02 جنوری 2020 2020-01-02

(دوسری وآخری قسط)

گزشتہ کالم میں پی ٹی آئی پنجاب کے صدر اعجاز احمد چودھری کی جانب سے 25دسمبر کو بانی پاکستان قائداعظمؒ کے 139ویں یوم پیدائش پر ”قائداعظم ہم سب کے“ عنوان سے منعقد ہونے والی ایک خوبصورت تقریب کا میں ذکر کررہا تھا۔ اس تقریب کے لیے چودھری صاحب خصوصی خراج تحسین کے مستحق اس لیے بھی ہیں کہ دوسرے صوبوں میں پی ٹی آئی کی قیادت کو اس طرح کی کوئی تقریب منعقد کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ نہ مرکز میں کسی کو ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان کے اردگرد زیادہ تر مسخرے اور رنگیلے وزیر اکٹھے رہتے ہیں، کسی سنجیدہ شخص کو اُنہوں نے اپنے قریب رکھا ہوتا وہ ضرور اُنہیں یہ مشورہ دیتا بانی پاکستان کے لیے ایک تقریب اسلام آباد میں بھی ہونی چاہیے، کسی وزارت کو بھی یہ توفیق نہیں ہوئی۔ جس طرح کے ہمارے حکمران خوشامدپسند ہیں ممکن ہے کہ وزارت نے قائداعظم کی یاد میں کوئی محفل سجانے کا سوچا ہو، اور یہ بھی سوچا ہو اُس میں وزیراعظم عمران خان کو مدعو کریں گے، پھر یہ سوچ کر اپنی اس سوچ کو رد کردیا ہو کہ وزیراعظم نے اِس تقریب میں شرکت سے ویسے ہی معذرت کرلینی ہے، اس تقریب میں ظاہر ہے سارے قائداعظم ؒ کی تعریفیں کررہے ہوں گے تو صرف اپنی تعریفیں سن کر خوش ہونے والے وزیراعظم کو پتہ نہیں یہ عمل پسند بھی آتا ہے یا نہیں؟۔ مجھے نہیں معلوم پی ٹی آئی سندھ کی صدارت یا قیادت کس کے پاس ہے، پر قائداعظم ؒکی یاد میں ایک مرکزی تقریب کا اہتمام پی ٹی آئی سندھ کی قیادت کو مزار قائد پر کرنا چاہیے تھا، جس میں وزیراعظم عمران خان کو بھی مدعو کیا جاتا۔ چاہے اس مقصد کے لیے خاتون اول سے ہی سفارش کیوں نہ کروانا پڑتی ،.... چودھری اعجاز احمد اس حوالے سے سبقت لے گئے کہ بانی پاکستان کو یادکرنے اور اِسی بہانے ملک کے ممتاز دانشوروں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کا اُنہوں نے اہتمام کیا، میں اِس تقریب میں بانی پاکستان کے احترام میں وقت سے ذرا پہلے پہنچ گیا تھا، تقریب مگر پون گھنٹے دیر سے شروع ہوئی، میں نے ایک فلاحی تقریب میں پہنچنا تھا جس کا اہتمام میری بیگم نے کررکھا تھا، سو میں زیادہ دیر کے لیے رُک نہ سکا، کچھ اس خدشے کے تحت بھی میں جلدی اُٹھ آیا مجھے وہاں تقریر وغیرہ کرنے کے لیے نہ کہہ دیا جائے، جس کا میں خود کو اس لیے اہل نہیں سمجھتا قائداعظم پر اچھی اور سچی گفتگو وہی کرسکتا ہے قائداعظم ؒکی زندگی اور اصولوں کو اپنے لیے جس نے مشعل راہ بنا رکھا ہو،ویسے بھی وہاں جناب مجیب الرحمن شامی، افتخار احمد، سلمان عابد ایسے بڑے دانشوران کی موجودگی میں اپنی دال بھلا کیا گلنی تھی،.... میرا خیال تھا پی ٹی آئی پنجاب کی جانب سے منعقدہ اِس تقریب میں پی ٹی آئی پنجاب کی تقریباً ساری قیادت موجود ہوگی، خصوصاً پنجاب سے تعلق رکھنے والے وفاقی وصوبائی وزراءتو ضرور ہوں گے۔ پر سوائے دوصوبائی وزراءمیاں اسلم اقبال اور ڈاکٹر مرادراس کے کوئی نہیں تھا،....مراد راس کا تو مجھے علم نہیں، میاں اسلم اقبال کے بارے میں ذاتی طورپر میں جانتا ہوں اپنے وزارتی امور پر بھرپور توجہ دینے کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے ورکرز اور لورزکے ساتھ ذاتی طورپر رابطے میں رہنے کی بھرپور کوشش بھی کرتے ہیں۔ اپنے عزیزوں، دوستوں اور جاننے والوں کے دُکھ سُکھ میں شریک ہونے میں بھی کوئی اُن کا ثانی نہیں ہے، دوسروں کو عزت دینے کے معاملے میں بھی وہ کسی سے پیچھے نہیں رہتے، یہی خوبیاں پنجاب کے گورنر چودھری محمد سرور میں بھی ہیں، پی ٹی آئی کو ہر لحاظ سے اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے والے علیم خان بالکل خاموش ہیں، میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ رہا ہوں علیم خان پنجاب کے وزیراعلیٰ ہوتے عمران خان کو پنجاب میں ایسی سبکیوں کا ہرگز سامنا نہ کرنا پڑتا جن کی بنیاد پر اب یہ بات زبان زد عام ہے ”آج پنجاب میں نئے انتخابات کروا دیئے جائیں بشمول عمران خان پی ٹی آئی کے اُمیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو جائیں گی“ ....ظاہر ہے اس کا کریڈٹ خان صاحب کے ”وسیم اکرم پلس“ کو ہی جائے گا، کبھی کبھی مجھے لگتا ہے خان صاحب آئندہ الیکشن لڑنا ہی نہیں چاہتے، یا پھر یہ کہ اُنہیں لانے والی قوتوں نے اُنہیں اِس یقین میں مبتلا کررکھا ہے ”آپ تاحیات وزیراعظم ہیں“، صرف عوام نہیں پی ٹی آئی کے مخلص کارکن بھی خان صاحب کی مختلف پالیسیوں کی وجہ سے ان سے متنفراور مایوس ہوتے جارہے ہیں، خان صاحب کو اگر یقین نہیں آتا کسی روز چاروں صوبوں کے پی ٹی آئی کے صدور کو بلا لیں اُنہیں کھل کر بولنے کا موقع دیں، ساری حقیقت کھل کر اُن کے سامنے آجائے گی، اکیلے چودھری اعجاز احمد کو ہی بُلا لیں وہی اُنہیں بتادیں گے پنجاب میں پی ٹی آئی کس طرح اپنے مقام سے بُری طرح گرتی جارہی ہے، .... ممکن ہے چودھری اعجاز احمد کی جانب سے قائداعظمؒکی یاد میں منعقدہ تقریب میں کچھ وزیر شذیر اس لیے بھی نہ آئے ہوں اس تقریب میں اگر قائداعظم ؒ پر چند کلمات اُنہیں کہنا پڑ گئے وہ کیا کہیں گے؟ کیونکہ وہ قائداعظمؒ کے بارے میں اُتنا ہی جانتے ہیں جتنا قائداعظم ؒ اُن کے بارے میں جانتے تھے، ....میں سوچ رہا تھا اِس تقریب میں وزیراعلیٰ بزدار کو مدعو کر لیا جاتا موصوف نے اپنی کُرسی بچانے کے ایک تقاضے کے طورپر یہی فرمانا تھا ”قائداعظم نے پاکستان بنا کر یقیناً بہت بڑا احسان کیا مگر ہمارے خان صاحب نے پاکستان بچا کر اُن سے بھی بڑا احسان پاکستان پر کردیا، .... یہ الگ بات ہے ہمیں سمجھ نہیں آرہی خان صاحب پاکستان کو بچا رہے ہیں یا پاکستان کو بجارہے ہیں ؟؟؟۔ ابھی اگلے روز 25دسمبر کو اُن کا ایک بیان میں پڑھ رہا تھا ”نوجوان قائداعظم ؒ کو رول ماڈل بناکر اسلامی فلاحی ریاست کا عزم کریں “ ....ہمارے محترم وزیراعظم اب چونکہ خود نوجوان نہیں رہے لہٰذا وہ خود قائداعظم کو رول ماڈل بناکر پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا عزم نہیں کرسکتے۔ البتہ باتیں کرسکتے ہیں، کیونکہ باتیں کرنے میں کچھ خرچ نہیں ہوتا نہ کوئی حرج ہوتا ہے۔ یہ بھی دیکھنا پڑے گا ہمارے محترم وزیراعظم نے قائداعظم کو رول ماڈل بنانے کی بات دل سے کی بھی ہے یا نہیں؟ کیونکہ جس روز ہمارے نوجوانوں نے قائداعظمؒکو واقعی رول ماڈل بنا لیا تو وزیراعظم نے نوجوانوں کو اُلو بنانے کا جو سلسلہ گزشتہ دو تین برسوں سے دل وجان سے شروع کررکھا ہے اس سے وہ مکمل طورپر محروم ہو جائیں گے، ....بہرحال چودھری اعجاز احمد نے خوب محفل سجائی۔ شرکائے محفل کو کھانا بھی کھلایا، قائداعظم ؒکے ساتھ محبت کا حق تو ظاہر ہے کسی صورت میں ادا نہیں ہوسکتا مگر ایسی تقریبات کا اہتمام اس ماحول میں یقیناً اہم کارنامہ ہے جہاں اپنے ” ہیروز“ اور اُن کی خدمات کو دن بدن ہم فراموش کرتے جارہے ہیں۔ !!


ای پیپر