سے بھارت ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کی معاونت کرتا رہا ہے۔ ڈھائی ماہ میں 100 سے زائد کشمیری شہید، سینکڑوں بینائی سے محروم ہوگئے۔ مقبوضہ کشمیر میں قتل عام ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔ یہ ریاستی دہشت گردی اور جنگی جرائم کی بدترین مثال ہے۔ مقبوضہ کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں تھا اور نہ ہوگا۔ پاکستان اقوام متحدہ کی نگرانی میں کشمیر میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مذاکرات کا حامی ہے۔ مذاکرات خطے کی سلامتی اور امن کے لئے ضروری ہیں۔ یو این جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم نے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ بھارتی الزامات کا مقصد کشمیری خواتین اور بچوں پر ظلم سے توجہ ہٹانا ہے۔
بھارت کے ایک نجی ٹی وی نے کشمیریوں کی آزادی کے معاملے پر سروے میں سوال کیا کہ کیا آپ بھارت سے آزادی چاہتے ہیں؟ جس کے جواب میں 70 فیصد کشمیریوں نے کہا کہ ہاں ہم بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔ 30 فیصد نے جواب دیا کہ بھارت کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں۔ ایک اور بھارتی چینل پر سینئر بھارتی صحافیوں نے بتایا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے حالات جاننے کیلئے وفد لے کر گئے۔ جہاں انہوں نے سینئر سیاسی ورکروں اور عام لوگوں سے بات کی سب کا کہنا تھا کہ ہم بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔ جہاں تک کشمیری پنڈتوں کو بھگانے کا الزام ہے انہیں پنڈتوں کو بھگانے میں کوئی دلچسپی نہیں اگر ایسا ہی ہے تو انہوں نے وہاں سے سکھوں کو کیوں نہیں بھگایا۔ وہاں 6 سال کے بچے سے لے کر بڑوں تک کشمیر کی آزادی کیلئے لڑنے کا کہہ رہے ہیں آج 6 سال کے بچے کشمیر کی آزادی کیلئے لڑنے کا کہہ رہے ہیں تو وہ آئندہ 86 سال تک لڑیں گے۔


ای پیپر