فاٹا صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 2018 میں نہیں ہوسکتے : الیکشن کمیشن
02 جولائی 2018 (18:26) 2018-07-02


اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے فاٹا میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات الیکشن 2018 کے ساتھ کرانے کی درخواست مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹر ہدایت اللہ، بریگیڈیئر (ر)قیام اور عدنان خان کے نام پر جھوٹی درخواستیں دائر ہوئیں، جھوٹی درخواستیں دائر کرنے والوں کے خلاف درخواست گزار مقدمہ درج کرائیں اور ڈی جی لا بھی الیکشن کمیشن کی جانب سے شکایت درج کرائیں۔


چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے متحدہ قبائل پارٹی کی فاٹا میں بھی 25 جولائی کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرانے کی نظر ثانی درخواست پر سماعت کی۔تین درخواست گزاروں کی طرف سے بیرسٹر فروغ نسیم الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے اور اپنے دلائل میں مقف اپنایا کہ فاٹا میں صوبائی انتخابات سے متعلق حلقہ بندیوں کے لیے دو ماہ چاہئیں، عام انتخابات میں اگر تاخیر ہوتی ہے تو کوئی حرج نہیں ۔ الیکشن کمیشن نے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا جو کچھ دیر بعد سناتے ہوئے متحدہ قبائل پارٹی کی درخواست مسترد کردی۔


اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے جھوٹی درخواستوں پر بھی فیصلہ سنایا کہ سینیٹر ہدیت اللہ، بریگیڈیئر (ر)قیام اور عدنان خان کے نام پر جھوٹی درخواستیں دائر ہوئیں، جھوٹی درخواستیں دائر کرنے والوں کے خلاف درخواست گزار مقدمہ درج کرائیں اور ڈی جی لا بھی الیکشن کمیشن کی جانب سے شکایت درج کرائیں۔واضح رہے کہ متحدہ قبائل پارٹی نے عام انتخابات کے ساتھ فاٹا میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرانے کے لیے اسلام آباد میں بھی دھرنا دیا۔


ای پیپر