لیاقت باغ کا جلسہ
02 جنوری 2020 (16:20) 2020-01-02

پیپلز پارٹی نے 27 دسمبر کو محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی 12ویں برسی کے موقع پر راولپنڈی کے لیاقت باغ میں اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ کئی سالوں کے بعد راولپنڈی میں جیالوں کا یہ بہت بڑا اجتماع تھا جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو ان کی جدوجہد اور قربانی پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اس جلسے کی خاص بات یہ تھی کہ نہ صرف پنڈال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا بلکہ جلسہ گاہ کے اطراف کی گلیاں اور مری روڈ پر بھی جم غفیر تھا۔ راقم خود جلسہ گاہ میں داخل ہونے میں ناکام رہا اور باہر بیٹھ کر تقریریں سنیں۔ اس جلسے کی نمایاں خصوصیت جہاں تعداد تھی وہیں پر اس سے اہم بات یہ تھی کہ اس جلسے میں پیپلز پارٹی کے جیالے اور متحرک کارکن شریک ہوئے۔ یہ مانگے تانگے کے افراد کا جلسہ ہرگز نہیں تھا۔ اس جلسے میں جیالے ایک نئے ولولے اور عزم کے ساتھ شریک تھے۔

اس جلسے کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ اس میں بڑی تعداد نوجوانوں پر مشتمل تھی۔ پرانے جیالوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی مگر نوجوان بھی بڑی تعداد میں شریک تھے۔ پیپلز پارٹی آہستہ آہستہ نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہے مگر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ اس وقت نوجوانوں کے دو بڑے مسئلے ہیں۔ ایک مہنگی تعلیم کا اور دوسرا روزگار کا۔ فیسوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری یونیورسٹیوں کی فیسیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں کی فیسیں پہلے ہی زیادہ ہیں۔ اس صورت حال میں محنت کش اور نچلے درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے لئے اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے لئے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ اس طرح ہر سال لاکھوں نوجوان تعلیم مکمل کر کے ڈگریاں ہاتھوں میں تھامے نوکریوں کی تلاش میں نکلتے ہیں مگر ملازمتوں کی تعداد کم ہے جس وجہ سے نوجوانوں میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ پیپلزپارٹی کو ان دونوں مسائل پر اپنا ٹھوس اور واضح پروگرام اور بیانیہ سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ اس جلسے کی کامیابی میں پیپلز پارٹی وسطی پنجاب نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ پیپلز پارٹی کے پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ اور جنرل سیکرٹری چوہدری منظور نے انتھک محنت کی۔ دونوں نہ صرف حقیقی سیاسی کارکن ہیں بلکہ اپنی مٹی میں گندھے

ہوئے عوامی دانشور بھی ہیں۔ وہ پاکستان کے سیاسی تضادات، معاشی مسائل اور سماجی بحران کے حوالے سے ایک واضح بیانیہ اور تناظر بھی رکھتے ہیں۔ اس جلسے کو کامیاب بنانے کے حوالے سے اپنائی گئی سیاسی اور تنظیمی حکمت عملی کامیاب رہی۔ پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کی قیادت کے لئے قمر زمان کائرہ اور چوہدری منظور احمد سے بہتر اس وقت کوئی متبادل موجود نہیں۔ انہوں نے ضلعی اور ڈویژن کی قیادت کے ساتھ مل کر اس جلسے کو نہ صرف کامیاب کیا بلکہ پیپلز پارٹی کو پوری طرح متحرک بھی کیا۔ دونوں نے تحصیل اور ضلع کی سطح پر دورے کئے اور پھر راولپنڈی کی تقریباً ہر یونین کونسل میں خود جا کر کارکنوں کو متحرک کیا۔

میڈیا کے کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اس جلسے میں راولپنڈی کی بجائے باہر سے لوگ شریک تھے جبکہ راولپنڈی کے مقامی افراد کی شرکت معمولی تھی۔ راقم نے بطور سیاسی کارکن اور صحافی بے شمار جلسوں میں شرکت کی ہے اور ان کی کوریج کی ہے۔ اپنے مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ راولپنڈی اور پوٹھوہار سے بھرپورشرکت کے بغیر اتنا بڑا جلسہ منعقد کرنا ممکن نہیں تھا۔ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں اور ضلعوں سے کارکن شریک ہوئے۔ کارکن سندھ سے بھی آئے تھے مگر وہ اس جلسے کا محض ایک چھوٹا سا حصہ تھے۔ کے پی کے اور کشمیر سے بھی کارکنوں کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ مگر راولپنڈی، اسلام آباد، اٹک، گوجرخان، مری، کہوٹہ، کوٹلی سیتاں، ٹیکسلا وغیرہ سے بڑی تعداد میں شرکت کے بغیر اتنے لوگوں کا اکٹھا ہونا ممکن نہیں تھا۔ مصطفی نواز کھوکھر، راجہ پرویز اشرف اور دیگر رہنمائوں نے بھی کارکنوں کو متحرک کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

اس جلسے کے بعد یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنا کھویا ہوا مقام اور حمایت دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔ کیا پیپلز پارٹی کا روٹھا ہوا ووٹر جو کہ تحریک انصاف کوووٹ ڈال رہا تھا وہ پارٹی میں واپسی اختیار کرے گا۔ راقم کے ذاتی خیال میں اس عمل کا آغاز ہو گیا ہے مگر یہ ایک یا دو دن یا ماہ کا عمل نہیں ہے۔ اس میں ابھی وقت لگے گا۔ پیپلز پارٹی پنجاب کو اس حوالے سے ٹھوس اور مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کی ناکام حکومت نے لوگوں کی تبدیلی کی خواہش اور خواب چکنا چور کر دیئے ہیں ۔ جن لوگوں نے تبدیلی اور اصلاحات کے لئے عمران خان کو ووٹ دیئے تھے وہ تو اب مایوس ہو رہے ہیں یا ہو چکے ہیں۔ ہر حلقے میں 15 سے 20 فیصد ووٹر آزاد ہوتے ہیں یعنی وہ کسی خاص جماعت کے ساتھ منسلک نہیں ہوتے اس لئے ہر الیکشن میں وہ مختلف جماعت کو ووٹ دیتے ہیں۔ 2018ء میں ان ووٹروں کی اکثریت نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا جبکہ 2013ء میں مسلم لیگ (ن) کو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف کی سیاسی جماعت میں پنجاب میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اب بھی پنجاب کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے جس کے پاس وسیع انتخابی حمایت موجود ہے مگر موجودہ سیاسی صورت حال پر اس کی قیادت کی خاموشی سے اسے سیاسی طور پر نقصان پہنچ رہا ہے۔ مصالحت کی سیاست سے مسلم لیگ (ن) کے لئے اقتدار کے دروازے تو شاید کھل جائیں مگر اس کی مخصوص پرتوں میں سیاسی حمایت کم ہو گی۔ ان حالات میں پیپلز پارٹی کے پاس پہلے سے زیادہ مواقع موجود ہیں۔ پیپلز پارٹی کے پاس پہلے سے زیادہ سیاسی جگہ موجود ہے۔ اگر عوامی مسائل پر سیاست کی جائے۔ ایک واضح نظریاتی، سیاسی اور تنظیمی حکمت عملی اختیار کی جائے تو پیپلز پارٹی کئی علاقوں اور حلقوں میں واپس آ سکتی ہے۔ راولپنڈی میں سینئر رہنما چوہدری اعتزاز احسن نے خوبصورت تقریر کی۔ انہوں نے سرمایہ داری کے عالمی بحران اور سوشلزم پر کھل کر بات کی۔ پیپلز پارٹی کو کھل کر اپنے بنیادی سوشلسٹ نظریات اور عوامی پروگرام کو بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ سرمائے کی سیاست کا مقابلہ یا تو سرمائے سے کیا جاتا ہے یا پھر نظریات اور عوامی سیاست کے ذریعے۔ پیپلز پارٹی نے سرمائے کی سیاست کا نتیجہ دیکھ لیا ہے اب کھل کر نظریات پر سیاست کرنے کی ضرورت ہے۔ کارکنوں کو ان کا جائز مقام اور عزت دینے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر بلاول بھٹو اور کارکنوں کے درمیان براہ راست رابطے اور تعلق کو استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاول بھٹو ایک میچور سیاستدان کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں پنجاب میں پارٹی اپنا کھویا ہوا مقام اور مرتبہ دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔ اس عمل کا آغاز ہو گیا ہے۔ اب اسے جاری رکھنا ہو گا۔


ای پیپر