فائل فوٹو

فیض احمد فیض کی شاعری کی گونج مودی سرکار کو کھٹکنے لگی
02 جنوری 2020 (15:13) 2020-01-02

نیو دہلی: بھارت مسلم دشمنی میں بوکھلا ہٹ کا شکار، پاکستان کے نامور شاعر فیض احمد فیض کی شاعری کی گونج مسلم مخالف قانون میں مودی سرکار کو کھٹکنے لگی۔

پاکستانی شاعروں کی نظموں کی مقبولیت پر انتہا پسند چڑ گئے، شاعری کی گونج کو روکنے کیلئے بعض لوگوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا ہے۔ اتر پردیش میں آئی آئی ٹی کے پروفیسر واشی منت شرما نے کچھ طلباء کے خلاف شکایت درج کرائی کہ وہ پاکستانی شعرا کی مزاحمتی شاعری گاتے ہوئے نفرت پھیلا رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا بھی بے پر کی ہانکنے لگا، کہتا ہے فیض احمد فیض کی نظم بھارت مخالف اور ہندوؤں کے خلاف ہے۔

فیض احمد فیض ، حبیب جالب اور علامہ اقبال کی شاعری ان مظاہروں میں شامل نوجوانوں میں بے حد مقبول ہو رہی ہیں۔ نئی دہلی کے شاہین باغ میں ہزاروں خواتین تین ہفتے سے دھرنا دے رکھا ہے۔

بھارت کو فیض احمد فیض کی مشہور نظم ہم دیکھیں گے کہ جملوں سے ہندو مخالفت کی بو آنے لگی۔ نظم پر بھارت میں نئی بحث چھڑگئی۔ فیض احمد فیض کے ساتھ حبیب جالب کا کلام بھی بھارتی طلباء کی آواز بنا ہوا ہے۔

دوسری جانب بھارتی شاعر جاوید اختر نے فیض احمد فیض کو ہندو مخالف کہنے پر ردعمل میں کہا فیص کی شاعری کو ہندو مخالف کہنا اتنا مضحکہ خیز ہے کہ اس کے بارے میں سنجیدگی سے بات کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے اپنی آدھی زندگی پاکستان سے باہر گزاری، انہوں نے اپنی نظم 'ہم دیکھیں گے 'ضیاالحق کے دور میں لکھی تھی۔


ای پیپر