2019 کی تلخیاں اور سال نو سے امیدیں
02 جنوری 2020 (16:23) 2020-01-02

سال کی 2020 کی پہلی صبح، دفتر پہنچتے ہی کالم لکھنے کا ارادہ تھا مگر وہاں تو سال نو کی مبارکباد، ایک سال میں کیا بدلا، مہنگائی، گڈ گورننس اور 2019 کی ناکامیوں سمیت بہت سے موضوعات پر بحث عروج پر تھی۔یوں تو میرا ارادہ آج کا کالم امریکہ اور افغانستان کے تعلقات اور 2020 میں ہونے والی پیشرفت پر لکھنے کا تھا مگر مہنگائی کا سن کر پاکستان کے 20 کروڑ متاثرین کی طرح میرے بھی کان کھڑے ہو گئے۔اخبارات کے ایڈیٹوریل صفحات دیکھے تو وہاں بھی ادارہ شماریات کے اعدادوشمار بتا رہے تھے کہ 26 دسمبر 2019 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 18.51 فیصد اضافہ ہوا ہے۔دوسری طرف اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 3 روپے 10 پیسے فی لیٹر تک اضافے کی سمری وزارت پٹرولیم کو ارسال کر دی ہے۔سمری میں پٹرول 2.61، ڈیزل 2.25، لائٹ ڈیزل 2.80 اور مٹی کا تیل 3.10 روپے فی لیٹر مہنگا کرنے کی تجویز دی گئی تھی جسے من وعن منظور کر کے یکم جنوری 2020 سے اطلاق بھی کر دیا گیا ہے۔پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث جہاں بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا وہاں ہی ٹرانسپورٹرز کی جناب سے کرایوں میں اضافہ بھی غریب عوام پر ایک اور بم بن کر گرنے کو تیار ہے۔ 2019 کی تلخیوں میں پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ اور بھی ایسی بہت سی یادداشتیں شامل ہیں جو تبدیلی کے خیرخواہ اور تبدیلی کے ناقدین دنوں کو ہی دن میں تارے دکھاتی رہی ہیں۔2019کا آغاز ہوا تو تبدیلی حکومت سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں،50 لاکھ گھر اور 1کروڑ نوکریوں کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے ہی والا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرض نہ لینے کا وعدہ یو ٹرن کی صورت اختیار کر گیا اور مالی سال 2018 - 19کے آخر تک پاکستان مجموعی طور پر 106 ارب ڈالر سے زائد کا قرض دار ہو چکا تھا۔ اقتصادیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی قرض میں ڈوبتی ہوئی موجود صورتحال ایسی ہے جس میں ایک قرض اتارنے کے لیے دوسرا قرض لینا پڑتا ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے جسے اکنامکس کی زبان میں ''ڈیٹ ٹریپ ''یعنی قرضوں کی دلدل کا نام دیا جاتا ہے۔ سال 2019 کے دوران امریکی کرنسی کی قیمت 139 سے بڑھ کر 164 روپے تک پہنچی جبکہ 2019 میں ہی پاکستان کو بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی آزاد حیثیت ختم ہونے اور بھارتی شہریت ایکٹ نافذ ہونے جیسے تلخ واقعات کا سامنا بھی رہا۔ 2019میں نئی حکومت کے پہلے سال کے دوران جہاں اپوزیشن جماعتوں کو کڑے احتساب کا سامنا رہا وہاں ہی عدالتوں کی جانب سے آرمی چیف کی توسیع اور سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کی سزائے موت جیسے بڑے اور متنازعہ فیصلے بھی سامنے آئے۔عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر اور ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نے دنیا کو اسلاموفوبیا پر بات کرنے کا موقع دیا تو وہاں ہی اسلامی ممالک کی آپسی لڑائی میں پاکستان کی جانب سے ملیشیا کوالالمپور سربراہی سمٹ میں عدم شرکت بھی زبان زد عام رہی۔شریف برادران کی ضمانت پر بیرون ملک روانگی، سابق صدر آصف علی زرداری کی ضمانت اور سیاسی جماعتوں کے لیے ہواؤں کا بدلتا ہوا رخ سال بھر یہ تاثر دیتا رہا ہے کہ حکومت آج گئی اور کل نئی آئی مگر تمام تر پیشگوئیاں اور خواہشات بھی بدلتے سال کے ساتھ نئے برس میں داخل ہو گئیں۔جو گزر گیا اسے بھول جا کے مفروضے پر عمل کرتے ہوئے وقت کے ساتھ چلنے والے دانشور ماضی کی تلخیوں سے سبق سیکھتے ہوئے نئے سال کے لیے نئی کوشش کرنے کا مشورہ دیتے نظر آتے ہیں۔اس لیے ہم نے بھی سوچا ہے کہ گزشتہ تلخیوں کو بھلا کر حکومت سے نئی امیدیں وابستہ کی جائیں،اس لیے چند گزارشات اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ارباب اختیار کے سامنے رکھتے ہوئے کہنا چاہتی ہوں کہ مان لیتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے اقدامات آپ کی حدود سے باہر سہی مگر آپ انسانی ہمدردی کے ناطے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف مذمت کا سلسلہ گورنر ہاؤسز میں میوزیکل نائٹس کے بغیر بھی جار ی رکھ سکتے ہیں۔ مہنگائی کی شرح میں کمی تو نہیں لائی جا سکتی مگر شرح آمدن بڑھائی جا سکتی ہے اور کفایت شعاری و پروٹوکول نہ لینے کا دعویٰ حقیقت کا رخ اختیار کر سکتا ہے۔ مان لیتے ہیں کہ سیکورٹی اور معاشی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی نہیں بنایا جاسکتا مگر اس ہاؤس کو خالصتاََ عوام کی فلاح کے لئے کیے جانے والے فیصلوں کے لئے ضرور استعمال کیا جا سکتا ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آپکے قابو میں نہ سہی مگر مصنوعی مہنگائی پر قابو پا کر گرانفروشی کو لگام ڈالی جا سکتی ہے۔50 لاکھ نوکریاں نہ سہی مگر موجود روزگار کو بچایا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں کے قرض دینے کے بلند و بانگ دعوے پورے کرنا مشکل سہی مگر چھوٹے قرضوں کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کو سہارا دیا جا سکتا ہے۔ مانا کہ مرغیاں اور انڈے دے کر معیشت مستحکم کرنے کا خواب دیکھنا آپ کا جرم ٹھہرایا گیا ، ہنسی اڑائی گئی مگر اس پر عمل درآمدکے ذریعے دریا میں قطرہ ضرور شامل کیا جاسکتا تھا۔ مانا کہ بیوروکریسی کا تعاون حاصل کرنا مشکل مرحلہ تھا مگر یہ بھی سوچا جا سکتا ہے کہ بیوروکریسی کو کیا تحفظات ہیں؟ اور یہ بھی مانا کہ آپ کی حکومت تجربہ کار نہیں مگر ایمانداری سے فرائض کی انجام دہی کہ لیے کسی تجربے کی ضرورت نہیں۔ مانا کہ آپ نے نیب آرڈینینس معاشی استحکام کے لئے اوربزنس کمیونٹی کے تحفظ کے لئے بنا یا ہو گا کیونکہ قرضوں کی دلدل سے نکلنے کے لئے آپ کو اسی بزنس کمیونٹی کی ضرورت پڑے گی مگریہ بھی سوچا جا سکتا ہے کہ احتساب کا نعرہ ختم ہونے کے بعد آپ کے پاس عوام کو بتانے کے لئے کیا ہو گا؟ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ عدالتوں کے معاملات آپ کے قابو سے باہر مگر آپ آزا د انصاف کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ اے این ایف جیسے ادارے خودمختار سہی مگر آپ بیان بازی اور میڈیا ٹرائل کے بغیر انھیں کام کرنے کا پابند بنا سکتے ہیں۔ مختصراََ یہ 365 دن کی گزارشات 1100 الفاظ میں کرنا ممکن نہیں مگر اتنی درخواست ضرور ہے کہ کسی روزتو کوئی ایک ایسا کام کر دیں جو آپ کو تاریخ کے مثبت صفحات میں یاد رکھنے کی وجہ بن سکے۔


ای پیپر