اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے؟
02 جنوری 2020 2020-01-03

نئے عیسوی سال 2020 ء کا آغاز ہوگیا ہے۔ نئے سال کے آغاز پر طرف جشن منائے جارہے ہیں۔ ٹی وی کے چینل ان تقریبات کی جھلکیاں دکھا رہے ہیں ۔ مگر ہمارے سیاسی منظر نامے میں گزشتہ سال کا آخری مہینہ اور خاص کر آخری عشرہ ہنگامہ خیز رہا ہے۔ حکومت اور اداروں کی نااہلیوں نے سرد ترین موسم میں بھی سیاسی میدان کو گرمائے رکھا۔ نیب قوانین کا ترمیمی آرڈیننس صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے جاری کردیا گیا ہے۔ ترمیم سے کاروباری حضرات کو نیب کی دسترس سے بچا لیا گیا ہے اور ساتھ ہی سرکاری ملازمین کو بھی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔اس آرڈیننس کے مطابق نیب محکمانہ نقائص پر نیب سرکاری ملازمین کے خلاف کاروائی نہیں کرسکے گا۔صرف ان کے خلاف کاروائی ہوگی جو ان نقائص سے کسی قسم کا فائدہ اٹھائیں گے۔ آرڈیننس کے نفاذسے ٹیکس، اسٹاک ایکسچینج، آئی پی اوز نیب کے دائرہ کار سے باہر ہونگے۔ پچاس کروڑ روپے کی کرپشن کو تحفظ دے کر نیب کو پچاس کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن اور اسکینڈل پر کاروائی کا حق دیا گیا ہے۔ یعنی اب نیب کا صرف سیاستدانوں پر ہی مکمل گرفت کرسکے گا۔ سوال یہ ہے کہ جب پانامہ لیکس سے جن چار سو سے زائد شخصیات کی آف شور کمپنیوں اور بیرون ملک جائیدادوں کا انکشاف ہوا تو اس میں ایک بڑی تعداد کاروباری افراد کی تھی ان کے خلاف کیا کاروائی ہوئی ؟۔ حسین نواز اور حسن نواز کا نام بھی بطور بزنس مین کے آیاتھا جس میں ان کے والد اور وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو بھی دھر لیا گیا۔ جنھیں مختلف حربوں سے اقتدار سے الگ کرنے کی اس سے پہلے کی تمام سازشیں ناکام ہوچکی تھیں۔جس کی تصدیق معروف بین الاقوامی سیاسی اور اسٹرٹیجک تجزیہ نگار شجاع نواز کی تازہ تصنیف The Battle For Pakistan بھی کرتی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ پانامہ میں ظاہر ہونے والی کاروباری افراد کی یہ دولت ٹیکس چوری، ذخیرہ اندوزی اور ان چالاکیوں کا نتیجہ تھی جو ٹیکس قوانین میں موجود بے شمار کمزریوں اور سقم کے سبب بیرون ملک منتقل ہوئی۔ یعنی بہ قول اقبالؔ وہی معاملہ ہوا کہ :

مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار

جو لوگ کارپوریٹ سیکٹر سے وابستہ ہیں یا رہے ہیں وہ سیٹھوں کے حیلوں سے یقینا واقف ہونگے اور سب سے زیادہ ایف بی آر کے موجودہ چیئرمین شبر زیدی۔ حکومت کے اس اقدام نے سرمائے کو تحفظ اور تقویت

دینے کے ساتھ ساتھ محنت کے استحصال کے لئے بھی کھلا میدان دے دیا دیا ہے۔ حکومت سرمائے اور کاروبار کے فروغ کے لیے فکر مند ہے تو صنعتوں میں لیبر قوانین کو بین الاقوامی معیار کے مطابق نافذ کرے۔ ملک میں محنت کشوں کو سہولیات دینے کی بجائے حکومت ایسے ملک میں جہاں کی 80 فیصد دیہی آبادی غربت کا شکار ہو وہاں چند شہروں میں گنتی کے لنگر خانے اور پناہ گاہیں کھول کر کیا اپنے فرض سے سبکدوش ہوجائے گی ؟ اور ان لنگر خانوں اور پناہ گاہوں سے سماجی اور معاشی طور پر معاشرے میں کیا تبدیلی واقع ہوگی؟ بہرحال کاروباری افراد کو نیا سال ’’مبارک‘‘ ہو۔

مگر عوام کے لیے سال کے پہلے دن ہی حکومت نے پیٹرول، ڈیزل ،ایل پی جی گیس سلینڈکی قیمتوں میں اضافہ کرکے انھیں یہ بتا دیا ہے کہ ’’ساڈے تے نہ رہنا‘‘ اور عوام کو بھی نیا سال ’’مبارک‘‘ ہو۔ کراچی میں بھی کے الیکٹرک نے بجلی کی قیمت میں چار روپے نوے پیسے فی یونٹ بجلی کے اضافے کی خبر کا بم گرادیا ہے۔ ہماری حکومتوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ ٹیکس وصولی کے اہدف کے حصول میں ناکامی کی صورت میں پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرکے اپنے اخراجات پورے کرتی چلی آرہی ہیں اور موجودہ حکومت کا تو دعویٰ تھا کہ وہ ملک میں ٹیکس وصولی کی شرح میں اضافہ کرے گی اور حال یہ ہے کہ مالی سال 2018-19 کے لیے ٹیکس گوشواروں کی تاریخ کو 31 دسمبر سے بڑھا کر 31 جنوری 2020 ء کردیا گیا ہے۔ ایک طرف کاروباری طبقے کو نیب سے بچانے کے لیے یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ ایف بی آر اور ایس ای سی پی کاروباری سرگرمیوں پر نظر رکھیں گے۔ جب کہ حقیقت حال یہ ہے کہ ٹیکس وصولی کے اہداف میں ناکامی اور پانامہ اسکینڈل نے مذکورہ اداروں کی موجودہ اور سابقہ صلاحیتوں کھول کر رکھ دیا ہے۔

حکومتی اقدامات پہ یاد آیا کہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم اور بر بریت کے خلاف حکومت نے ہر جمعے کو جو اچھل کود کشمیر کے مظلوم شہریوں کو ظلم سے نجات دلانے کے لیے شروع کی تھی وہ ایک عرصے سے نظر نہیں آرہی ہے۔ لہذا کشمیر کے مظلوم عوام کو بھی تحریک انصاف کی جانب سے نئے سال کا ’’تحفہ مبارک‘‘ ہو۔

حکومت چاہے کسی جماعت کی بھی ہو قومی وسائل پر قابض جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں کا تسلط جب تک نہیں ٹوٹے گا اس وقت تک یہ ممکن نہیں کہ قومی وسائل کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں۔ ’بقول محمود مرزا صاحب

مرحوم کہ منصفانہ معیشت قائم کرنے کے لیے سیاسی نظام میں نئی جمہوری روح پھونکنے کی ضرورت ہے، موجودہ نظریات اور قواعد پر رائج جمہوری نظام بے انصافی اور عدم استحکام کا باعث رہے گا اور عوام کی اکثریت کو غربت کے چنگل سے نجات نہ ملے گی‘‘ خدا کرے کہ نیا سال معاشی اور سماجی انصاف کی قیام کے لیے سود مند ثابت ہو ورنہ تو فیضؔ لدھیانوی کی زباں میں ہم بھی نئے سال سے پوچھ سکتے ہیں کہ :

اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے

ہر طرف خَلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے

آسمان بدلا ہے نہ بدلی ہے زمیں

ایک ہندسے کا بدلنا کوئی جدت تو نہیں

اگلے برسوں کی طرح ہونگے قرینے تیرے

کسے معلوم نہیں بارہ مہینے تیرے

تیرا مَن دہر میں کچھ کھوئے گا کچھ پائے گا

اپنی معیاد بسر کرکے چلا جائے گا

تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی شام نئی

ورنہ اِن آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی


ای پیپر