بھارتی مظالم کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبا نہ سکے
02 جنوری 2020 2020-01-02

یوں تو مقبوضہ کشمیر کے باسی سال ہا سال سے ہندوؤں کے تسلط سے آزادہونے کی جدوجہد کرتے چلے آئے ہیں مگر جواب میں انہیں ہمیشہ گولیاں، ظلم و تشدد، خواتین و بچوں کی بے حرمتی ، گرفتاریاں اور جیلیں ہی بھگتنی پڑی ہیں۔ بھارت میں چاہے جس پارٹی کی بھی حکومت ہو، اس نے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔

موجودہ مودی حکومت نے تو کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ 2019 مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لیے اس لئے بھی اہم بلکہ غیر معمولی سال ثابت ہوا کہ 5 اگست کو بھارتی حکومت نے ایک غیر معمولی لیکن متنازع فیصلے کے تحت مقبوضہ کشمیر کی نیم آئینی خود مختاری کو ختم کیا اور اس کے ساتھ ہی ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر کے براہِ راست نئی دہلی کے کنٹرول والے علاقے بنا دیا اس اقدام سے نہ صرف کشمیر کے اندر سیاسی ہلچل مچ گئی بلکہ پاک بھارت تعلقات میں نئی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔بین الاقوامی سطح پر بھی نئی دہلی کو اس اقدام کا دفاع کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے ۔کشمیر میں تقریباً پانچ ماہ سے عائد پابندیوں اور ہڑتالوں کی وجہ سے اس کی اقتصادیات پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے گویا کشمیریوں کی شناخت ہی چھین لی۔ آج پانچ ماہ ہونے کو آئے مگر ابھی بھی وادی میں کرفیو بدستور جاری ہے۔ بھارتی فورسز نہتے کشمیریوں کی زندگیوں سے کھیل رہی ہیں۔کشمیری کرفیو میںذرائع ابلاغ پر پابندیوں اور فون اور انٹرنیٹ جیسی سہولیات سے محروم پوری دنیا سے کٹ کر بھارتی جبر میں زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔دفعہ 370 کی منسوخی اور جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی ریاست میں گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔قابض حکومت نے کئی طرح کی بندشیں اور قدغنیں

عائد کرکے سیاسی سرگرمیوں کو مسدود کر دیا اور عوامی مزاحمت کا توڑ کرنے کے لیے کئی سخت گیر اقدامات اٹھائے۔

مقبوضہ کشمیر میں 2019میں تشدد کے 139واقعات پیش آئے۔ ان واقعات میں عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان تصادم، عام شہریوں کی ہلاکتیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ 2019میں 50 عام شہری ہلاک ہوئے۔ 152حریت پسند کشمیری سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ مختلف جھڑپوں اور تصادم میںشہید ہوئے جبکہ ہلاک شدہ سیکورٹی اہلکاروں کی تعداد 80 رہی۔ ایک سال کے دوران حریت کارکنوں ، طلبا ، نو عمر لڑکوں اور خواتین سمیت 11802افراد کو گرفتار کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں شہید ہونے والے تمام حریت پسند مقامی ہیں۔جس سے بھارت کے اس پروپیگنڈہ کی نفی ہوتی ہے کہ کشمیر کی تحریک مقامی لوگوں کی تحریک نہیں ہے۔مقبوضہ کشمیر میں شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ میں سے 11 خواتین بیوہ اور 28 بچے یتیم ہوئے۔تقریباً 55 خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ بھارتی فورسز نے گزشتہ سال 228 رہائشی مکانات کو جزوی یا کلی طور پرنقصان پہنچایا۔پیلٹ گنز کی فائرنگ سے 790 افراد زخمی ہوگئے۔ ان میں تقریباًڈیڑھ سو افراد کی مہلک چھروں سے بینائی متاثر ہوئی۔

مئی2019 کا مہینہ بھی خون آشام ثابت ہوا۔ اس ماہ میں سب سے زیادہ کشمیری حریت پسند شہید کئے گئے۔ مئی میں شہید عسکریت پسندوں کی تعداد 28 رہی ۔عام شہریوں کی ہلاکت کی تعداد 50 رہی جس میں اکتوبر کے مہینے میں 15 شہری ہلاک ہوئے۔ ان ہلاک شدہ شہریوں میں غیر مقامی افراد بھی شامل تھے، جن کی تعداد 11 رہی۔ یہ ہلاک شدہ افراد ٹرک ڈرائیور، میوہ بیوپاری اور مزدور تھے جو سیب کی کاشتکاری کے سیزن میں مارے گئے۔ 5 اگست کے بعد وادی کشمیر میں 18 عسکریت پسند شہید کئے گئے، جن میں 11 عسکریت پسندوں کی ہلاکت پوسٹ پیڈ موبائل فون کی بحالی کے بعد ہوئی۔گزشتہ سال حریت پسندوں کے اعلی سطحی کمانڈروں کی شہادت بھی ہوئی جس میں ذاکر موسی اور ایوب للہاری شامل ہیں۔ ذاکر موسی کو سیکورٹی فورسز نے اونتی پورہ علاقے میں ایک تصادم کے دوران شہید کیا تھا۔ان کے علاوہ نوید جٹ بھی شامل ہیں جن کی شہادت ضلع بڈگام میں ہوئی۔

بھارتی مظالم کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبا نہ سکے بلکہ حیریت انگیز امر ہے کہ جوں جوں ان مظالم میں اضافہ ہوتا چلا گیا کشمیریوں کا جذبہ آزادی اتنا ہی پروان چڑھتا چلا گیا۔ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے ہر حربہ آزما لیا مگر اس میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ پورے مقبوضہ کشمیر میں جا بجا بے گناہ کشمیریوں کے قبرستان دکھائی دیتے ہیں مگر لاکھوں قربانیاں دینے کے باوجود کشمیری آج بھی اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب بھارتی فوجی بے گناہ کشمیریوں پر طاقت کا وحشیانہ استعمال اور نوجوانوں کو گرفتار کر کے شہید نہ کرتی ہو۔ موجودہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا مستقل حصہ بنانے اور کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لئے ہر حربہ آزما رہی ہے۔

کشمیر ایوانِ تجارت و صنعت کا کہنا ہے کہ غیر یقینی اور مخدوش صورت حال نے مقبوضہ کشمیر کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کردیا ہے۔ کشمیر ایوانِ تجارت و صنعت کے صدر شیخ عاشق اسے معیشت کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ 2019 تاجر برادری کے لیے بدترین سال ثابت ہوا۔ چار ماہ کے عرصے کے دوران صرف وادی کشمیر کے دس اضلاع میں معیشت کو تقریباً 18 ہزار کروڑ روپے کا خسارہ اٹھانا پڑا ہے۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک صورت حال ہے۔ اگر بین الاقوامی برادری کشمیر پر مداخلت نہیں کرتی ہے تو وہ کشمیری عوام کے ساتھ ایک دھوکہ ہو گا۔ اگر کسی ملک کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے تو اسے اس ملک کا اندورنی معاملہ قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ یہ بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ اسے ایسا کرنے سے روکے۔


ای پیپر