یہ رسمِ تاج پوشی ہے درندوں اور لٹیروں کی
02 جولائی 2018 2018-07-02

جمہوریت کا تسلسل ہی ارتقا و بقا کا واحد زینہ ہے ۔ لیکن عام لوگ سیاسی عمل سے بیزار ہوتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ عام انتخابات میں پونے چار کروڑ لوگوں نے ووٹ ڈالے عوام کی اکثریت نے رائے شماری سے گریز کیا۔ عمران خان کا جنون ، نواز شریف اور شہبازشریف کی طرح داری اور رکھ رکھاو جبکہ شہید بھٹو کے زندہ و پائندہ نعرے بھی عوام کی اکثریت کو ووٹ دینے پر آمادہ نہ کر سکے۔ اس کی وجہ جاننے کیلئے غور کریں کہ ہمارے ہاں پارٹی میں ایک عام سیاسی ورکر کی کتنی چلتی ہے ۔ یہ نظام امیروں کا نظام ہے ن لیگ اور پیپلز پارٹی شوگر ملوں ، اسٹیل ملوں ، سرمایہ داروں یا پھر بڑے زمینداروں اور وڈیروں کے بل بوتے پر قائم ہیں اور ان کے بڑے بڑے لیڈران منی لانڈرنگ اور قبضہ مافیا کے الزامات کے جواب دینے سے قاصر ہیں جبکہ تحریک انصاف اے ٹی ایم مشینوں کے بغیر سانس نہیں لے سکتی اور ان اے ٹی ایم مشینوں کی معاشی طاقت شوگر ملیں ہیں یا متنازع زمینیں ہیں۔
اب سوال یہ ہے ایک عام آدمی کہاں جائے ؟ رائے شماری سے پہلے میڈیا اور سوشل میڈیا پر پڑے اس گھمسان کے رن میں مخالفین ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے اپنے کام گنوانے کی بجائے ایک دوسرے کے بیان سنارہے ہیں۔ شہباز شریف نے پنجاب میں بلا شبہ ریکارڈ کام کیے۔ اس بات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے کہ کاموں کی ترجیحات غریب عوام کو صحت تعلیم اور لاء اینڈ آرڈر کے مسائل میں ریلیف دینا ہونی چاہئے تھی مگر پنجاب میں ترجیحات انفراسٹرکچر سڑکیں اور پل تھے بسیں اور ٹرینیں تھیں۔ لیکن پنجاب میں ہونے والے کاموں سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف تحریک انصاف نے خیبر پختونخواہ میں عوامی منصوبوں مثلاً صحت ، تعلیم اور پولیس کے نظام کو بہتر بنانے پر کام کیا اس سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن مجموعی طور پر نہ غربت کم ہوئی نہ عوام کا استحصال ختم ہوا۔ غریب غریب سے غریب تر ہوا اور امیر امیر ترین۔ ظلم و زیادتی کا جو بازار جس طرح گزشتہ حکومتوں کے قائم ہونے سے پہلے گرم تھا سب کچھ بلکل ویسا ہے ۔ وجہ ہے تمام سیاسی جماعتوں میں غریب ورکر لیڈر نہیں بن سکتا اور غریب کی کوئی شنوائی نہیں ہے ۔ یہ حکومتیں امیر لوگ قائم کرتے ہیں امیروں کے لیے قائم کی جاتی ہیں اور امیروں کے لیے کام کرتی ہیں نتیجہ یہ ہے کہ عام متوسط طبقے یا غربت کے مارے شہریوں کا نظام سے دل کچھ یوں اچاٹ ہوا ہے کہ وہ رائے شماری کے دن اپنا ووٹ نہ ڈال کر اپنے جزبات کا اظہار کرتے ہیں۔
سردار جمال لغاری کو دیکھ لیں۔ جب سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کی ترنگ میں ایک لڑکے نے ہمت کرکے لغاری صاحب سے عوام کے حقوق کا تقاضا کیا اور پانچ سال ووٹ لے کر غائب ہونے کا شکوہ کیا تو حضرت آگ بگولا ہوگئے۔ ان کا ایک ایک جملہ غلام قوم کے ان سرداروں اور وڈیروں کی طرف سے جمہوریت کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ ہے ۔ فرماتے ہیں کہ ایک ووٹ پر اتنا ناز ہے اور وہ بھی جو تم اپنے سردار کو دیتے ہو۔ یعنی عوام میں پانچ سال نہ آنے ان کے مسائل حل نہ کرنے یا ان کا استحصال کرنے کی شرمندگی یا فکر کی بجائے غلام قوم کے سردار کا اپنی سرداری پر گھمنڈ دیکھیں اور اندازہ لگائیں جب سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نہیں تھا تو ان سردار نما بادشاہوں نے اپنے عوام پر کیسے کیسے ظلم ڈھائے ہوں گے۔ انھیں تعلیم سے دور رکھا صحت کی سہولتیں نہ ہونے پر انھیں رینگنے پر مجبور کیا ان بنیادی زیادتیوں کا تو شمار ہی کیا اور زکر ازکار ہی کیا۔
حل کیا ہے ؟ حل یہ ہے کہ ووٹ ایسے شخص کو دیجئے جو گزشتہ دہائیوں سے سیاست کو کاروبار بنائے ہوئے نہ ہو۔ جو عوام کے حقوق و فرائض پر یقین رکھتا ہو اور اس سب کو جاننے کا ایک آسان طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ اس شخص کی اولاد اور جائیداد پاکستان میں ہو تو اسے پاکستان کا درد اور عوام کی ہمدردی زیادہ ہونگی۔ پھر ووٹ دے کر اور منتخب کرکے اگرچے حق رائے دہی سے قائم ہونے والی حکومت کو کام کرنے کی آزادی ہونی چاہئے لیکن اگر ایک مخصوص عرصہ گزرنے پر عوام کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان کے حقوق پورے ہو رہے ہیں ان کے لیے کام ہورہا ہے یا پھر قائم ہونے والی حکومت پہلوں کی طرح کاروبار اور کھلواڑ میں لگی ہوئی ہے ۔
عوام کے ٹیکسوں کے پیسے عوام پر لگوائے جائیں اس کے لیے واچ ڈاگ کے طور پر میڈیا موجود ہے لیکن اگر عوام کو لگے کہ میڈیا پر عام آدمی کے مسائل سے زیادہ ظالم لٹیروں کو رستہ دینے کے لیے جمہوریت کا نام لے کر ظالموں کے ہاتھ مضبوط کیے جارہے ہیں تو پھر سوشل میڈیا پر آواز اٹھا کر اور شہری تنظیموں میں بھرپور حصہ لے کر حکومت کے تمام نمائندوں کو عوام کی امنگوں کے مطابق حکومت کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے ۔ غلام سوچ کی بدولت آنے والی کتنی نسلیں غلام رہتی ہیں اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے تھانہ کچہری کی بنیاد پر ، برادری کی بنیاد پر ، نسلی و لسانی تعصب کی بنیاد پر دیا جانے والا ووٹ حق رائے دہی کا ایسا استعمال ہے جس کے زریعے عوام خود کو اور اپنے آنے والی کئی نسلوں کے لیے غلامی خود پسند کرتے ہیں اور بعد میں پانچ سال آہ و فغاں کرتے ہیں۔ اس مرتبہ ووٹ انھیں دیں جو نظام بدلے ورنہ اپنی سوچ اور لیڈر دونوں بدل دیں
جسے تم ووٹ کہتے ہو نظامِ زر کی بستی میں
یہ رسمِ تاج پوشی ہے درندوں اور لٹیروں کی


ای پیپر