سردی اور گرمی
02 جنوری 2020 (16:26) 2020-01-02

ان دنوںارض پاک بلکہ پورے شمالی برصغیر پر شدید سردی کا اتنا غلبہ ہے کہ بڑوں بڑوں کا کہنا ہے ایسی سردی دیکھی تھی نہ سنی… لاہور کا درجہ حرارت 2 سینٹی گریڈ تک اس سے قبل کب ہوا ہو گا… یہ بات ریکارڈ پرتو موجود ہو گی… کسی کے حافظے میں کم پائی جاتی ہے… آج سے تقریباً 100 برس پہلے اسماعیل میرٹھی نے سرد موسم کی شاید ایسی کیفیت کو محسوس کر کے زبان زدِ عام شعر کہا تھا:

سردی اب کے پڑی ہے اتنی شدید

صبح نکلے ہے کانپتا خورشید

پرانے بزرگ کہا کرتے تھے غریب کی جوانی اور سردیوں کی چاندنی کسی نے نہیں دیکھی… اس برس تو یہ کیفیت ہے انتہا درجے کی ٹھنڈک کے عالم میں سوائے عبادت گزار لوگوں کے سورج طلوع ہوتا کوئی نہ دیکھ پاتا ہو گا… صاحب ہم نے تو اس مرتبہ سالِ نو کے خورشید کو اخبارات کے صفحات پر ہی طلوع ہوتے دیکھا… وہ بھی یقین سے نہیںکہا جا سکتا ہمارے نیوز پیجز والوںنے پچھلے برس کی تصویر لگا دی ہو… اس سال کیفیت یہ ہے تین تین گرم اور بھاری کپڑے زیب تن کر کے گھر سے باہر نکلئے تو کپکپی طاری ہو جاتی ہے… میرے ایک بزرگ دوست مرحوم سرشار علی ہوا کرتے تھے (مختار مسعود کے عم زاد اور سابق وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی شیخ امتیاز علی کے بڑے بھائی) وہ علی گڑھ کے تعلیم یافتہ تھے کہا کرتے تھے یو پی میں رضائیاں یا لحاف پنجاب کے مقابلے میں پتلے ہوتے ہیں لہٰذا یونیورسٹی ہوسٹل میں مقیم یو پی کے شہروں سے تعلق رکھنے والے طلباء صبح اٹھتے ہی بول پڑا کرتے تھے آج شب تو دو لحاف کا پالا تھا… ہم پنجاب والوں کے گھروں سے لائی گئی رضائیاں موٹی اور بھاری ہوتی تھیں چنانچہ ہم مسکرا کر رہ جاتے تھے… لیکن اس سال تو کیفیت یہ ہے پنجاب میںبھی سوتے وقت دو رضائیاں اوڑھنی پڑتی ہیں اور رات گئے ان کے اوپر کمبل اوڑھے بغیر گزارا نہیں ہوتا… مجھے جوانی کے دنوں میں سردی سے محبت ہوا کرتی تھی… میں اکثر کہتا تھا کہ گرمی کے مہینے اس امید پر گزار رہا ہوں کہ ان کے بعد سردی کا موسم آئے گا لیکن ابکہ تو حد ہو گئی ہے ، شاید عمر کا تقاضا ہے… مگر میں نے جوانوں کو بھی اس ٹھنڈک میں برے حال میں دیکھاہے… یورپی ممالک میں ظاہر ہے سردی ہر برس ہمارے مقابلے میں بہت شدید ہوتی ہے… مجھے دسمبر 1991ء میں جبکہ سوویت سپر طاقت ٹوٹ رہی تھی ایک صحافی کی حیثیت سے اس تاریخی مرحلے کا براہ راست مشاہدہ کرنے اور اس کے اسباب و علّل کا جائزہ لینے کا موقع ملا… بعد میں اس موضوع پر میری ایک کتاب ’’سوویت یونین کا زوال‘‘ اسلام آباد کے ایک تحقیقی ادارے نے شائع کی… 12 دسمبر 1991ء کو جس روز 20 صدی کے نصف آخر کی اس دوسری سپر طاقت کے باقی نہ رہنے کا اعلان ہوا… اسی دن میں ماسکو کے ہوائی اڈے پر اترا … سردی کا یہ عالم تھا سہ پہر کے وقت منفی 18 اور جب رات کے سائے گہرے ہونے شروع ہو گئے تو 24 سے 25 تک پہنچ جاتی… گلیاں اور سڑکیں برفباری سے اٹی پڑی تھیں… میں نے مرحوم دوست مختار احمد کے مشورے پر وہاں کے موسم کا مقابلہ کرنے کے لئے خصوصی لباس اور جوتے حاصل کئے تھے… جن میں سروں کو خاص طور پر محفوظ رکھنے والی ٹوپی، دو قسم کے وزنی اوورکوٹ ، انتہائی گرم پاجامے اور برف میں چلنے والے بوٹ سب کچھ شامل تھا… اس کے باوجود سردی تھی کہ ناقابل برداشت حدوں کو چھو رہی تھی… البتہ ہوٹل یا کسی مکان کے کمرے میںچلے جائیں تو ہر جگہ پر عمارت کو گرم رکھنے کا زیادہ تر پانی کے پائپوں کے ذریعے انتظام تھا… تاہم ہم جیسے گرم علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں کے لئے گھروں اور عمارتوں کی چا ردیواری کے اندر بھی کم درجے کی سردی محسوس نہ ہوتی تھی… اور موسم کی ناپائیداری کا یہ عالم تھا آپ کھڑکی کے باہر سے دیکھتے ہیں برف باری بند ہو چکی ہے ، باہر نکلنے کا ارادہ کرتے ہیں کہ یکدم روئی کے سفید گولوں کی مانند برف آپ پر گرنی شروع ہو جاتی ہے… اس حالت میں بھی ماسکو کے مقامی باشندوں کے لئے زندگی کے معمولات میں کوئی فرق نہ پڑتا تھا… روسی خواتین اوورکوٹ پہنے ، گلے پر مفلر لپیٹے ، سروں پر ٹوپی رکھ کر ایک ہاتھ میں کونز ، آئس کریم دوسرے میں پرس ، تیزرفتاری سے کاموں پر آتی اور جاتی تھیں… انہیں اپنی مشاقی کی وجہ سے برف پر پھسلنے کا زیادہ خوف نہیںہتا تھا … جبکہ ہم سیاحوں کو خاص طور پر ہدایت کی جاتی تھی چلتے وقت

انتہائی احتیاط سے کام لیں ورنہ پھسل گئے تو وہ چوٹ لگے گی کہ اس موسم میں مداوا مشکل ہو جائے گا… بہرصورت یہ بھی میری گزرتی جوانی کے ماہ و ایام تھے… ماسکو کی سردی س لطف اندوز بھی ہوتا اور غیرمعمولی احتیاط سے بھی کام لینا پڑتا…

ماسکو میں بارہ روز قیام کے دوران مجھے معلوم ہوا شہرمیں ایک مصری ادیب رہتاہے… اس کے والد کو ادب اور شاعری کے میدان میں ہمارے فیض احمد فیض کی طرح لینن پرائز ملا تھا… انہوں نے ایک روسی خاتون سے شادی کر لی… اب ان کا بیٹا جوان تھا… عربی اور روسی دونوں زبانوں میں لکھنے پڑھنے کا کام کرتا تھا… مجھے ان صاحب سے ملنے کا شوق پیدا ہوا… ٹیلیفون نمبر تلاش کر کے رابطہ قائم کیا… انہوں نے جواب دیا رات گیارہ بجے سے پہلے فارغ نہ ہوں گا… آپ انڈر گرائونڈ ٹرین کی فلاں لائن پر سفر کر کے اس خاص سٹیشن پر اتر جایئے گا… باہر نکلیں گے تو ڈیڑھ فرلانگ کی دوری پر سامنے بڑے بڑے فلیٹ نظر آئیں گے… ان کی جانب آ جایئے گا… انہوںنے اپنے گھر کا نمبر بتایا اور کہا کہ میں دروازے پر کھڑا آپ کا ا ستقبال کروںگا…میں سٹیشن پر پہنچا… 11 بجے سے اوپر کا عمل تھا… درجہ حرارت منفی 25 ڈگری کی حدود سے آگے کو چھو رہا تھا… ایک برفانی طوفان تھا جس میں سے گزر کر مجھے فلیٹوں کی جانب چلنا پڑا… پہلے تو میں نے سوچا کہ انگریزی ناولوں میں جس برفانی طوفان کے بارے میں پڑھ رکھا تھا آج اس کا نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہے… لیکن پانچ سات منٹ کے اندر ہی جب ٹھنڈک نے میرے خون کے اندر انجماد کی کیفیت پیدا کرنا شروع کر دی تو میں نے اللہ میاں سے دعا کی خدایا میں اس نظارے کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا، جتنی جلد ہو مجھے منزل تک پہنچا دے… آگے بڑھا فلیٹ قریب آ گئے… کیا دیکھتا ہوں 10 سے 15 سال کی عمر کے روسی بچے معمول کا گرم لباس پہن کر برف کے گولوں سے کھیل رہے ہیں … ان کے نزدیک معمول کی بات تھی… میںقدرت خداوندی پر حیران ہو گیا… آگے بڑھا … مصری نژاد روسی ادیب کے گھر کا نمبر تلاش کر لیا… یہ صاحب دروازے پر کھڑے تھے… خوشدلی سے استقبال کیا… اندر لے گئے… میرا سردی سے برا حال تھا… میں نے کہا بھائی پہلے یہ بتائو تمہارے گھر میں میرے لئے رات بسر کرنے کی کوئی جگہ ہے… کیونکہ میں اتنی سردی میں انڈرگرائونڈ سٹیشن تک بھی چل کے جانے کے قابل نہ ہوں گا… اس نے کہا سب کچھ ہو جائے گا… تم میرے یہاں شب بھی گزار سکتے ہو اور اگر چاہو گے تو ہیٹر والی گرم گاڑی پر تمہارے فلیٹ پر بھی پہنچا دوں گا… فکر نہ کرو… اس کے بعد انہوں نے سبزیوںکا گرم گرم سوپ پلایا… کہنے لگے اب تو ماسکو میں زیادہ سردی نہیں پڑتی… یہاں کے بڑے بوڑھے بتاتے ہیں سردی وہ ہوتی تھی جب مکانوں اور عمارتوں کے اندر انہیں گرم رکھنے کا جدید انتظام نہیں ہوتا تھا … لوگ بڑی مشکل سے لکڑی اور کوئلہ جمع کر کے آگ جلاتے تھے… گھر کے ایک دو کمروں کو گرم رکھتے تھے … اس کے بقول پرانے لوگ اب بھی کہا کرتے ہیں سخت سردی ہمارے لئے نعمت سے کم درجے کی چیز نہیں… کیونکہ اگر یہ نہ پڑے تو ہمارے یہاں کی فلاں فلاں فصلیں اُگ … موسم گرما میں موجودہ برفانی موسم کی تیار کردہ زمین پر سبزیاں پیدا نہ ہوں… کم درجے کی سردی ہو تو لوگوں کا زکام سے جینا محال ہو جاتا ہے لہٰذا ماسکو اور روس کے دوسرے شہروںکے رہائشی شدید سردی کے اس موسم کو اپنے لئے غنیمت سمجھتے ہیں… میں نے ان کی باتیں سنیں تو مجھے جون، جولائی اور اگست کے مہینوں میں لاہور کی گرمی اور اپنے والد مرحوم و مغفور کا فرمان یاد آ گیا…

یہ غالباً 1970ء کا سال تھا… میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم ا ے سیاسیات کر کے تعلیم سے فارغ ہو چکا تھا… نوکری کی تلاش تھی… بے روزگاری کے دن تھے… میرے والد نے وحدت روڈ پر جہاں اس وقت بٹ سویٹ شاپ والی جگہ اور اس کے اردگرد انواع و اقسام کی چیزیں فروخت کرنے والی لاتعداد دکانوں کا پُررونق علاقہ ہے… اس زمانے میں کرائے کی ڈیڑھ کنال کی زمین پر ایک احاطہ سا تعمیر کر کے گتہ سازی کی فیکٹری قائم کر رکھی تھی… جون کا مہینہ تھا… ایک روز میں سائیکل چلاتا ہوا فیکٹری میں چلا گیا… والد صاحب اور چچا جان مرحوم بیٹھے کاروباری باتیں کر رہے تھے… سامنے سوئی گیس کے ایک بہت بڑے چولہے پر لوہے کا ڈرم جس کے اندر توڑی کوگالا جا رہا تھااس کی آگ کی شدت سے پیدا ہونے والی گرمی نے ماحول کو میرے جیسے آرام طلب نوجوان کے لئے ناقابل برداشت بنا دیا تھا… میں تھوڑی دیر وہاں بیٹھا پھر اٹھ کر واپس آنے لگا… والد مرحوم بولے کہاں جا رہے ہو… میں نے ہنس کر جواب دیا اس گرمی میں مجھ سے تو بیٹھا نہیں جارہا… انہوں نے خشمگیں آنکھوں سے میری جانب دیکھا کہ تم نوجوانوں سے اگر اس گرمی میں بیٹھا بھی نہیں جا رہا تو زندگی میں کیا کام کر پائوگے… یہ گرمی ہمارے لئے نعمت کا درجہ رکھتی ہے… اگر نہ پڑے تو خربوزے اور تربوز نہیں اُگیں گے، درختوں پر لگے آم پک نہیں پائیں گے، کئی دوسری فصلوں کے لئے موسم اور زمین ہموار نہ ہو گی… اس مہینے جتنی شدید گرمی پڑے گی آگے چل کر جولائی اور اگست میں اتنی زیادہ بارشیں ہوں گی… زمین زرخیز ہو جائے گی اور اس کے بعد کے مہینوں میں مٹی زرخیز اور فصلیں لہلہا اٹھیں گی… والد مرحوم بے تکان گرمی کے فوائد بیان کر رہے تھے… کہنے لگے یہ ماہ جون میں سورج کی اس قدر تمازت کی بدولت ہے کہ کیڑے مکوڑے مر جاتے ہیں… ہم کئی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں… تم بابو لوگوں کو ان باتوں کی عقل نہیں… ورنہ گرمی میں نکلتے وقت کاندھوں اور کمر کے اوپر کے حصوں پر بڑا رومال رکھا کرو تاکہ سن سٹروک سے بچے رہو… بس انسان اپنی اس قدر حفاظت کا بندوبست کر لے تو گرمی اس کا کچھ نہیں بگاڑتی… میں ماسکو میں بیٹھا جب مصری نژاد روسی ادیب سے وہاں کی سردی کے فوائد سن رہا تھا تو مجھے 22 برس پہلے کی والد صاحب کی گفتگو یاد آ گئی… میں نے اپنے میزبان کو پوری کہانی سنائی… وہ بہت لطف اندوز ہوا… کہنے لگے مصر میں بھی کم و بیش ایسا موسم پایا جاتا ہے اسی لیے دونوں خطے کپاس کی پیداوار کے لیے مشہور ہیں… ہم نے اس پر اتفاق کیا قدرت نے ہر علاقے کے لئے جو جو موسم پیدا کیا ہے وہ وہاں کے ماحول اور باشندوں کی صحت مند زندگی کے لئے مفید فضا پیدا کرتا ہے… ہمارا علاقہ خاص طور پر ایسا ہے سردیوں میں سخت سردی اور گرمیوں میں سخت گرمی پڑتی ہے لیکن یہ سردی یورپ کے برفانی ملکوں جیسی نہیں ہوتی اور ہمارے یہاں کی گرمی شدید ہونے کے باوجود افریقہ کے ان علاقوں جیسی نہیں ہوتی جہاں کم از کم درجہ حرارت 50 سنٹی گریڈ ہوتا ہے… مگر اس برس تو یارو معاملہ کچھ معمول سے ہٹ کر ہو گیا ہے… یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اس نظام کا حصہ ہے جس کے تنوع میں بے پناہ حسن اور دلکشی ہے …


ای پیپر