Extraordinary signals, planet, scientists, investigation, space alien
02 جنوری 2021 (09:18) 2021-01-02

نیویارک: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہیں ایک سیارے سے غیر معمولی سگنل موصول ہوئے ہیں جس نے انہیں خلائی مخلوق کی نشاندہی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ پراکسیما سینٹوری سیارے سے گزشتہ براز زمین تک پہنچنے والی لہروں کی نشاندہی آسٹریلیا کی ایک رصد گاہ میں کی گئی تھی۔

اس سیارے سے آنے والی لہروں کے حوالے سے معلومات کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا سگنل تھا جو ایک ہی مرتبہ منظر عام پر آیا اور اس کی فریکوینسی خلا میں موجود سیٹیلائٹس یا خلائی گاڑیوں سے یکسر مختلف تھی۔ لہروں کے اس عجیب اخراج کے باعث سائنسدانوں کی توجہ اس جانب مبذول ہو گئی ہے اور وہ غیر ارضی زندگی کا پتہ لگا رہے ہیں۔

اسرائیلی وزارت دفاع کی اسپیس سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے سابق سربراہ ڈاکٹر حائم اشاد نے خلائی مخلوق کی موجودگی کا دعویٰ کیا ہے۔

87 سالہ ڈاکٹر حائم اشاد تقریبا 30 سال تک اس ادارے کے سربراہ رہے ہیں اور انہیں اسی خدمات کے باعث 3 ایوارڈز بھی دیئے گئے ہیں جبکہ اس وقت وہ پروفیسر ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق حائم اشاد نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کئی سال سے کہکشانی فیڈریشن سے تعلق رکھنے والی خلائی مخلوق سے رابطے میں ہیں ، خلائی مخلوق کے ساتھ تعاون میں مریخ پر خفیہ اڈہ بنانا بھی شامل ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کو خلائی مخلوق کی موجودگی سے آگاہ کرنے والے تھے لیکن انہیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا ، ٹرمپ کو ایسا کرنے سے کہکشانی فیڈریشن نے روکا تاکہ دنیا میں ہسٹیریا نہ پھیلے۔

حائل اشاد کا دعویٰ ہے کہ خلائی مخلوق اب تک انتظار کر رہے تھے کہ انسان مزید ارتقائی مراحل طے کرکے ایک ایسے مرحلے تک پہنچ جائے جب وہ خلاء اور خلائی جہازوں کو سمجھ سکے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ خلائی مخلوقوں نے ان سے کہا کہ ابھی یہ بات عام نہ کریں انسانیت اس کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ خلائی مخلوق بھی انسانوں اور کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھانے کے لیے اتنی ہی بے قرار ہے جتنا انسان ہیں۔


ای پیپر