بلاول بھٹو نے ایم کیو ایم کو پیشکش کیوں کی؟
02 جنوری 2020 2020-01-03

متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) کو بلاول بھٹو زرداری کی سندھ حکومت میں شمولیت کی پیشکش اور اس پرمتحدہ کے ردعمل سے سیاسی ایوانوں میں ہلچل مچ گئی ہے،وزیراعظم عمران خان نے حکومتی رابطہ کمیٹی کو متحدہ کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کی ہے، حکومتی ٹیم رواں ہفتے ایم کیو ایم قیادت سے ملاقات کرنے والی ہے۔ گورنر سندھ نے بھی کراچی بحالی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا تھا جس میں شرکت کے لئے وفاقی وزیر اسد عمر اور علی زیدی خاص طور پر اسلام آباد سے کراچی پہنچے۔ لیکن کمیٹی کا اجلاس نہیں ہو سکا تو وہ گورنر سندھ سے ملاقات کر کے واپس چلے گئے۔ اب وزیراعظم عمران خان ان کی ہدایت پر جہانگیر ترین کی قیادت میں حکومتی ٹیم رواں ہفتے ایم کیو ایم قیادت سے ملے گی، ملاقات میں متحدہ کے تحفظات کا جائزہ لیا جائے گا اور ایم کیو ایم کے مطالبات،گمشدہ کارکنوں اور ترقیاتی فنڈز کے اجرا پر بھی بات ہوگی۔

ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان گزشتہ دو ماہ سے مذاکرات جاری تھے۔ پیپلزپارٹی سے اتحاد کے سوال پر ایم کیو ایم دو دھڑوں میں تقسیم ہے ۔ ایک گروپ کا خیال ہے کہ کراچی کو جو کچھ بھی مل سکتا ہے وہ صوبائی حکومت سے مل سکتا ہے۔ وفاقی حکومت سے اتحاد کی صورت میں بعض حکمت عملی کے حوالے سے فوائد مثلا گمشدہ کارکنوں کی بازیابی، بند دفاتر کی واپسی ، مقدمات میں رعایت وغیرہ مل سکتے ہیں۔جہاں تک ترقیاتی فنڈز کا تعلق ہے صوبائی حکومت کو شامل کئے بغیروہ براہ راست نہیں مل سکتے۔یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزیر اسد عمر نے کراچی میں گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سندھ کا لوکل گورنمنٹ سسٹم آئین کے خلاف ہے، حکومت کا مقامی حکومت کا نظام غیر فعال ہے، گرین لائن منصوبے کے لیے فنڈز مہیا کر دیے گئے ہیں۔ کراچی کے لیے پانی کے منصوبے کے فور میں تعاون کے لیے وفاق تیار ہے۔

چند روز پہلے صدر عارف علوی سے گورنر سندھ نے ملاقات کی تھی اور انہیں بتایا تھاکہ اگر ایم کیو ایم کے مطالبات نہیں مانے جاتے تو وہ وفاقی حکومت سے الگ ہو سکتی ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کا اتحادغیر فطری ہے۔ پی ٹی آئی کو ایم کیو ایم کی ہی نشستوں پر جتوا کر اتحاد میں ساتھ بٹھا دیا۔اب جتنی پی ٹی آئی کراچی میں مضبوط ہوتی ہے عملاً ایم کیو ایم اتنی ہی کمزور ہوتی ہے۔ اب جیسا کہ بلدیاتی انتخابات کا بھی اعلان ہونے والا ہے، ایسے میں ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کا اتحاد ایک اور امتحان میں سے گزرنے والا ہے ۔ ایم کیو ایم کو کتنی نشستیں ملتی

ہیں وہ الگ سوال ہے ، لیکن خود ایم کیو ایم کے کارکنان اور صفوں میں موجود کئی افراد بھی ان سے سوالات کریں گے کہ پی ٹی آئی سے وفاق میں اتحاد کر کے کیا پایا؟ کراچی کو اور خود پارٹی کو کیا ملا؟

ایم کیو ایم کہتی ہے کہ وہی کرے گی جو قوم کے مفاد میں ہو گا۔ اگر ایم کیوایم پیپلزپارٹی کا ساتھ دے تو یہ سندھ کے مفاد میں ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے اتحادی ان سے مایوس ہو رہے ہیں، وفاق سے امیدیں ٹوٹ رہی ہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ کے مسائل وزارتوں سے نہیں، بلدیاتی نظام صحیح کرنے سے حل ہوں گے۔پیپلز پارٹی بلدیاتی نظام کی سمت ٹھیک کرے تو ہاتھ ملانے کو تیار ہیں۔خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ ہم سندھ حکومت سے مایوس ہو کر وفاقی حکومت میں شامل ہوئے تھے نہ کہ کسی کے کہنے پر شامل ہوئے۔ پیپلز پارٹی فارمولہ دے وزارتیں نہیں، وفاقی حکومت نے وعدے پورے نہیں کیے۔خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ ہم پی ٹی آئی کے مشروط اتحادی ہیں۔ اب پیپلزپارٹی نے براہ راست ایم کیو ایم سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بظاہر یہ بھی آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ بلدیات کا نیا قانون بھی دینے کے لئے تیار ہے۔

ایک طرف پی ٹی آئی ایم کیو ایم کو منانا چاہ رہی ہے دوسری طرف اس کو کراچی میں کوئی سپیس دینے کے لئے تیار نہیں۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ وفاق کی جانب سے منصوبوں کے جائزے کے لیے مجھے فوکل پرسن نامزد کیا گیا۔

یہ درست ہے کہ پیپلزپارٹی کی ایم کیو ایم سے بات چیت چل رہی ہے، پیپلزپارٹی ایم کیو ایم کو اپنے ساتھ لینا چاہتی ہے ، یا حکومت میں بٹھانا چاہتی ہے ، ابھی کچھ طے نہیں ہواتوبلاول بھٹو نے میڈیا میں بات کیوں کی؟ چار ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اول یہ کہ بات چیت ٹوٹ چکی ہو، تو اب بلاول بھٹو اس معاملے کو ظاہر کر رہے ہیں۔ دوسرا یہ کہ خود ایم کیو ایم کی فرمائش پر کیا گیا ہو، ممکن ہے کہ ایم کیو ایم کو اپنی صفوں میں کچھ مشکلات درپیش ہوں، جس کو دور کرنے کے لئے پیپلزپارٹی کی جانب سے کھلی پیشکش کا آنا ضروری سمجھا گیا ہو۔ تیسرے یہ کہ یہ بیان خود عمران خان حکومت پر دبائو ڈالنے کے لئے دیا گیا ہو کہ وہ کتنی کمزور ہے۔ بلاول بھٹو کے بیان میںایک اہم نکتہ بھی شامل ہے جس سے اس پیشکش کی وضاحت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے دوسری جماعتوں کا نام لئے بغیر کہا کہ وہ جماعتیں جنہوں نے ماضی میں پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد میں کام کیا ہے ، خان کی حکومت کا ساتھ چھوڑددیں۔ اس سے مراد قاف لیگ اور فنکشنل لیگ ہے کیونکہ انہوں نے پہلے بھی پیپلزپارٹی کے ساتھ کام کیا ہے۔

ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ ایم کیو ایم ہو یا قاف لیگ کوئی بھی تب تک ساتھ نہیں چھوڑے گا جب تک انہیں کوئی بڑی طاقت نہیں کہے گی تب تک کوئی فیصلہ نہیں کریں گی۔ پھر یہ اشارہ خان کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا سمجھا جائے؟ اب لگتا ہے کہ ان ہائوس تبدیلی ہی آنی ہے اپوزیشن نئے انتخابات سے دستبردار ہو گئی ہے۔ کیا اب مائنس عمران خان فارمولہ اختیار کیا جارہا ہے ؟

آرمی چیف کی تقرری اور اس کی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت نے قانون سازی کے لئے سیاسی طور پر متحرک ہونے کے بجائے نظرثانی کی درخواست کر دی۔ اب یہ عدالت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس اپیل کا فیصلہ کب کرتی ہے۔ معاملہ حاضر سروس آرمی چیف کا ہے ہم ریٹائرڈ آرمی چیف مشرف کے معاملے میں ادارے کا ردعمل دیکھ چکے ہیں۔ اگرچہ دونوں کیسز کی نوعیت مختلف ہے۔پارلیمنٹ سے ملازمت کی مدت میں توسیع لینا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ تاہم بدھ کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آرمی چیف اور سروسز چیفس کو توسیع کے حوالے سے بھی بل منظور کر لیا جسے اب پارلیمنٹ میں پیش کر کے اس کی منظوری لی جائے گی۔ مسلم لیگ ن نے اس کی غیرمشروط حمایت کر دی ہے۔


ای پیپر