ہمارے امراء خیرات نہیں دیتے
02 جنوری 2020 (16:24) 2020-01-02

دنیا کے امیر ترین آدمی مائیکرو سوفٹ کے بانی بل گیٹس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جب طالب علم تھا تو اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے اخبار بیچتا تھا۔ دنیا کا امیر ترین آدمی بن جانے کے بعد اس نے سوچنا شروع کر دیا کہ وہ دولت کے اتنے بڑے انبار پر بیٹھا ہے جبکہ اس کی تاحیات ضرورت اس وسیع دولت کا ایک فیصد بھی نہیں۔ اس نے چونکہ غربت کا عذاب دیکھا ہوا تھا لہٰذا ایک طرف وہ اپنی اتنی بڑی بزنس ایمپائر کو دیکھتا اور دوسری طرف دنیا بھر میں پھیلی غربت کو دیکھتا جو ماؤں کے سامنے اپنے بچوں کو محض اس لیے مرتا دیکھ رہی تھی کہ ان کے پاس دوائی کے پیسے نہیں تھے۔ آج سے 25 سال پہلے 1994ء میں اپنی شریک حیات میلنڈا کے ساتھ مل کر میلنڈا اینڈ گیٹس فاؤنڈیشن کے نام سے ایک خیراتی تنظیم قائم کی جو ایشیا ، افریقہ اور پوری دنیا میں غربت میں کمی کے لیے تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور اس طرح کے فلاحی مقاصد کے لیے کام کر رہی ہے۔ بل گیٹس اس وقت دو عالمی ریکارڈ قائم کر چکا ہے۔ پہلا یہ کہ وہ دنیا کا امیر ترین آدمی ہے۔ اس کا دوسرا ریکارڈ یہ ہے کہ وہ خیرات یا چیریٹی دینے والے افراد اور اداروں میں سر فہرست ہے اس کا سالانہ فلاحی بجٹ ۵ بلین ڈالر سے زیادہ ہے اور اس کا ادارہ اس وقت تک 50 بلین ڈالر سے زیادہ تقسیم کر چکا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے ملک گیر پروگرام کی ساری فنڈنگ بل گیٹس ورلڈ بینک کے توسط سے پاکستان کو دے رہا ہے۔ بل گیٹس کا اعلان ہے کہ وہ اپنی آدھی دولت غربت کے خاتمے کے لیے غریب ترین طبقوں کو واپس کر دے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2008ء میں مائیکرو سوفٹ کمپنی سے ریٹائر ہونے اور خود کو خیراتی کاموں میں وقف کرنے کے بعد اب بل گیٹس دنیا کا امیر ترین آدمی نہیں رہا بلکہ اب یہ اعزاز ایک اور کمپنی Amazon کے مالک کے پاس ہے جس کی دولت 120 بلین ڈالر ہے جو پاکستان کے واجب الادا قرضے سے بھی زیادہ ہے۔ مگر بل گیٹس یہ سمجھتا ہے کہ وہ اب پہلے سے زیادہ خوش و خرم اور اطمینان بخش زندگی گزار رہا ہے اس احساس کے ساتھ کہ وہ دوسروں کے کام آتا ہے۔

دوسروں کے کام آنا ہی اصل زندگی ہے۔ بل گیٹس سمجھتا ہے کہ خلق خدا جس کی وجہ سے وہ دنیا کا امیر ترین آدمی بنا اس بات کی مستحق ہے کہ وہ اپنی زائد دولت انہیں واپس کر دے۔ اس نے جو سوچا وہ کر دکھایا۔ امریکہ، برطانیہ اور غیر مسلم دنیا کے دیگر امیر ترین لوگوں کے کوائف اکٹھے کریں تو وہ سارے اس بات پر تقریباً متفق ہیں کہ دولت اور وسائل ایک حد تک انسان کی ضرورت ہوتے ہیں اس سے آگے ان چیزوں کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب اسلام اس چیز کا سبق دیتا ہے کہ آپ کے پاس اپنی ضرورت سے زیادہ جو مال اکٹھا ہو گیا ہے، یہ اللہ کا فضل ہے اور اپنی ضرورت سے زیادہ مال کو اپنے اس بھائی کو دیدو جس پر اللہ کا فضل نہیں ہے یعنی جو غریب اور ضرورت مند ہے۔ اس سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔ دولت کے چند ہاتھوں میں اکٹھا ہونے سے معاشرے میں انتشار پھیلتا ہے جرائم پیدا ہوتے ہیں اور طبقاتی جنگ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اسلام میں زکوٰۃ کا نظام اسی لیے متعارف کروایا گیا اس کی روح یہ تھی کہ غریب طبقے کو اوپر اٹھایا جائے اور جب حضرت عمر کے دور میں ایک مثالی ریاست کا قیام عمل میں آیا تو ایک وقت ایسا تھا جب ریاست میں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں ملتا تھا۔ ہماری جدید معیشت آج اس کو ہی Trickle down effect کی اصطلاح سے یاد کرتی ہے۔ ریاست کی طرف سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے طرز پر جو امدادی کارروائی کی جاتی ہے، اسے معاشیات کی زبان میں سوشل سیفٹی نیٹ کیا جاتا ہے لیکن یہ آخری حربے کے طور پر ہوتا ہے کہ غریب کو بھوکا مرنے سے روکا جا سکے ورنہ ایسے پروگراموں سے غربت ختم نہیں ہوتی۔ اس کی بجائے اگر نچلی سطح پر چھوٹے قرضے اور کاروبار یا روزگار کو فروغ دیا جائے تو اس کے اثرات زیادہ مثبت ہوں گے۔

سوال یہ ہے کہ صلہ رحمی اسلام کا ایک بنیادی نقطہ ہے جس کی ہمارے آخری نبی حضرت محمد صلعم نے بار بار تاکید فرمائی ہے کہ اپنے رشتہ داروں سے بھلائی کرو لیکن عملاً ہم دیکھتے ہیں جیسا کہ بل گیٹس کی مثال سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمان ممالک میں اس طرح کے مخیر حضرات کا فقدان ہے۔ آپ دنیا کے 50 مخیر ترین افراد کی فہرست دیکھیں تو شاید ان میں ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔ پاکستان کی مثال لے لیں یہاں چیریٹی کے ضمن میں جو کام ہو رہا ہے وہ اعلیٰ طبقے یا امیر ترین افراد کی طرف سے نہیں بلکہ عبدالستار ایدھی مرحوم جیسے افراد اور اداروں کا کارنامہ ہے۔ ہمارے طبقۂ امراء کے ٹاپ 10 میں جو لوگ آتے ہیں ان میں حکمران طبقہ جو وزیراعظم اور صدر رہ چکے ہیں یا پھر تجارتی طبقہ ہے جو ملکی معیشت پر قابض ہیں لیکن لاوارث لاشوں کو دفنانے کا کام ایدھی صاحب اور اس طرح کے ادارے کر رہے ہیں۔ ہمارے امراء چونکہ جائز ذرائع سے ارب پتی نہیں بنے اس لیے وہ اپنی دولت کو چھپاتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ صدقات و خیرات سے پرہیز کرتے ہیں اور اللہ کے راستے سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔

نئے سال کے آغاز پر ہر طرف نیو ایئر ریزولیوشن کا چرچا ہوتا ہے اس میں زیادہ تر امنگوں اور آرزوؤں کا تعلق دنیاوی ترقی مال و زار اور حصول دولت سے ہے۔ اس لیے امیر اور غریب میں تقسیم اور عدم مساوات بڑھتی جا رہی ہے۔ مڈل کلاس طبقہ امیر اور غریب کے درمیان ایک ربط یا ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ناگزیر ہوتا ہے مگر بڑھتی ہوئی غربت کی وجہ سے مڈل کلاس کی اکثریت اب غرباء میں شامل ہوتی جا رہی ہے جو سماجی طور پر خطرناک ہے۔

ان حالات میں ہمیں اس امر کی شدت سے ضرورت ہے کہ سماجی فلاح و بہبود کے کام کو آگے بڑھایا جائے ریاست یہ نہیں کر سکتی۔ 2008ء سے لے کر اب تک آپ نے دیکھا ہو گا کہ اربوں روپے کے فنڈ بانٹے جاتے ہیں مگر غربت کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے۔ ایک تو فنڈز کی تقسیم میں کرپشن ہو رہی ہے اور دوسرا قوم کے ایک طبقے کے اندر گداگری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ یہی پیسہ اگر معاشی منصوبوں اور روزگار کی فراہمی پر خرچ کیا جاتا تو اب تک کتنے خاندان اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاتے ۔

اس وقت ہمیں گراس روٹس سطح پر امداد باہمی اور انفرادی اور اجتماعی طور پر رضا کاری یا والنیٹر فورس بنانے کی ضرورت ہے جس میں ہر شہری اپنی بساط کے مطابق معاشرے کے لیے اپنے آپ کو وقف کرے جب ہم چیریٹی یا خیرات کی بات کرتے ہیں تو ضرورت نہیں کہ اس کا مطلب مالی امداد یا روپیہ پیسہ ہے جو لوگ معاشرے کی بحالی کے لیے پیسہ نہیں دے سکتے وہ رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کریں اگر کوئی ڈاکٹر ہے تو وہ ایک دن اپنے آپ کو وقف کرے کہ وہ بلا معاوضہ کام کرے گا اسی طرح ہر پیشہ سے وابستہ افراد معاشرے کے کمزور طبقے کو اوپر اٹھانے کے لیے ان کی ذاتی حیثیت میں کسی نہ کسی شکل میں امداد کرنے کا فریضہ انجام دیں تو معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ معاشرتی اقدار کو فروغ دیا جائے تو اس سے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوں گے اور ملک سے غربت کے خاتمے میں مدد ملنے کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی میں اضافہ ہو گا جرائم کم ہوں گے اور قومی سلامتی کی ضمانت مل سکے گی۔ افسوس ہے کہ مذہب اور سیاست کے شعبوں میں ڈیفالٹ کی وجہ سے ایک طرف فرقہ واریت اور دوسری جانب سیاسی گروپ بندی مضبوط ہوئی ہے۔ ہمیں معاشرے میں ایک ایسا نیا طبقہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو سیاست اور مذہب سے قطع نظر سماجی بنیاد پر قوم میں ایک شعور اجاگر کرے کہ کس طرح اپنے آپ کو ہر سطح پر دوسروں کے لیے وقف کر کے صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

19 ویں صدی کے ارب پتی صنعتکار اینڈریو کارنیگی نے کہا تھا کہ "Dying rich is dying disgraced" یعنی ارب پتی ہو کر مرنا ذلت کی موت ہے جس کے بعد اس نے اپنی دولت غریبوں میں بانٹنا شروع کر دی ۔ مغرب میں آج ہر کھرب پتی اینڈریو کا حوالہ دیتا ہے مگر ہمارے ارب پتی یہ نہیں مانتے کہ اسلام کی تعلیمات کیا ہیں۔


ای پیپر