تذکرہ کچھ ادھر اُدھر کے ــ
02 جنوری 2020 (16:19) 2020-01-02

اخبارات میں سیاستدانوں اور مقتدر شخصیات کے بیانات اور تازہ افکار و خیالات پڑھنے کو ملتے ہیں تو کچھ اصحاب دانش و بصیرت اور مہربان قلم کاروں کی نگارشات اور اُن کی پسند و نا پسند کے تازہ رُحجانات بھی سامنے آتے رہتے ہیں تو لامحالہ ان میں سے بعض شخصیات بالخصوص سیاستدانوں کی ماضی کی تاریخ، اُن کی سیاسی وابستگیاں اور اُس دور کے اُن کے افکار و خیالات بھی یاد آنے لگتے ہیں۔ قلم کاروں اور کالم نگاروں کی ماضی اور حال کی پسند و ناپسند میں تضاد بھی اُبھر کر سامنے آتا ہے تو بے ساختہ جی یہ کہنے کو چاہتا ہے ؎ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے ۔ اگلے روز تحریکِ انصاف کے اہم رہنما اور نامور قانون دان ڈاکٹر بابر اعوان کا ایک قومی معاصر میں "رنگ آف فائر" کے عنوان سے کالم پڑھا تو ذہن کے نہاں خانے میں اُن کی ماضی کی سیاسی وابستگیوں اور اُس دور کے افکارِ عالیہ سمت اُن کی کئی باتیں اور یادیں تازہ ہو گئیں۔ ڈاکٹر بابر اعوان کی شخصیت بلا شبہ کسی تعرف کی محتاج نہیں۔ وہ خطہِ پوٹھوہار کی ایک نامور اور کامیاب قانونی شخصیت ہونے کے ساتھ اپنے علاقائی تمدن ، رہن سہن، خاندانی روایات و اقدار اور رکھ رکھاو سے لگاؤ رکھنے والی مہمان نواز شخصیت ہیں۔ میں ذاتی طور پر اُن کے بدلتے افکارِ عالیہ و سیاسی وابستگیوں سے اتفاق نہ رکھنے کے باوجود اُن سے ایک تعلق خاطر (اگرچہ وہ میرے کسی تعلقِ خاطر کے محتاج نہیں )رکھتا ہوں۔ میرا گاؤں اُن کا سسرالی گاؤں ہے۔ اور اُن کے مرحوم سسر ماسٹر ملک مقصود علی اور ساس محترمہ ماسی ۔۔۔۔ جو دونون ریٹائرڈ ٹیچر تھے بڑی قابلِ احترام ، دانا اور جہاں دیدادہ شخصیات تھیں۔ اُن کے برادر نسبتی جو میرے ہم نام ہیں ساجد ملک مجھے چھوٹے بھائیوں کی طرح عزیز ہیں۔ میں نے اُنھیں کچھ دن پڑھایا بھی تھا۔ مجھے بڑے ادب و احترام سے ملتے اور بھائی جان کہ کر پُکارتے ہیں۔ یہ باتیں ڈاکٹر بابر اعوان سے میرے تعلقِ خاطر خواہ یکطرفہ ہی سہی کی بنیاد ہیں۔ اُن کے کالموں میں بعض اوقات میرے گاؤں (اُن کے سسرالی گاؤں) کا جو تذکرہ آجاتا ہے کبھی وہ کہوٹہ روڈ پر پہاڑی پر آباد اپنے گاؤںہوتھلا کا ذکر کرتے ہیں ، اپنے خاندانی قبرستان اور اپنے مرحوم والد کی یادوں اور اپنی والدہ محترمہ کی دُعاوں کا ذکر کرتے ہیں تو یہ سب اچھا لگتا ہے۔ اپنے آبائی گھر بقول اُن کے" ذیلدار ہاؤس"اور اس میں لگائے گئے قسم قسم کے درختوں کی تفصیل بیان کرتے ہیں تو اس سے بھی مجھے اُن کی اپنی مٹی اور اپنی جنم بھومی سے محبت اور لگاؤ جھلکتا محسوس ہوتا ہے جو مجھے اچھا لگتا ہے کہ مجھے بھی اس طرح کی چیزیں ہمیشہ سے عزیز رہی ہیں اور اب عمر کے اس حصے میں کچھ ذیادہ ہی عزیز ہیں۔

ڈاکٹر بابر اعوان کی کامیاب وکالت کا حوالہ ، ان کے قانونی دلائل ، ان کے لاء آفس، ان کے جونئیر وکلاء اور ان کے ہمہ صفت منشی شبیر صاحب کا ذکر بھی کبھی ان کے کالموں میں آجائے تو اس پر بھی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوتا لیکن اس سے بڑھ کر جب وہ دوسرے شہروں کے بار ایسوسی ایشنز وغیرہ کے اہم ارکان سے اپنے تعلق ، اپنی ملاقاتون، اپنی گفتگو اور دیگر جُزئیات کا حوالہ دیتے ہوئے تعلی و فخر سے کام لیتے ہیں تو پھر طبیعت اسے اعوانوں کی روایتی وسیع قلبی، انکساری اور شکر گزاری کے منافی سمجھ کر کچھ بوجھل پن محسوس کرتی ہے۔ لیکن یہ پھر بھی گوارہ ہے۔ طبیعت میں انقباض اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ ماضی کی اپنی وابستگیون کو یکسر فراموش کرتے ہوئے اپنے اس دور کے محسنوں ، مہربانوں اور مربیوں کا ذکر کرتے ہوئے ایسی زبان استعمال کرتے ہیں جسے کچھ کچھ لکھنؤ کی نوٹنکیوں ( جناب بابر اعوان نوٹنکی کا لفظ اکثر اپنے کالموں میں استعمال کرتے ہیں)کی زبان کہا جا سکتا ہے ۔یہ جلی کٹی زبان اوراندازِ تخاطب ان کی شخصیت کے خوبصورت پہلوؤں کے منافی ہے۔ اوپر میں نے ان کے کالم "رنگ آف فائر " کا حوالہ دیا اس میں انھوں نے خوبصورت قلم کار ، دانش ور اور معروف علمی و ادبی شخصیت محترم خورشید ندیم کا ذکر کیا ہے۔ محترم خورشید ندیم تحریک انصاف اور عمران کی پالیسوںکے سخت ناقد اور مسلم لیگ ن ، میاں محمد نواز شریف اور محترمہ مریم نواز کے زبردست مداح اور ان کے بیانیئے کے کٹر حامی سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس سبھی جانتے ہیں کہ ڈاکٹر بابر اعوان تحریک انصاف کے اہم راہنما اور وزیرِ اعظم عمران خان کے ـ"غیر سرکاری " مشیرِ خاص کے منصب جلیلہ پر فائز ہیں اور وزیرِ اعظم سے ان کی گاہے گاہے ملاقاتون کی خبریں میڈیا میں بطورِ خاص سامنے لائی جاتی ہیں۔ اب اگر موقف، سوچ، فکر ، سیاسی وابستگیوں اور پسند و نا پسند میں تضادات اور بُعد کے باوجود ڈاکٹر بابر اعوان کے محترم خورشید ندیم سے دوستانہ اور نیازمندانہ تعلقات قائم رہ سکتے ہیں تو پھر ماضی کی دیگر ایسی شخصیات جن سے وہ وابستہ ہی نہیں رہے ہیں ان سے خوشہ چینی بھی کرتے رہے ہیں ان کے لیے جیسا میں نے اُوپر کہا ڈاکٹر بابراعوان صاحب کا انتہائی سوقیانہ اور مخالفانہ انداز گفتگو اور تخاطب کم از کم میری طرح کے ایک پرانی سوچ کے مالک شخص کو قطعاً اچھا نہیں لگتا۔

اس میں آخر کون سی قباحت ہے کہ ڈاکٹر بابر اعوان یہ تسلیم کریں کہ ایک زمانے میں وہ فوجی آمر جنرل محمد ضیاء الحق شہید کے زبردست حامی اور شیدائی رہے ہیں۔ مجھے اپنے گاؤں میں جنرل محمد ضیاء الحق کی پہلے برسی کے موقع پر یکم اگست 1989 کو منعقد کیا جانے والا اجتماع نہیں بھولتا ۔ بلا شبہ یہ ایک یادگار اجتماع تھا اور اس میں گاؤں کے ہی نہیں نواحی دیہات کے عوام بھی شرکت کے لیے ٹوٹ پڑے تھے ۔ اس اجتماع کے انتظام و انصرام اور انعقاد میں میرا بڑا عمل دخل تھا اور میں سٹیج سیکرٹری بھی تھا۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے اس میں بڑا پر جوش اور پر اثر خطاب کیا۔ ان کا بلند کیا جانے والا یہ نعرہ "ضیاء بابا ہم شرمندہ ہیں۔۔۔تیرے قاتل زندہ ہیں" کم و بیش تین عشرے گزرنے کے باوجود ابھی تک میرے کانوں میں گونجتا رہتا ہے۔ اگلے سال اگست 1990 میں شہید صدر کی دوسری برسی کے موقع پر گاؤں میں دوسرا اجتماع ہوا تو ڈاکٹر بابر اعوان کلیدی مقررین میں شامل تھے۔ دسمبر 1989ء میں محترمہ بے نظیر کی پہلی حکومت قائم ہوئی تو ڈاکٹر بابر اعوان اس کے سخت ناقد سمجھے جاتے تھے اور راولپنڈی بار اسوسی ایشن کے پلیٹ فارم پر ان کی پیپلز پارٹی کے کچھ حامی وکلاء کے ساتھ شاید تلخ کلامی بھی ہوتی رہی۔ پھر کچھ ایسا ہو ا کہ چند برس گزرنے کے بعد غالباً میاں محمد نوازشریف کے دوسرے دورِ حکومت میں ڈاکٹر بابر اعوان بتدریج پیپلز پارٹی کے کٹر حامی ہی نہیں بن گئے بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قریب آگئے اور عدالتوں میں ان کے مقدمات کی پیروی میں انہیں فوقیت دی جانے لگی۔ پھر چل سو چل ڈاکٹر بابر اعوان ایک طرف مسلم لیگ ن اور شریف برادران پر طنز و تشنیع کے تیر برسانے میں پیپلز پارٹی کے ہراول دستہ کی قیادت میں شامل ہو گئے تو دوسری طرف محترمہ بے نظیر بھٹو کا انہیں زبردست اعتماد بھی حاصل ہوا۔ 27 ستمبر 2007ء کو لیاقت باغ کے باہر محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کا سانحہ پیش آیا تو وہ رحمٰن ملک کے ساتھ محترمہ کے قافلے میں شامل دوسری گاڑی میں موجود تھے۔ پیپلز پارٹی 2008 ء میں برسراقتدار آئی تو بابر اعوان جناب آصف علی زرداری کے معتمد ترین ساتھی سمجھے جاتے ہوتے ہوئے پہلے سینیٹ کے رکن اور پھر وفاقی وزیرِ قانون کے منصب جلیلہ سے سرفراز ہوئے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا اور ڈاکٹر بابر اعوان کی مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت کے خلاف لاہور میں جا کر چاند ماری بھی جاری رہی۔ پھر کچھ ایسا ہوا کہ نازک آبگینوں میں بال آگیا اور ڈاکٹر بابر اعوان کو وزارتِ قانون سے مستعفی ہونا پڑا۔ اس دوران کالموں میں اگر انہیں کہیں محترمہ بے نظیر بھٹو بالخصوص جناب آصف علی زرداری کا ذکر کرنا پڑا تو وہ ایسے کرتے جیسے آصف علی زرداری ہمیشہ ان کے ہی مشوروں اور دستِ شفقت کے مرہونِ منت رہے ہوں۔

مئی 2013ء میں مسلم لیگ ن کی حکومت برسراقتدار آئی تو جناب عمران خان نے کچھ مخصوص حلقوں کی غائبانہ حمایت اور تائید کے ساتھ وزیرِ اعظم میاں محمد نوازشریف کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا۔ وقت کچھ آگے بڑھا اور 2018ء کے انتخابات سے قبل کچھ اس طرح کا منظرسامنے آیا جس میں مسلم لیگ ن کے مقابلے میں تحریک انصاف کی مقبولیت کچھ زیادہ دیکھائی دینے لگی تو ڈاکٹر بابر اعوان نے پیپلز پارٹی کے سینیٹر کے طور پر سینیٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دے کر تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ ڈاکٹر بابر اعوان کے سیاسی سفر کی یہ داستان ہمارے یہاں کے اکثر سیاستدانون کی سفر کی داستانوں سے ملتی جلتی ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا تاہم اگر اس بات کا اہتمام ہو جائے کہ ماضی کی سیاسی وابستگیوں پر شرمندہ ہونے اور ان کا ذکر کرنے سے گریز کرنے کی بجائے انہیں اپنا لیا جائے تو یہ بھی کوئی ایسی کم تر یا خرابی کی بات نہیں۔

خیال تو تھا کہ کسی اور پارسا بالخصوص شیخ رشید احمد کا بھی ذکر ہو جائے لیکن کالم میں گنجائش نہ ہونے پر محترم جناب ڈاکٹر بابر اعوان کے ذکر پر ہی اکتفاء کرتے ہیں۔


ای پیپر