حکومت نے نواز شریف اور مریم نواز کی پی ٹی وی پر اربوں کی کوریج کا نوٹس لے لیا
02 جولائی 2018 (19:54) 2018-07-02


اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور انکی صاحبزادی مریم نوازکی سرکاری ٹی وی پی ٹی وی پر کوریج اور اشتہارات کی مد میں اربوں روپے کے اخراجات مسلم لیگ(ن) سے وصول کرنے کی سفارش کر دی۔


چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ مریم نواز اورنواز شریف نے پی ٹی وی کو تباہ کر دیا، پی ٹی وی نے مسلم لیگ(ن) اور نواز شریف کیلئے" مجھے کیوں نکالا"مہم کیوں چلائی؟ہم مفت میں کسی کے اشتہار کیوں چلائیں،یہ رقم ن لیگ یا مریم اورنگزیب سے وصول کی جائے، پی ٹی وی پر بی بی سی اور سی سی این کی طرح گرینڈ ڈیبیٹ کا آغاز کیا جائے،نگران وزیر اطلاعات علی ظفر نے کمیٹی سے گزارش کی کہ وہ ایسی پالیسیاں اور گاہیڈ لاین دیں کے ہم اور آئندہ آ نے والی حکومت بھی پی ٹی وی کے معاملات میں دخل نہ دیں۔


وفاقی سیکرٹری وزارت اطلاعات اور ایم ڈی پی ٹی وی احمد نواز سکھیرا نے کہا کہ پی ٹی وی کے بقایا جات پھر ایک ارب تک پہنچ چکے ہیں، ہم بہت کچھ کرناچاہتے ہیں لیکن ہمارے ہاتھ باندھ دیے جاتے ہیں۔کمیٹی رکن سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے انکشاف کیا کہ ایف ایم 101پربلوچستان کی آزادی کے گانے چلائے جا رہے ہیں لیکن کسی کو اس کی پرواہ نہیں۔پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کا اجلاس سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت ہوا۔


اجلاس میں سینیٹر انوار الحق کاکڑ،وزیر اطلاعات سید علی ظفر، سیکریٹری اطلاعات احمد نواز سکھیرا، ایڈیشنل سیکریٹری اطلاعات اور دیگر حکام نے شرکت کی ۔سیکرٹری اطلاعات احمد نواز سکھیرا نے کمیٹی کو بتایا کہ میرے پاس دو مختلف مدت کیلئے قائم مقام ایم ڈی کا چارج رہا ۔ پچھلے سال تین ماہ اور ابھی چھ ماہ سے چارج میرے پاس ہے۔ پی ٹی وی کے 90 لوگوں کو پنشن ادا کر دی گئی ہے۔پنشن کی مد میں 377 ملین کی ادائیگی کی گئی ہیں۔ میڈیکل اور دوسرے بل کی ادائیگی کی گئی ہیں۔ پی ٹی وی کے پروگرامز میں تمام سیاسی جماعتوں کو کوریج دی جا رہی ہے مسلسل بھاری بقایا جات کا سلسلہ چلتا آرہا ہے۔ایکٹنگ چارج کے دوران لاکھوں روپے واجبات ادا کئے۔بقایا جات ایک بارپھر ایک ارب تک پہنچ چکے ہیں۔ پی ٹی وی فنڈز کی کمی کا شکار ہے۔ پی ٹی وی سپورٹس بہت اعلیٰ چل رہا ہے، 11سپورٹس کے پروگرام شروع کیے ہیں۔ پی اے سی اجلاس میں ایک رکن نے پی ٹی وی پرائم ٹائم اینکرز کے نام پوچھے۔وہ ایک کے علاوہ کسی اینکر کو نہیں جانتے تھے۔میرے دور میں ٹاک شوز متوازن ہو گئے ہیں۔ہماری حکومت اور سیاستدانوں سے التجا ہے کہ ہمیں اس گرداب سے نکالا جائے۔


ای پیپر