مو دی کا بڑ ھتا ہو ا ظلم اور نظر آ تا انجا م
02 جنوری 2020 2020-01-02

بھارت میں جب سے شہریت قانون بل پیش ہوا ہے ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں اور مسلمانوں کی بڑی تعداد بھارتی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر آگئی ہے۔ بھارتی حکومت اس احتجاج کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج، گرفتاریوں سمیت تمام منفی ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے لیکن ان مظاہروں میں کسی صورت بھی کمی نہیں آرہی بلکہ روزبروز ان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ مودی حکومت کے خلاف نفرت اس قدر زیادہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ سکھ اور دوسرے مذاہب کے لوگ بھی مظاہروں میں شریک ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے مو دی حکو مت پہ د با ئو مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ صو رتِ حا ل تو کچھ یو ں ہے کہ اس وقت بھارت دو سوچوں میں تقسیم دکھائی دے رہا ہے۔ وہاں ایک طرف سیکولرازم اور دوسری طرف ہندوتوا سوچ ہے۔ بھارت کی کوئی ایسی ریاست نہیں جہاں احتجاجی ریلی نہ نکلی ہو۔ پورے بھارت میں احتجاج کی کیفیت ہے تاہم عین ممکن ہے اس سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت فالس فلیگ آپریشن کرے۔سوا ل پیدا ہو تا ہے کہ کیا نر یندر مو دی پورے بھارت پر کرفیو نا فذ کر سکتے ہیں؟ بھا رت کا عالمی طور پر تشخص متاثر ہوا ہے۔ جو ماضی میں بھارت سے تعاون کیا کرتے تھے، آج کنارہ کش ہیں۔ عالمی میڈیا بھی بھارت پر تنقید کر رہا ہے۔ اطمنا ن بخش امر یہ ہے کہ حکو متِ پا کستا ن نے علا قا ئی صو ر تِ احوا ل کے حو ا لے سے بھا رت پہ نظر ر کھی ہو ئی ہے۔ چنا نچہ پا کستا ن کے وز یرِ خا ر جہ نے سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات کی اور کہا کہ او آئی سی میں کشمیر اور مسلمانوں پر ظلم کے حوالے سے بات کرنی چاہیے۔ اوآئی سی نے یقین دلایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر موثر آواز اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے جو اقدامات اٹھائے پاکستان ذہنی طور پر ان کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار نہیں۔ خبر وں کے مطابق ایل او سی پر پانچ جگہ باڑ کو کاٹا گیا ہے۔ ایک او سط ذ ہن کا شخص بھی یہ سو چ سکتا ہے کہ آ خر کا ر سرحد پر براہموس اور دیگرمیزائل نصب کرنے کا مقصد کیا ہے؟ لہذا ہما ری وز ا رتِ خا ر جہ نے بھارت کی سرگرمیوں پر اقوام متحدہ کو خط لکھا ہے۔ توقع

ہے کہ ملٹری آبزرورز سلامتی کونسل کو بریفنگ دیں گے۔ ۔ ادھر کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ اور گولہ باری کی گئی جس سے ایک شہری زخمی ہوگیا۔

لیکن مودی حکومت تمام تر صورتحال کو اپنے خلاف جاتا ہوا دیکھ کر بھی اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہے اور کسی بھی صورت شہریت قانون بل واپس لینے پر آمادہ نہیں۔ اب مودی حکومت نے اپنے تئیں لوگوں کی توجہ مظاہروں سے ہٹانے کے لیے پاکستان کے ساتھ جنگی ماحول پیدا کرنے کی گھنائونی چال چلی ہے۔ گزشتہ کئی روز سے ایسی اطلاعات آرہی ہیں کہ بھارت نے پاکستانی سرحد کے ساتھ میزائل نصب کردیئے ہیں اور کنٹرول لائن پر فائرنگ کے سلسلے میں بھی اضافہ کردیا ہے۔ چند روز پیشتر وزیراعظم عمران خان نے بھارت کے اس جارحانہ رویے پر اسے خبردار کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کہا تھا کہ پاکستان ہر صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ پوری قوم اور پاک افواج دشمن کے مذموم عزائم ناکارہ بنانے کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر وطن کے چپے چپے کا دفاع کرے گی۔ چند روز پیشتر بھی دیوا سیکٹر پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے دو پاکستانی فوجی شہید ہوگئے تھے جس کے جواب میں پاکستانی فوج نے تین بھارتی فوجیوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کردیا تھا۔ کنٹرول لائن کو پُرامن رکھنے کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی بار فلیگ میٹنگز ہوچکی ہیں جس میں یہ یقین دہائی کرائی جاتی رہی کہ بھارت اب سرحدی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ نہیں کرے گا اور امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا۔ لیکن اس نے کبھی اس پر عمل درآمد نہیں کیا اور سرحد پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا۔ بھارت میں جس شدت کے مظاہرے ہورہے ہی مودی حکومت کا کوئی بھی حربہ اسے دبانے میں کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اگر اس نے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کی سرحد پر دبائو بڑھایا تو اس کا یہ ہتھکنڈہ بھی کامیاب نہیں ہوگا۔

کشمیر کا مسئلہ ، جسے بھا رت ایک وا دی کا مسئلہ بھی تسلیم کر نے کو نہیں تھا، اس کی سنگین غلطیو ں کی بناء پر اب عا لمی مسئلہ بن چکا ہے۔ اسے کہتے ہیں قد رت کا انتقا م!مسئلہ کشمیر پر دنیا کی کو ئی حکو مت ایسی نہیں جو خا مو ش رہ پا ئی ہو۔ اور پھر تما م تر عا لمی میڈ یا بھی اپنی خا مو شی تو ڑ نے پہ مجبو ر ہو چکا ہے۔ نہ کو ئی ایسا ٹی وی چینل ہے اور نہ ہی کوئی جریدہ ایسا ہے جہاں کشمیر پر بات نہ ہوئی ہو۔ تا ہم حقیقت تو یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر پابندی کے باعث بھارت کا اصلی چہرہ سامنے نہیں آسکا۔جبکہ مقبوضہ کشمیر کا کوئی لیڈر ایسا نہیں جو بھارت کی تائید کررہا ہو۔ آ زا دی کے بعد سے اب تک کو ئی بھی حکو مت بھا رت میں ا یسی نہیں آ ئی جس نے کشمیریو ں پہ مظا لم ڈھا نے کے سلسلے میں اپنا حصہ نہ ڈ الا ہو، مگر حا لیہ مو دی حکو مت نے تو بر بر یت کی انتہا کر دی ہے۔ یہ اب کشمیر یو ں ہی کا وہ خو نِ نا حق ہے جو ر نگ دکھا رہا ہے۔

تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا

آج وہ کوچہ و بازار میں آ نکلا ہے

جی ہا ں مو دی سرکا ر، آ پ کیا سمجھ بیٹھے تھے کہ آ پ پہلے بھا رتی گجر ا ت میں، پھر مقبو ضہ کشمیر میںاور اب پور ے بھارت میں مسلما نو ں کا خو ن بہا تے رہیں گے او ر قد رت خا مو ش رہیگی؟ آ پ نے جن دنیا ئوی طا قتوں پہ تکیہ کیا تھا اب وہ کیا آ پ کے پیچھے سے سر کتی نہیں جا رہیں؟ بیر ونی میڈ یا کی بات تو ایک طر ف رہی اب تو آ پ کا اپنا بھا رتی میڈ یا آ پ سے جوا بات طلب کر رہا ہے۔ اس کے سا تھ ساتھ اقوا مِ متحد ہ اور عا لمی طا قتو ں سے یہ کہنا مقصو د ہے کہ بھارت نے 5؍اگست کو کشمیر کی آواز دبانے کی کوشش کی۔ اب آ پ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مودی حکومت کے داخلی اور خارجی ہر دو محاذ پر رویوں کا نوٹس لیں اور اسے مجبور کریں کہ وہ خطے کی صورت حال کو کسی بھی صورت بگاڑنے سے باز رہے۔بھا رت کے لیئے اپنی ا ند رونی طو ر پر بگڑ تی ہو ئی صو رتِ حا ل کا رْخ پا کستا ن کی طر ف مو ڑ نا ایک بچگا نہ حر کت ہو گی۔ ایسا کر نے سے پہلے مو دی سر کا ر کے لیئے بہتر ہو گا کہ ایک مر تبہ پیچھے مو ڑ کر کولکتہ اور دہلی سمیت اپنے بڑ ے شہر و ں کی جا نب پلٹ کر دیکھ لے جہا ں شد ید تر ین سر دی کے با وجو عوا م سڑ کو ں پر نکل کر سرا پا احتجا ج بنے ہو ئے ہیں۔


ای پیپر